قصور کے بچوں کا قاتل کون ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ضلع قصور کے علاقے چونیاں میں دوبارہ تین بچوں کی لاشیں ملی ہیں جنہیں جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے قصور کی زینب کے کیس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس وقت بھی پتہ چلا تھا کہ زینب سے پہلے بھی آٹھ دس بچیاں اسی طرح قتل کی گئی تھیں لیکن پولیس نے دلچسپی نہیں لی تو زینب کی باری آ گئی۔ اس سے قبل قصور میں بچوں کی جنسی ویڈیو بنانے کا سکینڈل آیا تھا۔ دوسرے علاقوں سے بھی ایسی اکا دکا خبریں آتی رہتی ہیں لیکن ضلع قصور ہی ایسا بچہ کش کیوں ہے؟ کیا قصور کی پولیس نا اہل ہے؟ لیکن کتنے قابل افسر ادھر تعینات رہے ہیں اور پھر بھی یہی ہوتا رہا ہے۔

قصور پر لکھنے کا کیا فائدہ؟ جب لکھیں تو کہا جاتا ہے کہ صورت حال کو بہتر کرنے کے لئے تجاویز دیں۔ جو مشورے ہم نے دینے ہیں اس سے کہیں زیادہ ہمارے پولیس افسران جانتے ہیں جو دنیا کی ٹاپ کی یونیورسٹیوں سے کرمنالوجی پڑھ چکے ہیں۔

مسئلہ پولیس کا نہیں ہے۔ مسئلہ حکمرانوں کا ہے۔ ان کے مفادات ان بچوں کے قاتل ہیں۔ اور ایسا نہیں ہے کہ یہ صرف موجودہ حکمرانوں کے مفادات ہیں۔ خاص طور پر 1980 سے آج تک جو بھی ظاہری اور باطنی حکمران رہا ہے وہ قصور وار ہے۔

کوئی ممبر اسمبلی یا صاحب اختیار فرمائش لے کر پہنچتا ہے کہ فلاں افسر کا تبادلہ یا تعیناتی کر دی جائے تو اس کے ماتھے کی شکن دیکھ کر حکمران کو اپنا تخت لرزتا ہوا محسوس ہوتا ہے، وہ تبادلہ کر دیتا ہے۔ سرکاری افسر کسی پوسٹ پر تین سال کے لئے تعینات کیا جاتا ہے۔ لیکن ابھی پچھلے دنوں ایک ایسے افسر کا ذکر سنا جو ایک سال میں چھے تبادلے بھگت چکا ہے۔ اب مجبوری میں افسران سر نیچا کر کے بیٹھے ہیں اور جائز ناجائز مطالبات مانتے ہیں۔ پھر کیسا انصاف اور کہاں کا تحفظ؟

ایسا نہیں ہے کہ یہ مجبوری صرف عمران خان یا عثمان بزدار کو لاحق ہے۔ یہ مجبوری ہر حکمران کی ہے جو اپنی حکومت کی طاقت عوام کے ووٹ کی بجائے ممبران اسمبلی کی خرید و فروخت کا محتاج ہوتا ہے۔ یہی مجبوری شہباز شریف کی بھی تھی اور چوہدری پرویز الہی کی بھی اور ان سے پہلے کے لوگوں کی بھی۔ آپ کو وزیراعلی پنجاب سردار عارف نکئی تو یاد ہوں گے جو ایک ممبر اسمبلی کے قرابت دار کو بنفس نفیس حوالات سے نکال لے گئے تھے اور تھانیدار منہ تکتا رہ گیا تھا۔ اتفاق سے ان کا تعلق بھی ضلع قصور سے ہی تھا۔

کوئی واقعہ زیادہ ہائی لائٹ ہو جائے تو عوام کو مطمئن کرنے کے لئے کچھ دکھاوا کر دیا جاتا ہے۔ چند افسر معطل چند کے تبادلے۔ اور کیا ہوتا ہے؟ ساہیوال کا واقعہ یاد کریں۔ 21 جنوری 2019 کو وزییراعظم عمران خان نے شدید عوامی غم و غصہ دیکھتے ہوئے ٹویٹ داغی تھی

”ساہیوال واقعے پر عوام میں پایا جانے والا غم و غصہ بالکل جائز اور قابلِ فہم ہے۔ میں قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ قطر سے واپسی پر نہ صرف یہ کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو عبرت ناک سزا دی جائے گی بلکہ میں پنجاب پولیس کے پورے ڈھانچے کا جائزہ لوں گا اور اس کی اصلاح کا آغاز کروں گا۔ “

کیا ساہیوال کے بچوں کو انصاف ملا؟ کیا پنجاب پولیس کے پورے کیا آدھے ڈھانچے کا بھی جائزہ لیا گیا؟ کیا سوچا گیا کہ اسے کس چیز نے بے اختیار اور بے لگام کر رکھا ہے؟ ایک صحافی نے پوری تحقیق کر کے لکھا ہے کہ پچھلے آٹھ ماہ میں پولیس کے زیر حراست سولہ ملزمان ہلاک ہوئے ہیں۔ صلاح الدین کا واقعہ بہت ہائی لائٹ ہوا مگر مستقبل میں ایسے واقعات کا تدارک کرنے کی بجائے تھانوں میں موبائل فون لے جانے پر پابندی لگا دی جائے۔ یعنی واقعات ہوتے رہیں مگر رپورٹ نہ ہوں۔

اب قصور کا موجودہ واقعہ دوبارہ ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بنا ہے تو وزیراعظم عمران خان نے پھر ٹویٹس داغ دی ہیں۔ فرماتے ہیں،

”قصور واقعے پر سب کا محاسبہ ہوگا۔ جنہوں نے عوام کے مفادات کے تحفظ کے لئے کام نہیں کیا ان سے باز پرس کی جائے گی۔ پنجاب پولیس اور صوبائی حکومت کی جانب سے اب تک درج ذیل اقدامات اٹھائے جاچکے ہیں ؛

1۔ ڈی پی او قصور کو ہٹایا جارہا ہے۔
2۔ ایس پی انوسٹیگیشن قصور خود کو قانون کے حوالے کرچکے ہیں اور چارج شیٹ کے بعد ان کے خلاف کارروائی جاری ہے۔
3۔ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو معطل کیا جاچکا ہے۔
4۔ قصور پولیس کی از سرِنو صف بندی کی جارہی ہے۔
5۔ ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں تحقیقات کے لئے احکامات دیے جاچکے ہیں۔“

یعنی وہی بے فائدہ تبادلے اور کمیشن۔ اگر حکومت وقتی طور پر عوام کو چوسنی دینے کی بجائے مسئلے کے مستقل حل کے لئے سنجیدہ ہوتی، تو وہ ترقی یافتہ ممالک کے طریقہ کار کی پیروی نہیں کر سکتی تھی؟ مغربی ممالک میں بچوں سے جرائم کرنے والے کا سیکس آفینڈر رجسٹر ہوتا ہے۔ عموماً وہ بچوں والے گھر میں نہیں رہ سکتا، سکول کے نزدیک نہیں جا سکتا، جہاں جاب کرتا ہے ادھر اپنا سٹیٹس بتاتا ہے، شہر سے جانے اور آنے کے بارے میں پولیس کو مطلع کرتا ہے، بسا اوقات اس کے جسم سے ٹریکنگ ڈیوائس بھی لگائی جاتی ہے جو ہر وقت اس کی نقل و حرکت کے بارے میں پولیس کو بتاتی ہے۔

یقیناً یہ سب چیزیں ہمارے پولیس افسران کو بھی معلوم ہیں جو ان ترقی یافتہ ممالک کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں سے کرمنالوجی کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ لیکن یہ وہ تعلیم ہے جو حاصل کرنے کے بعد بکسے میں بند کر دی جاتی ہے، کسی کام میں نہیں لائی جاتی۔ کیونکہ یہ پالیسی بنانا اور نافذ کرنا حکومت کا کام ہے، اور جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں، حکومت کے مفادات اسے مجبور کر کے رکھتے ہیں۔

ورنہ یہ ڈیوائس اور رجسٹر تو ہم ابھی بھی استعمال کر رہے ہیں۔ کیا فورتھ شیڈول اس سے مختلف ہے؟ دہشت گردی کے لئے فورتھ شیڈول بنا دیا ہے تو بچوں کے تحفظ کے لئے بھی ایک شیڈول بنانے میں مفادات کے علاوہ کیا دقت ہے؟

کچھ نہیں ہونا۔ یہی چلتا رہے گا۔ اپنے بچے خود بچائیں۔ اور یاد رکھیں کہ عبایہ پہنانے سے بچے نہیں بچتے۔ شاہزیب خانزادہ نے گزشتہ دنوں اپنے پروگرام میں بتایا تھا کہ عبایہ والے مدارس میں لڑکیوں کے ساتھ جرائم کی شرح سکولوں میں جرائم سے زیادہ رپورٹ کی گئی ہے۔ اور لڑکوں کا کیا کریں گے؟ ان کے خلاف جنسی جرائم کی شرح لڑکیوں سے زیادہ ہے۔ بس ایک حل ہے، حکمرانوں کے لئے عوامی ووٹ کو ممبر اسمبلی کے ووٹ سے زیادہ طاقتور بنایا جائے اور ایک مجرم کو پھانسی چڑھانے کی بجائے مستقل پالیسی بنانے کا مطالبہ کیا جائے، ورنہ زندہ بھاگ لے یہاں سے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1211 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar