چارسدہ کا حجرہ اور ریڈیو کی خبریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خبر کے بنیادی عناصر میں سے ایک اہم ترین عنصر اعتماد ہے۔ قارئین کا اعتماد حاصل کرلینا نہایت ہی مشکل ہے۔ اگر کسی خبر رساں ادارے پر ایک بار اعتماد قائم ہوجائے تو اس کے بعد اس کی چھوٹی اور معمولی غلطیوں کو بھی درگزر کیا جاتا ہے جب تک کہ اس میں تسلسل اور تکرار نہ ہو۔ ابلاغ عامہ کے کسی بھی ذرائع پر قائم شدہ اعتماد اتنی آسانی سے نہیں ٹوٹتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے ذرائع اپنی اولین تشکیل اور تقسیم کے مقام پر ہی کھڑے ہیں۔ جن ذرائع پر سنجیدگی کی مہر لگ گئی وہ آج بھی سنجیدہ اور جن ذرائع پر غیر سنجیدگی یا مبہم کا ٹھپہ لگ گیا وہ برقرار ہے۔

ریڈیو بنیادی طور پر گزشتہ صدی کا آلہ ابلاغ ہے۔ گزشتہ صدی کے وسط تک ریڈیو نے ابلاغ عامہ کی دنیا میں بلاشرکت غیرے اپنی حکمرانی قائم کی۔ بالخصوص خبررسانی کا فریضہ ریڈیو نے بڑے جاندار طریقے سے سرانجام دیا۔ آج سے چند برس قبل تک بھی گرد و پیش اور بین الاقوامی معاملات سے باخبر رہنے کے لئے ریڈیو کا استعمال کیا جاتا تھا۔ ریڈیو سے نشر ہونے والی خبروں میں لوگوں کی اتنی دلچسپی ہوتی تھی کہ وہ حرف بحرف یاد کرلیتے تھے۔

ریڈیو کے حوالے گزشتہ ماہ معروف کالم نگار فرنود عالم صاحب اور انتہائی محترم کالم نگار بڑے بھائی علی احمد جان نے ایک دلچسپ سلسلے کا آغاز کیا۔ فرنود عالم نے اپنی والدہ محترمہ کے ان تجربات کو قارئین تک پہنچایا جو انہوں نے ریڈیو کے ذریعے حاصل اور قائم کیا تھا۔ جبکہ علی احمد جان نے ریڈیو پاکستان اور اپنے والد کے بدلتے وقت کے تقاضوں کے ساتھ رشتے کو خوب بیان کیا۔

گزشتہ دنوں خیبرپختونخواہ کے تاریخی علاقے چارسدہ کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ چارسدہ بنیادی طور پر خیبرپختونخواہ کے کئی اضلاع کے درمیان واقع سیاسی شعور سے لبریز علاقہ ہے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان سے اپنی راہیں جدا کرکے نئی سیاسی جدوجہد شروع کی تو اس کا ایک اہم ہدف پشاور تھا۔ پشاور روانگی کے دوران ذوالفقار علی بھٹو جب چارسدہ پہنچ گئے تو سرکردگان علاقہ نے بھٹو صاحب کی گاڑی بند کی اور فرط جذبات و عقیدت میں کئی میل تک خود دھکا لگا کر اسے چلایا۔

چارسدہ قوم پرستی کے حوالے سے بھی انتہائی مشہور اور زرخیز ہے۔ باچا خان اور اس کی پوری تحریک کا مرکز گزشتہ ایک صدی سے چارسدہ ہی رہا ہے۔ رواں ماہ کے پہلے عشرے میں خیبرپختونخواہ بارش کے انتظار میں تھا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخواہ میں معمول سے کم بارشیں ہوئیں ہیں۔ دن بھر باہر نکلنے کی گنجائش نہیں تھی، سورج کی تپش اور گرمی سے بیماریاں بھی جنم لے رہی تھیں۔ عصر کے بعد اپنے کزن توصیف شاہد کے ساتھ چارسدہ کے علاقے عمرزئی کی طرف چل پڑا، جہاں پر ان کے پھوپھی زاد بھائیوں کا حجرہ تھا۔ حجرہ خیبرپختونخواہ کی ثقافت کا اہم ترین حصہ ہے جہاں پر مہمانوں کی مہمان نوازی بھی کی جاتی ہے اور سیاسی و سماجی گفتگو کا مرکز بھی ہوتا ہے، حجرے کے اہم اجزاءمیں سے ایک جز رباب بھی ہے جس کی کہانی پھر کبھی۔

سورج کے ڈھلتے ہی گرمی کی تپش میں کمی ہوئی مگر حبس اپنی جگہ برقرار ہے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ حبس بھی کم ہوتا گیا اور گرمی کی تپش میں بھی کمی واقع ہوئی۔ ضیافت سے فراغت پر حسب عادت موبائل سے روبرو ہوئے۔ چارسدہ کا ٹوجی نیٹ ورک گلگت کے فورجی سے تیز نہیں تو سست بھی نہیں ہے۔ اوکاڑہ کے دوست آصف شاہین نے وٹس ایپ گروپ میں کافی مواد بھیجا ہوا تھا، جن میں معلوماتی موادکے علاوہ ٹی وی چینلوں کے خبروں کے بلیٹن بھی شامل تھے۔

بہتر نیٹ ورک سے استفادہ کرتے ہوئے قومی چینلز کے ذریعے خبروں سے باخبر ہوئے۔ اسی مواد میں وائس آف امریکا کے خبروں کی وہ ویڈیو بھی موجود تھی جسے روزانہ کی بنیاد پر سوشل میڈیا میں اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ وائس آف امریکا کے کلپ پر کلک کرتے ہی بھاری بھرکم آواز کے ساتھ میزبان نمودار ہوئے اور خالد حمید کے نام سے اپنا تعارف کرایا۔ خالد حمید کے روایتی طرز پر بلیٹن اور سلام سنتے ہی باچا گل اور دو ساتھی میرے چارپائی پر آگئے، اور بتایا کہ ”ہم خبروں کے شوقین لوگ ہیں۔“

حالانکہ اس سے قبل دیگر چینلز کی خبریں بھی چل رہی تھیں۔ تینوں بڑے انہماک سے چارپائی پر بیٹھے اور ساری توجہ سماعت پر مرکوز کرلی۔ اسی اثناءمیں باچا گل کی نظر موبائل سکرین پر پڑی جہاں پر خالد حمید لائیو خبریں سنارہے تھے اورخود بھی نمودار تھے۔ تو باچا گل بے ساختہ بول پڑے کہ ”واللہ آج اس کا دیدار بھی ہوگیا۔“ چارپائی کا سماں پورے حجرے سے الگ تھا، وہی پرانا منظرجب لوگ بیچ میں ریڈیو رکھ کر اس کے گرد مجمع لگایا کرتے تھے۔ خوشی کی خبر پر ایک دوسرے کو تالی دیتے یا غمزدہ خبر پر یک دم نڈھال پڑجاتے۔

اس منظر نے مجھے اپنے مرحوم نانا کی یاد دلا دی۔ جب ان کے کمرے میں صرف ریڈیو گونجتا تھا اور کسی کو خبروں کے دوران کسی بھی قسم کا خلل ڈالنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ باچا گل نے اس وقت چارپائی کو زور سے پکڑلیا جب افغان طالبان اور امریکہ کے مذاکرات کی خبر شروع ہوگئی۔ انہوں نے اپنا بایاں کان موبائل کے سپیکر سے لگا دیا۔ خبر کے دوران کچھ الفاظ صحیح طرح سن نہ سکا اور اس کا چہرہ مغموم ہوگیا۔ میرے پاس چونکہ خبرنامہ ویڈیو میں تھا تو میں نے کچھ سیکنڈز ریوائنڈ کرنے کی کوشش کی۔ باچا گل نے دیگر خبروں کے ضائع ہونے کے ڈر سے منع کیا تاہم جب خبر دوبارہ سے شروع ہوئی تو اس کا چہرہ کھل اٹھا اور آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

حجرے کے اندرسے رباب کی آواز نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی لیکن میں باچا گل کے خبروں کے جنون کو توڑ نہیں سکتا تھا۔ میں نے اپنا موبائل وہیں پر رکھ دیا۔ باچا گل اس وقت میرا موبائل لے کر حجرے میں داخل ہوا جب خالد حمید کا خبرنامہ اختتام پذیر ہوا۔

وائس آف امریکہ کے ساتھ یہ دلچسپ ملاقات اب بھی زیر لب مسکرانے پر مجبور کردیتی ہے۔ مجھے تھوڑا سا دیگر چینلوں کی خبروں سے تقابلی جائزہ لینے کا بھی موقع ملا۔ خبروں میں سنسنی پھیلانے کی کوشش کرنے والوں کو شاید یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ میلوں دورلہروں میں ان کو سننے والے ایسی خبروں کو خبر بھی نہیں سمجھتے ہیں۔ باچا گل کی خبریں سننے کی حس اس وقت تک نہیں جاگی جب تک خالد حمید کی ”معتبر“ آواز نہیں سنی حالانکہ پہلے متعدد چینلوں کے بلیٹن چلائے تھے اور خبریں بھی کم و بیش ایک جیسی ہی تھیں لیکن وائس آف امریکہ اور خالد حمید کے خبریں پیش کرنے کے انداز نے مجمع سے لوگوں کو اپنی جانب راغب کرلیا جس میں کسی قسم کی سنسنی نہیں تھی۔

اسی بارے میں
اماں کا ریڈیو، الجھی ہوئی تاریخ اور رکا ہوا وقت
میرے والد کا ریڈیو اور بدلتا زمانہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •