بچے، تتلی، پھول” کے آئینے میں شہر لیاری”

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دنوں مجھے ایک اہم اور متاثر کن کتاب پڑھنے کا موقع ملا۔ یہ کتاب چھپی تو 1997 میں تھی مگر میرے ہاتھ حال ہی میں لگی۔ کتاب کا نام ہے “بچے، تتلی، پھول”۔ اور اس کے شاعر کا نام نور محمد دانش ہے کہ جو ادبی دنیا میں نون میم دانش کے نام سے مشہور ہیں۔

ایک سوشل ورکر ہونے کے ناتے مجھے اس کتاب کی نظموں کے تمام موضوعات نے متاثر کیا۔ لیکن ایک نظم لیاری نے اس حد تک چونکایا کہ میں قلم اٹھانے پہ مجبور ہو گئی۔ اس نظم کو پڑھتے ہوئے مجھے فیض احمد فیض کی نظم کتے کی یاد بھی آئی۔ جو انہوں نے بھوکے، مجبور اور مظلوم عوام کی عزت نفس کو جھنجھوڑنے کے لئے آزادی کے ابتدائی سالوں میں رقم کی تھی۔ دانش نے اس نظم کو اپنی بستی لیاری کے باسیوں سے مخاطب ہو کر انہیں حالات کی سرد مہری سے سو جانے والوں کو نیند سے بیدار کرنے کے لئے لکھا۔ اس طرح دونوں احتجاجی نظمیں سماجی، سیاسی اور معاشی حالات کے تناظر میں لکھی گئیں۔ کیا یہ بدقسمتی نہیں کہ آزادی کے اکہتر ( 71 ) سال بعد بھی ملک اسی قسم کے دگرگوں حالات اور کسمپرسی میں مبتلا ہے؟

نظم لیاری کی کڑواہٹ، فرسٹریشن اور غصہ سے جھاگ نکلتے الفاظ کسی بھی حساس روح رکھنے والوں کو ایسے ہی بھنبھوڑ کے رکھ سکتے ہیں کہ جیسے ایک پاگل کتا کسی بے وجہ پتھر مارنے والے پہ غیظ سے اپنے نوکیلے دانت گاڑ دے۔ اور خون رستے زخموں کے نشان چھوڑ دے۔ اس نظم کا تاثر بھی کچھ ایسا ہی گہرا ہے کہ جس کی ابتدا وہ کچھ اس طرح کرتے ہیں۔

ابھی سو رہے ہو
زمانہ تمہیں روند کر جا رہا ہے
زمانہ تمہیں روند کر جا چکاہے
مگر سو رہے ہو
میں کب سے کھڑا ہوں تیرے در کے آگے
میں چلا کر اب تھک چکا ہوں

(اس مکمل نظم کو پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجیئے۔ )

http://online۔ pubhtml 5۔ com/ffha/vdnm/#p= 1

شہر کراچی کے علاقہ لیاری میں پروان چڑھنے والے دانش کے لہجہ میں جھنجھلاہٹ اور غصہ سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ لیاری کے سماجی سیاسی اور معاشی مسائل اور تاریخی پس منظر پہ نگاہ ڈالی جائے۔

لیاری کراچی کا قدیم ترین اور گنجان علاقہ ہے۔ جسے کبھی مچھلیوں کا چھوٹا دیہات بھی کہا جاتا تھا۔ لیاری کے مشہور صحافی نادر شاہ عادل کے مطابق ایک طلسماتی شہر ہے کہ جس میں انواع و اقسام کی نسل سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ ان کے علم کے بموجب لیاری کا ماخذ لیار ہے، جس کا مطلب قبرستان کی خاموشی ہے۔ اس علاقہ کو کہ جو لیاری دریا کے اطراف بسنے والی آبادی پر مشتمل ہے، کراچی کی ماں کا درجہ حاصل ہے۔ واضح ہو کہ کراچی کا قدیم نام مائی کلاچی ہے۔

کلاچی جو ایک مچھیرن اور سات بیٹوں کی ماں تھی۔ لہذا اس جگہ کو پہلے پہل مائی کلاچی جو گوٹھ کہا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں کے باسیوں میں ایرانی اور پاکستانی بلوچستان کے بلوچوں، افریقہ اور ہندوستان کے لوگوں کی خون کی آمیزش ہے۔ اس طرح خود لیاری میں رنگ و نسل کی بنیاد پہ تخصیص کا نظام رائج ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سن بارہ سو سے انیس سو تک کے دورانیہ میں بحری راستوں سے مشرقی افریقہ سے آنے والے غلام، بحری سیاہ، ملازم تاجرین وغیرہ پہلے پہل بلوچستان میں واقع مکران کے ساحلوں اور سندھ کے نشیبی علاقوں میں بسے۔ ان کی زبان سندھی بلوچی اور مکرانی ہے۔

شیدی افریقی غلاموں کی نسل کہلاتی جاتی ہے کہ جن کی رنگت سیاہی مائل ہے۔ تو ایران سے آنے والے بلوچوں کی ہلکی رنگت کہ جن کی زبان فارسی رہی تھی۔ 1947 کے بعد سے بالخصوص گذشتہ تین دھائیوں سے یہاں پٹھانوں، سندھیوں، مہاجروں اور افغانیوں کے علاوہ برمی اور بنگالی بھی بس رہے ہیں۔ اتنی ثقافتوں کے ملاپ نے یہاں کے علاقہ کو مخصوص اور دلکش دھنک رنگی عطا کی ہے۔ مختلف قسم کی نسلوں کے ایک ساتھ رہنے کی وجہ سے یہاں کی ثقافت کو جداگانہ اور مخصوص حیثیت حاصل ہے کہ جس میں افریقی رسوم بالخصوص روایتی ناچ گانوں کا رنگ نمایاں ہے۔ یہ ملک کا وہ حصہ ہے کہ جہاں سے فٹ بالرز اور باکسروں نے بین الاقوامی سطح پہ ملک کا نام روشن کیا۔

تاہم تاریخی اعتبار سے جو بات سب سے اہم ہے وہ یہ کہ لیاری کے باسیوں نے کراچی کی بندرگاہوں کے راستے صنعت و حرفت کی ترقی و ترویج اور معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا۔ یہاں سب سے پہلے بسنے والے بلوچ تھے۔ اور اٹھارویں صدی تک شہر کراچی میں محض بلوچی آباد تھے۔ لیاری کی کوکھ سے کراچی کی ترقی کے کئی منصوبوں کی تخلیق اور نشونما ہوئی۔ یہیں مکران اور کچھ سے آنے والے بلوچوں نے ریلوے لائنیں بچھائیں، بندرگاہیں تعمیر کیں۔ مچھلیوں کی برآمد اور بصرہ کی کھجوروں کی درآمد کا سلسلہ شروع کیا۔

لیاری کا علاقہ جس میں دس لاکھ سے زیادہ لوگ آباد ہیں، لی مارکیٹ سے گارڈن ایسٹ کے علاقہ پہ پھیلا ہوا ہے۔ اور اکثر چھوٹا افریقہ بھی کہلاتا ہے۔

یہیں پیر منگھو شاہ کے مزار کا عرس ہوتا ہے اور یہاں کے تالابوں میں متبرک مگرمچھوں کی افزائش بھی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ لیاری کے یہ باسی ملکی سیاست کے شاطروں کے ہاتھوں شطرنج کے مہروں کی طرح استعمال ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ترقی پسندانہ منشور کا روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے نے اپنا یہاں ووٹ بینک قائم کیا۔ لیاری کا ککری گراؤنڈ وہ جگہ ہے کہ جہاں سیاسی دنگل لڑے جاتے رہے، جہاں ایوب خان کے مارشل لاء کے خلاف اتحاد اور جمہوریت کی تحریک کو جِلا اور بائیں بازو کی سیاست کو فروغ ملا۔

لیاری ہی وہ علاقہ ہے کہ جہاں مشہور شاعر فیض احمد فیض نے 1972۔ 73 کے دوران عبداللہ ہارون کالج میں پرنسپل شپ کی ذمہ داری سنبھالی اور ان کی موجودگی ادبی فضا کو استوار کرنے میں کامیاب ہوئی۔ پھر 1948 میں قائد اعظم کے انتقال پر لیاری کے نور محمد بلوچ نے ان کے جنازے کی تیاری کے انتظامات کیے تو بعد کے سالوں میں بینظیر کے ولیمہ کی دعوت کا بھی اہتمام ہوا۔

ان تمام شاندار تاریخی حقائق کے باوجود واقعہ یہ ہے کہ کسی حکومت نے بھی غربت اور بے روزگاری سے جنگ لڑنے والے لیاری کے عوام کو ان کا جائز حق نہیں دیا۔ صاف پانی، صحت کے ادارے، تعلیمی ادارے وغیرہ کی کمیابی اور زبوں حالی حکومت کی سرد مہری کی مثالیں ہیں کہ جس کے باعث غربت کی عفریت نے یہاں منشیات کے اڈے، مافیا کے گروپس، اغوا، تاوان اور گینگ وار کے اڈے بنا دیے ہیں۔ اور اس قدیمی، امن پسند اور ملک کے مختلف خطوں سے آکر بسنے والوں کو اپنی آغوش میں پناہ دینے والے لیاری کو بدامنی، بے سکونی اور دہشت گردی کا گڑھ بنا دیا ہے۔

نون میم دانش کی شاعری میں اپنے علاقے کی زبوں حالی اور کسمپرسی کے حوالے سے ایک شدید احتجاج نظر آتا ہے۔ گو اس کی شاعری آفاقی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ دانش کی جائے پیدائش لیاری ہے۔ جہاں اس نے آنکھ کھولی، معصوم بچپن بیتایا، جو انی کے سرد و گرم ایام گزارے اور جاگتی آنکھوں سے ترقی پسند انقلاب کے خواب دیکھے۔ وہاں کے بچوں کو تعلیم کے ہتھیاروں سے لیس کرنے اور خوشحال زندگی بتانے کے خواب۔ لیکن اس کے روشن اور تابناک مستقبل کے خواب دیکھنے والی آنکھوں میں ریت بھر دی گئی۔ بھتے، اغوا، تاوان، قتل اور خوف و ہراس کی ریت۔ وقت آگے بڑھا ہو مگر لیاری وہیں جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں بیروزگاری اور غربت کی دلدل میں دھنسا منجمند کھڑا ہے۔

اپنی کتاب بچے، تتلی، پھول کے اظہاریہ میں دانش لکھتے ہیں۔ میرا تعلق لیاری سے ہے جس کی اپنی الگ دنیا ہے۔ جہاں مختلف ذات، برادری اور قومیتوں کے لوگ اس طرح رہتے ہیں جیسے وہ سب ایک ہی خاندان ہوں۔ اپنی نظموں کے متعلق انہوں نے لکھا ہے۔

”سیاہ فام بلوچ ہونے اور لیاری میں رہنے کی وجہ سے میرے بہت سے تجربے اردو کے دوسرے شاعروں سے مختلف ہیں۔ آدم کے بیٹے، بدصورتی کا حسن، اور احتجاج، سیاہ فام کے حوالے سے لکھی گئی نظمیں ہیں۔ جنہیں با آسانی (Negritude) کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔ “

اگر آپ نظم لیاری کو پڑھیں تو محسوس یہی ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا متذکرہ نظمیں اسی ایک نظم کا تسلسل ہیں۔ اس میں غم، غصہ اور احتجاج کا سیل رواں ہے کہ جس کا مرکزی نقطہ لیاری ہے۔ آخر وہ کون سے عوامل تھے کہ جنہوں نے اس نظم کوتحریک دی کہ جس میں اپنے سینے پہ شفقت سے سلانے والی مائی کے خواب، سمندر کی مامتا، اس کی خفگی، سوکھی مچھلی کی باس اور افلاس کے علاوہ لہو، روشنی، خواب، ہنگامے، نعرے اور تشدد و نفرت کی دنیا کا ذکر ہے۔

انہوں نے اپنی اس نمایندہ نظم لیاری میں حکومت کے آمروں کے ایوان نہیں کھٹکھٹائے۔ ان سے زر کی بھیک نہیں طلب کی بلکہ کراچی کے ساحلوں پہ بسے عوام کی خوابیدہ سوچ کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے۔ کہ ان کی نظر میں عوامی جدوجہد ہی طاقت کا سرچشمہ اور سب سے بڑی دولت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •