آئنہ نما: ایک کالی کتاب پر تبصرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جناب ظفر عمران کی نئی کتاب ”آئنہ نما“ کوچہ و بازار میں ارزاں ہوئی ہے۔ ظفر عمران صاحب املا میں وحدانیت کے قائل ہیں اور ان کا یہی رویہ اس کتاب میں جھلکتا ہے۔ مثلاً مروج املا آئینہ ہے، مومن، ذوق، شاہ نصیر، حتی کہ ظفر (شہنشاہ ہند والے اصلی) اسے آئینہ لکھتے آئے ہیں۔ ”ہم کو دکھلائے ہے ہر لحظہ جمال جاناں / دل کا صاف اپنے ظفر آئینہ سا ہو جانا“۔

ہاں صرف ایک شاعر کے ہاں اسے آئنہ لکھا دیکھا ہے۔ ”یوں ہماری عمر گزری انتظار یار میں / اپنے گھر میں جس طرح رہتا ہے بیدار آئنہ“۔ یہ شاعر بھی فاضل مصنف کی طرح مروج روایات کو نہیں مانتے تھے اور ایسے شدت پسند تھے کہ تخلص تک ناسخ باندھ رکھا تھا۔ لکھنو والے شاید اسی شدت پسندی کو دیکھ کر انہیں ”پہلوانِ سخن“ کہنے لگے تھے۔ شکر ہے کہ فاضل مصنف نے ایسی صحت نہیں پائی کہ کوئی انہیں پہلوان سخن کہے اور ان کی کتاب پر ایمانداری سے تبصرہ نہ کر سکے۔

”آئنہ نما“ نامی کتاب اٹھاتے ہی یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ ایک ہلکی کتاب ہے۔ اس میں کل 134 صفحات ہیں۔ اس کے بعد اس کے گیٹ اپ پر توجہ مبذول ہوتی ہے۔ اور یہ وہ مقام ہے جہاں سخت ترین ناقد بھی فاضل مصنف کی دیانت داری کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ بعض مصنفین کی تحریریں سونے میں تولے جانے کے لائق ہوتی ہیں اور سنہرے لفظوں میں لکھی جاتی ہیں، بعضوں کی نقرئی ہوتی ہیں۔ فاضل مصنف نے اپنی تحریر پر خود ایماندارانہ رائے دیتے ہوئے اس کا سرورق سیاہ رکھا ہے۔ اماوس کی کالی رات کی طرح کالا۔ اور اندر حروف بھی کالے سیاہ ہیں۔

سرورق پر ایک اور طریقے سے مصنف نے سچ بول دیا ہے کہ اندر کیا لکھا ہے۔ تاریک رات میں چند کالی کالی سی عورتیں ہیں۔ ممکن ہے کہ پچھل پیریاں ہوں لیکن چونکہ ان کے پیر دکھائی نہیں دے رہے تو ہم انہیں سادہ قسم کی عورتیں مان لیتے ہیں۔ مرکز میں ایک خاتون سرخ رنگ میں ہے۔ یعنی مصنف نے سرورق پر ہی واضح پیام دے دیا ہے کہ یہ سیاہ نامہ اعمال رکھنے والی کالی عورتوں کی کہانیاں ہیں۔ ایک سرخ عورت سے ریڈ لائٹ ایریا کی طرف اشارہ ظاہر ہوتا ہے۔

سرورق پر غور کرنے کے بعد پڑھنے والا سیدھا منٹو موڈ میں کتاب کھولتا ہے۔ سوچتا ہے کہ کالی شلوار کے بعد اسے کالی قمیض نامی افسانہ ملے گا۔ منٹو میں ایک خصوصیت تھی، اس کی کہانی سے جو شخص جنسی ہیجان کشید کرنا چاہتا ہے وہ جنسی ہیجان کشید کر لیتا ہے، اور جو انسانی رویوں پر دکھی ہونا چاہتا ہے وہ کرداروں کے ساتھ دکھی ہو جاتا ہے۔ فاضل مصنف کی کہانیاں ثانی الذکر نقص سے پاک ہیں۔

آدھی کتاب پڑھنے کے بعد چند لائٹ موڈ کے افسانے ہیں جنہیں پڑھ کر بے تحاشا لبوں پر مسکراہٹ چھا جاتی ہے۔ قاری کو یقین نہیں آتا کہ کوئی مصنف اس طرح کی چیز لکھنے کا سوچ بھی سکتا ہے۔ نیز مصنف نے جا بجا اعراب ڈالنے کے شوق میں منٹو پر پیش ڈال کر اسے مُنٹو کر دیا ہے۔ اس پر بہت ہنسی آتی ہے۔

فی زمانہ کتاب یا فلم کا اصول ہے کہ سیکویل کے لئے گنجائش رکھی جاتی ہے کہ اگر کامیاب ہو جائے تو اس کا اگلا حصہ لکھ دیا جائے اور آم کے بعد گٹھلیوں کے دام بھی وصول کر سکے۔ اس لئے فاضل مصنف لائٹ موڈ کی کہانیوں کے بعد یک دم پڑھنے والے کو ہیجان میں مبتلا کرنے کی خاطر کتاب کا اختتام ”من کا پاپی اور عشق ممنوع“ نامی ہیجان خیز افسانے پر کرتا ہے۔ اس افسانے کا عنوان ہی بتا دیتا ہے کہ ہماری روایات کے کتنا خلاف ہے اور ہمارے معاشرے کو کس طرح گمراہی کے قعر مذلت میں دھکیل دے گا۔

اس کالی کتاب کی ایک صفت کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہو گی۔ فاضل مصنف نے راقم الحروف کو جو نسخہ بھیجا ہے، اس پر نیلے قلم سے اپنی ذاتی تحریر میں یہ اعتراف لکھا ہے کہ ”ایک ہی وقت میں ڈھیر سارے کاموں کو نہ جانے کیسے سنوار لیتا ہے، کبھی حسد تو زیادہ تر رشک آتا ہے“۔

اس فقرے سے ظاہر ہو رہا ہے کہ مصنف کو اعتراف ہے کہ اس کی تحریریں سنوارنے میں راقم الحروف کا ہاتھ ہے اور اس بے پایاں احسان کے باوجود فاضل مصنف راقم الحروف کے لئے شدید حسد و رشک کے جذبات رکھتا ہے۔ بہرحال راقم الحروف اپنی اس بشری کمزوری کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ فاضل مصنف کی تحریر سنوارنے میں تو کسی حد تک کامیاب رہا مگر اس کے املا کو درست کرنے اور خیالات کو مصفیٰ و پاکیزہ کرنے کی کوشش میں یکسر ناکام ہوا۔
اس کتاب کی قیمت 399 روپے ہے۔ کتاب منگوانے کے لیے وٹس ایپ نمبر 03009446803 پہ رابطہ کیجیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1190 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar