میرا اور تمھارا خدا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک صاحب جو خدا اور مذہب سے خاصے بیزار ہیں مجھ سے بولے کہ انسان اپنے ہونے کا، اپنے آس پاس ہر شے کے ہونے کا سبب اس کے پیچھے چھپی ہوئی کسی ان دیکھی یا ماورائے عقل تحریک میں کیوں ڈھونڈتا ہے؟ سائنس، منطق، لاجک، ذہانت، ارتقائی عمل اور مشاہدے پر اکتفا کر کے ہی کوئی کھوج کیوں نہیں نکالتا؟ یہ خدا پرستی کیوں نہیں جاتی لوگوں میں سے؟

میں نے کہا معنویت کے حصول میں آزاد انسان پر پابندی کیوں، آپ بھلے فری تھنکر بنیں لیکن یہ فکری زور زبردستی کیسی۔ جو جیسے کر رہا ہے کرنے دیں۔ ڈھونڈنے دیں جو جیسے ڈھونڈ رہا ہے۔

وہ صاحب کہنے لگے کہ یہ سب گھڑی گھڑائی گیم لگتی ہے حکمرانوں اور راجدھانیوں کی تاکہ انسان کو مذہبی گروہوں میں بانٹ کر ان میں تفرقہ ڈالا جائے اور ان پر نسل در نسل حکومت کی جا سکے۔ بولے کہ ان قِصوں کے ذریعے متلاشی انسان کو معنویت دیتے خدا کے نام پر قابو کر کے ریاست کی اطاعت درکار ہوتی ہے۔

کہنے لگے کہ کوئی ایشور اور اس کا مظہر بنے رنگ برنگے بھگوان بنا رہا ہے، کوئی خدا کو عرش پر بٹھا کر اور اس کے لاکھوں برگزیدہ بندے اور فرشتے گِنوا رہا ہے۔ کوئی مریم کا خداوند سے رشتہِ ازدواج جوڑ کر عیسیٰ کو پیدا کرا رہا اور پھر مریم اور خداوند کے بیٹے کو ٹٹکی پر ٹانگ کر اپنے کسی اوریجنل سِن کے بھگتان میں عیسٰی کو مار کر مکت ہو رہا ہے۔

وہ صاحب بولے کہ جنت، جہنم، اگلا جنم، اوریجنل سِن، ایشور اور اس کی کی قربانی، جہنم سے نجات، آخرت، قبر و حساب، حور و شراب اور اگنی پرکشا سب کہ سب سراب ہیں۔ مینوپولیشن ٹولز ہیں جِن کے چُنگل سے انسان کو نکلنا ہو گا۔

میں نے کہا کہ چلیں حضرت آپ یہ تو مانتے ہیں کہ انسان معنویت ڈھونڈتا ہے۔ اور یہ بھی کہ اپنی کھوج کو جب کوئی معنی نہیں پہنا پاتا تو وقت کے رائج خداؤں اور ان کی خدائی میں خود کو کہیں ناں کہیں فٹ کر لیتا ہے۔ اگر آپ کی بات سے اختلاف نہ بھی کروں تو بھی اہم چیز تو انسان کی کھوج ہی ہوئی۔ انسان کی معنویت کی تلاش ہوئی۔

ابراہیمی مذہب ہوں یا گیتا اور اشلوک ہو سکتا ہے کہ یہ سب انسان کے کروڑوں لاکھوں سال کے ارتقائی سفر میں چند ہزار سال کے مختصر سے سنگِ میل ہیں۔

میں نے ان سے کہ کیا پتا کہ سب قصوں، کتابوں، سائنسوں، فزکس، کوانٹم فزکس، ریاضی، منطق، تجزیوں، نِت نئی تھیوریز اور دریافتوں کے سفر کہ کسی سنگِ میل پر انسان کے ہاتھ کوئی ایسی معنویت آ ہی جائے کہ انسان باجماعت اس سے مکمل مطمعئن ہو جائے اور پچھلے سب باب بھلا کر اس مسلم معنویت پر اکٹھا ہو جائے۔

میں نے کہا کہ ویسے اور بھی زیادہ مزہ تب آئے جب وہ سنگِ میل بھی انسان کو کسی خدا سے ہی ملا دے۔ ایسے خدا سے جسے انسان بنا کسی تردد، خوف اور غرض کے بے ساختہ ہو کر پوجنے لگے۔ ایسا خدا جو انسانوں سے کوئی بھگتان نا مانگے، ان میں کوئی تفریق نہ کرے۔ انسان کو درکار ہر معنویت کو مکمل کر کے اس کی ہر تشنگی کو سیراب کر دے۔ ایسا خدا جس سے انسان کو فوراً ہی بہت سا پیار ہو جائے۔

وہ خدا بیزار صاحب بھی عجیب توہم پرست نکلے۔
بولے ہاں وہی تو میرا اور تمھارا خدا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •