ایک جولاہا اور بھینس کے سینگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک گاؤں میں ایک جولاہا رہتا تھا۔ روزانہ صبح سویرے اٹھتا اور گھر سے باہر بنی کھڈی پر کپڑے بنتا۔ اسے اپنے فن پر مکمل عبور حاصل تھا۔ اس کے بنائے کپڑوں کی دھوم آس پاس کے کئی گاؤں تک پھیلی ہوئی تھی۔ ”کھدر“ بھی بنتا تو ”مخمل“ کا گماں ہوتا۔ اس کا بنایا کپڑا ”ریشم“ کی مانند ہاتھ سے پھسل پھسل جاتا۔ جو ایک بار اس کے ہاتھ کا بنا کپڑا پہن لیتا، دوبارہ کسی اور سے کپڑا بنوانے کو راضی نہ ہوتا۔

جولاہے کی ”کھڈی“ کے سامنے ہرے بھرے کھیت تھے، جہاں گاؤں والوں کے جانور سارا دن چرتے رہتے۔ ان جانوروں میں ایک بہت ہی خوبصورت، موٹی موٹی آنکھوں والی، گول گول سینگوں والی بھینس بھی تھی۔ ممکن ہے بہت سارے قارئین نے بھینس کو قریب سے نہ دیکھا ہو ان کی آسانی کے لئے اتنا بتا دیں کہ بالکل ویسی ہی بھینس تھی جیسی ہمارے وزیر اعظم ہاؤس میں پائی جاتی تھیں۔ جنہیں بیچ کر ”کفایت شعاری“ کی عظیم مثال قائم کی گئی۔

یوں تو جولاہا بڑا ہی بھلا مانس آدمی تھا، سارا دن سر جھکائے اپنے کام میں مصروف رہتا۔ بس ایک خرابی تھی اس میں کہ ایک بار جو خیال اس کے من میں سما گیا تو اس کو نکالنا محال ہو جاتا۔ ہاتھ کپڑا بنتے جاتے اور دماغ اسی ”خیال“ کے تانے بانے میں الجھا رہتا۔ دن گزرتا، شام ڈھلتی، رات بیت جاتی مگر دماغ کی ”سوئی“ ہنوز وہیں اٹکی رہتی۔

ایک دن کپڑا بنتے یونہی بے خیالی میں اس کی نظر بھینس کے ”سینگوں“ پہ پڑ گئی۔ اتنے گول سینگ ہیں کیا ان میں سے میرا ”سر“ گزر جائے گا؟ بس خیال کا آنا تھا اور وہی بے چینی شروع۔ اب ہاتھ کپڑا بنتے اور دماغ اسی خیال میں الجھا رہتا۔ دن پہ دن گزرتے رہے اور بے چینی بڑھتی رہی۔

آخر کار ایک دوپہر جب بھینس آنکھیں موندے جگالی میں مصروف تھی، جولاہے نے سب کام دھام چھوڑا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ آج تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو کر رہے گا۔ دبے پاؤں چلتے ہوئے وہ بھینس کے قریب گیا اور اپنا سر اس کے سینگ میں گھسا دیا۔ ادھر سر سینگ کے پار نکلا اور ادھر بھینس کی جگالی میں ”خلل“ پڑا۔ وہ اٹھی اور رسی تڑا کے بھاگی، جدھر سینگ سمائے دوڑتی پھری۔ جولاہے کو وہ پٹخے دیے کہ اس کی جان پہ بن آئی۔

گاؤں کے لوگوں نے جو بھینس کے سینگ میں جولاہے کو پھنسا دیکھا تو دوڑ کر بھینس کو قابو کیا۔

اب مسئلہ یہ آن پڑا کہ جولاہے کی گردن کو سینگ سے کیسے نکالا جائے؟ سب سیانے اپنی اپنی آراء دینے لگے۔ کچھ نے کہا کہ بھینس کی ”گردن“ کاٹ دو پھر آرام سے جولاہے کا سر نکال لینا۔ کچھ کا خیال تھا کہ سینگ سے سر کا نکلنا مشکل ہے، جولاہے کی گردن کاٹنی پڑے گی۔ اتنا سننا تھا کہ جولاہا جو پہلے ہی ”ادھ موا“ ہو رہا تھا، بے ہوش ہو گیا۔

آخر بڑے ”جتنوں“ سے بھینس کے سینگ کاٹ کر جولاہے کے سر کو آزاد کرایا گیا۔ اسے ہوش میں لانے کی تدبیریں کی گئیں تو اس نے آنکھیں کھولیں۔ یار لوگوں نے پوچھا کہ اسے کیا سوجھی جو اپنا ”سر“ بھینس کے سینگوں میں ”پھنسا“ لیا؟ تب اس نے سارا ماجرا کہہ سنایا کہ کیسے سارا دن اسی سوچ میں گزر جاتا تھاکہ میرا سر سینگ کے پار جا سکتا ہے یا نہیں۔ اب ”ذلیل“ تو بے شک ہوا ہوں لیکن روز کی ”کل کل“ سے جان چھوٹ گئی ہے۔

اب اس ساری رام کہانی کو پڑھ کے آپ کے خیال میں جوبھی آتا ہے، خیال کیجئے کیونکہ آپ بھی اپنے خیالات میں آزاد ہیں۔

اخلاقی نتیجہ۔ اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اپنے ”فن“ میں جتنے مرضی طاق ہوں، ہر فن مولا نہیں ہو سکتے۔ اس لئے ہر ”سینگ“ میں اپنا سر پھنسانے سے گریز کریں۔ ضروری نہیں کہ آپ جولاہے جتنے ”خوش قسمت“ ہوں۔ ہر بار سینگ نہیں کٹتے کبھی کبھی ”سر“ نکالنے کے لئے گردن کٹنے کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •