بلاول سیاست اور فلسفۂ ابن خلدون آمنے سامنے !

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئے جاناں سے سُوئے مقتل کا سفر ہو یا یتیم دھرتی کے قاتلوں سے قصاص مانگنے کی بات، یہ سب تن تنہا ممکن نہیں۔ لازم ہے کہ کوئی ہم نوا ہو اور کچھ فکر و نظر بھی! آستینوں میں پلتے سیاسی ناگوں کو ٹھکانے لگانا اور آندھیوں کی شب میں دیے جلانا جسے آ گیا ہو, صرف وہی تحریک برپا کر سکتا اور تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔ چل چلاؤ کی روش یا بیساکھیوں کے سہارے دو گام تو چلا جا سکتا ہے مگر منزل تک نہیں !

 وہ سہ پہر مجھے یاد ہے۔ وجاہت مسعود میرے بائیں طرف (اتفاق سے “بائیں بازو” جانب) اور خالد چوہدری دائیں طرف، دونوں  سوچ، مشاہدہ اور تجزیہ میں گم تھے بلکہ تلاش گم شدہ میں گم تھے۔ وہ تلاش جو ایک لیڈر کی متلاشی ہو جیسے کسی ذوالفقار علی بھٹو یا نصرت بھٹو یا بےنظیر بھٹو کی متلاشی۔ ایک مرحلہ پر میں نے بائیں جانب دیکھا، وجاہت سے آنکھوں ہی آنکھوں میں مقرر اور حاضرین میں ہم آہنگی کا پوچھا، تو جواب اثبات میں تھا۔ کم ازکم وہ سماں اور منظر مستقبل کی خیر بتا رہا تھا۔

ہماری نشست ایسی جگہ تھی کہ اگر ہم تھوڑی سی گردن دائیں موڑ کر سیدھے اگلی صف کی طرف دیکھتے تو سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی و راجہ پرویز اشرف، سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ، اعتزاز احسن، رحمان ملک، مرحوم ایاز سومرو، اور گوجرانوالہ سے وفا کی علامت سابق ایم این اے و ایم پی اے میاں اظہر حسن ڈار سمیت بے شمار قائدین موجود تھے۔ اس اگلی صف والوں میں نذر محمد گوندل، فردوس عاشق اعوان، نوابزادہ غضنفر گل اور شوکت بسرا بھی پوری “جیالیت” میں اور بلاول بھٹو زرداری پیپلزپارٹی کی گولڈن جوبلی و تاسیسی فیسٹیول تقریب سے مخاطب تھے۔ قمر زمان کائرہ اور ندیم افضل چن سٹیج پر کھڑے تھے۔ یہ بات ہے اس منظر کی جو دسمبر 2017 میں بلاول ہاؤس لاہور میں سجا۔ ان میں سے کون ساتھ رہا کون الیکشن 2018 میں تحریکی ہوگیا یہ کہانی پرانی ہوگئی۔ وہ کہانی جو پرانی ہوکر بھی تازہ رہتی ہے۔ دل اور دل والوں کے ہاتھوں مجبور سیاست دان (یہاں تذکرہ حرص و ہوس کی مجبوری کا نہیں ) وفاداریاں بدلتے رہتے ہیں۔

ہم نے 1985 سے تاحال جو دیکھا وہ یہ کہ لوگوں کے جانے سے، انہیں وزارتیں اور اسمبلیاں ضرور مل جاتی ہیں لیکن پچھلی پارٹیاں زوال پذیر ہو بھی جائیں مگر ختم نہیں ہوتیں۔ نہ کرسیاں ملنے سے ہم نے قومی سطح کے لیڈر ہی بنتے دیکھے ہیں، ایسا ہوتا تو ایوب خان، ضیاءالحق، غلام مصطفی جتوئی، معین قریشی، پرویز مشرف، شوکت عزیز، ظفراللہ جمالی، میاں محمد سومرو، ہزار خان کھوسو اور ناصرالملک خود یا ان کی نسلیں بھی کمال لیڈر ہوتیں۔ عہد حاضر پر مورخ کیا لکھتا ہے یہ تو آگے جا کر پتہ چلے گا مگر ری پبلکن پارٹی، کنونشن لیگ، پاکستان قومی اتحاد، آئی جے آئی  اور ق لیگ کی تاریخ کیا ہوئی، اہل نظر جانتے ہیں۔۔۔۔

پیپلزپارٹی کے دریا سے باہر نکلنے والے جتوئی و کھر صاحبان، حنیف رامے و معراج محمد خان، فیصل صالح حیات اور راؤ سکندر اقبال وغیرہ سے کوئی کچھ پوچھتا تو جواب یہی ملتا کہ، موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں !

خیر، آج 2019 ہے، اور وہ گولڈن جوبلی تقریب 2017 میں تھی۔ اس وقت عنان اقتدار شریف برادران کے پاس تھی۔ آج زمام اقتدار عمران خان کے ہاتھ میں ہے۔ اور عمرانی ہاتھ آگے جن ہاتھوں میں ہے ایسے میں بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی استقامت کسوٹی پر ہے۔ بلاول سیاست کیلئے شرفا کا دور عمرانی سیاست سے کہیں آسان تھا۔ اب کہیں باپ اسیر تو کہیں نشیب و فراز کی انتہا، امور سندھ میں چیلنجز، کراچی میں کشمکش تاہم بلاول رفتہ رفتہ آگے بڑھ رہا ہے، سندھ کو بچانا اور باقی صوبوں کو پانا مشکل ہے تاہم چند لیڈران میں چمک دمک ملتی ہے، اکثریت فرسٹریشن در فرسٹریشن کا شکار۔ سو ہم نوائی کے ایسے فقدان میں فکر و نظر کا زنگ آلود ہونا فطری بھی ہے۔ قمر زمان کائرہ نے مذکورہ یوم تاسیس پر کہا تھا پیپلز پارٹی کا معاملہ میراث کا ہے وراثت کا نہیں۔ وراثت اور میراث میں گر کوئی فرق ہوا تو باریک سا ہوگا۔ میرے خیال میں ان کا مطلب “پیپلزپارٹی میں وراثت نہیں ثقافت ہے” ہو گا۔

 بہرحال ابن خلدون کے مطابق ” سیاسی وراثتیں عموماً تیسری نسل کے بعد کارگر ثابت نہیں ہوتیں۔”

 1- ابن خلدون کا خیال ہے کہ، سربراہی کو قیام اور استقامت بخشنے والی پہلی نسل کامیابی کی قیمت سے آشنا ہوتی ہے پس وہ کام و نام کو قائم رکھنے کیلئے اعمال برقرار رکھتی ہے۔ 2- جانشین نے والد کی محنت دیکھی ہوتی ہے۔ بیٹا باپ سے سیکھتا ضرور ہے لیکن صرف مطالعہ رکھتا ہے عملی مہارت نہیں۔ یہ تھیوری اور پریکٹیکل کا فرق دوسری نسل میں بہرکیف احساس کمتری کا مادہ رکھ دیتا ہے۔ 3- تیسری نسل تقلید اور روایت پر انحصار کرتی ہے۔ پہلی نسل سے کمتر ہونے کے باعث آزادانہ فیصلہ لینے سے قاصر ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس کی ناکامی کے اسباب اس کے اندر ہی سے پیدا ہوتے ہیں۔

کچھ کا اعتراض یہ ہوگا کہ بلاول تو بھٹو خاندان کی تیسری نسل ہے ہی نہیں۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ، بلاول کو تیسری “سیاسی نسل” سمجھ لیں۔ اس سے بات کو ہضم کرنا ذرا آسان ہوگا، قابل غور یہ کہ پیپلزپارٹی کو ارتقا نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا وقت کے طالبانوں اور مہربانوں نے پہنچایا ہے۔ فراموش یہ بھی نہیں کیا جاسکتا کہ بلاول کے نانا کی پھانسی، ماں کا قتل اور باپ کی “سیاسی” کردار کشی و صعوبتیں جہاں اسے کندن کر دیں گی وہاں یہ بھی ثابت ہونے لگا ہے معاملہ محض وراثت کا نہیں رہا، قربانیوں کی ثقافت کا بھی ہے۔ سیاست کے موجودہ موسم میں بلاول کیلئے مفاہمت بھی مشکل ہے اور مزاحمت بھی۔ وہ نسبتاً کم سن سہی مگر اسے تیسرا راستہ نکالنا ہوگا۔ لیڈر وہی ہوتا ہے جو بند گلی سے بھی راستہ نکال لے، ایسے میں فلسفۂ خلدون رد ہو سکتا ہے اور اس کا استرداد ایسے بھی ممکن ہے کہ بلاول تیسری نسل ہی سہی مگر مقابل پہلی نسل ہی اگر ناتجربہ کار ٹھہرے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •