عمران خان کی ناکامی کی اصل وجوہات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھائی وجاہت مسعود کا کالم تھا کہ “عمران خان کیوں ناکام ہو رہے ہیں”۔ جس طرح لوگوں کو جناب وزیراعظم عمران خان کی حکومت کی سمجھ نہیں آتی ،ہمیں استاد محترم کی ثقیل اردو اور مرصع و مسجع و مقفیٰ کالم کی سمجھ نہیں آتی۔

ہمارے نزدیک تو بات بہت سادہ سی ہے کہ کوئی عمل کوئی وظیفہ الٹا پڑ گیا ہے کہ خان صاحب جو بھی بات منہ سے نکالتے ہیں اس کے مخالف ظہور پذیر ہو جاتا ہے۔ کسی سیانے کی طرف بات منسوب ہے کہ جب آپ کسی چیز کاارادہ کر لیتے ہیں تو کائنات کی ساری طاقتیں اس کی تکمیل کے لئے آپ کی مددگار ہوجاتی ہیں۔ یہاں معاملہ الٹ ہے۔ میرے محبوب وزیراعظم جس بات کا بھی ارادہ کرلیں ساری طاقتیں مل کر اسے ناکام کرنے کے درپے ہو جاتی ہیں۔ کوئی نہ کوئی نحوست ہے کہ نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں ۔

خود ملاحظہ کر لیجئے:

لاہور پنڈی میٹرو کی کرپشن پہ بات کی تو پشاور میٹرو گلے پڑ گئی۔ جو پیرتسمہ پا کی طرح پی ٹی آئی کو جکڑے ہوئے ہے۔ نہ جانے حکومت کی تبدیلی کے بعد کیسی کیسی کہانیاں برآمد ہوں۔ ویسے کہا جارہا ہے کہ پشاور میٹرو کی لاگت سے کم میں انڈیا نے چندریان 2 چاند کی سطح پر اتارا نہیں تو پھینک ضرور دیا ہے۔

کرپٹ اور موقع پرست سیاستدانوں کی بات کی ان میں سے آدھے پی ٹی آئی حکومت میں وزیر بن گئے۔ اور روز دن رات ہمیں اپنے سابق آقاوں کی کرپشن کے واقعات سنا رہے ہوتے ہیں۔ اب دیکھیں یہی لوگ کسی اور کی وزارت عظمی پر پی ٹی آئی کی کرپشن اور نااہلی کے قصے ہمیں کب رٹانا شروع کرتے ہیں۔

خان صاحب نے وزیراعظم ہاوس کی کاریں فروخت کیں ملک میں کارانڈسٹری کا براحال ہوگیا۔ ٹیوٹا، سوزوکی اور ہونڈا جیسے برانڈ گاہکوں کے انتظار میں مکھیاں مار رہے ہیں۔ یاد رہے ان کی کاریں چھ ماہ سال پہلے بک جایا کرتی تھیں۔

وزیراعظم ہاوس کو یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا، یونیورسٹیوں کے لئےف نڈز کی قلت ہوگئی۔ ہائر ایجوکیشن کمشن کواعلان کرنا پڑا کہ یونیورسٹیاں روٹی پانی کا بندوبست خود کریں۔

خان صاحب نے کہا ہمیں ٹیم ہی تو بنانی آتی ہے پہلے چھ ماہ میں سینٹر فارورڈ یعنی وزیر خزانہ ہی غلط نکل آیا اور بدلنا پڑگیا۔ اور تادم تحریر شہباز گل اس مسلسل اکھاڑ پچھاڑ کے شکار ہوئے ہیں۔

پچاس لاکھ گھر بنانے کا اعلان کیا پورے ملک کی رئیل اسٹیٹ انڈسٹری بیٹھ گئی۔ ملک ریاض کا بحریہ تو ایک طرف سارے ملک میں کوئی پلاٹ کے سرہانے بیٹھا رو رہا ہے کوئی فائلوں کا سرہانا بنائے۔

بیرون ملک پاکستانیوں سے ڈالرز منگوانے کی توقع رکھی ان کی حب الوطنی بھی ٹھنڈی پڑ گئی۔ ان میں اکثر وہی تھے جنہوں نے کہا تھا چڑھ جا بیٹا سولی رام بھلی کرے گا۔ ایک ڈاکٹر صاحب نے تو امریکہ کے لاکھوں ڈالر کی کمائی کو لات مارنے کی ٹھان لی تھی لیکن وہ بھی ماموں کے بیٹے کامران ہی ثابت ہوئے۔

پولیس ریفارم کی بات کی کم بخت پولیس والے فارم میں آگئے۔ ہر ہفتے دو کیس معہ ویڈیو چھترول کرتی پولیس کے سامنے آنے لگ گئے۔ اور تو اور تھانوں میں کیمرے لے جانے پر پابندی لگائی تو پلوں اور سڑکوں پر پولیس کی ویڈیوز بننے لگ گئیں۔

ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کی بات کی اور ہم سادہ دل مان لئے کہ مودی کی خواہش پر ہی یہ بات کی گئی ہے۔ واشنگٹن سے اسلام آباد آتے آتےمودی جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت بھی ہڑپ گیا۔

جرنیلوں کو توسیع نہ دینے کے تو ہم شروع سے ہی خلاف تھے اور ٹی وی ٹاک شوز میں کھل کربات کرتے بھی رہے۔ لیکن حالات کا جبر دیکھئےجنرل باجوہ نہ چاہتے ہوئے بھی جانے کیسےتوسیع لے اڑے۔ یہ وہ توسیع ہے جو شاید خان صاحب کے اپوزیشنی احتجاج کی وجہ سےباجوہ صاحب کے “جانے کی باتیں جانے دو” فیم پیش رو کونہیں مل سکی تھی۔

ہم نےعربوں کو ازخود گاڑی پر جھولے دیئے، انہیں اپنا سفیر بنایا۔ لیکن ان عاقبت نااندیشوں کو مزا انڈیا کے ساتھ پینگیں چڑھانے سے آیا۔ ہم امہ ہی امہ کرتے رہ گئے مودی اعلی سطحی ایوارڈز لے اڑا۔

صفائی ستھرائی کی بات کی کراچی میں پتہ نہیں کیسے مکھیوں کی فوج ظفر موج پیدا ہوگئی اور باقی ملک کو ڈینگی نے آن لیا۔

غربت کے خاتمے کی بات کی تو ڈالر کو پر لگ گئے، اب آرمکو پر ڈرون حملے کے بعد تیل کی قیمت مزید بڑھنے جا رہی ہے اور تیل مہنگا ہو تو نائی بھی قیمت بڑھا دیتا ہے کہ “جی تیل کی قیمت بڑھ گئی ہے”۔

کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں۔ قصہ بہت طویل ہےاور کالم ہم سب کے مدیر کے بقول مختصراچھا لگتا ہے کہ قاری کی جان جلد چھوٹ جاتی ہے۔ اب دیکھیں مولانا دارالحکومت پر چڑھائی کے موڈ میں ہیں وہ قصہ مختصر کر پاتے ہیں یا ابھی “ان دیکھی طاقتوں” کو خان صاحب پر ابھی اعتماد ہے۔ (ان دیکھی طاقتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آتش تاثیر صاحب نے وضاحت کی ہے کہ خاتون اول کے قبضے میں جن ہیں)۔ ظالمو بندہ بدلو نہ بدلو، سفلی عمل ہی بدل لو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •