عثمان بزدار سیکھ رہے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک سال بیت گیا مگر عثمان بزدار وسیم اکرم پلس نہ بن سکے۔ آج بھی تحریک انصاف کے رہنماء اورکارکن چاہتے ہیں کسی طرح سے عثمان بزدار کی جگہ کوئی اور وزیراعلیٰ بنا دیا جائے۔ مگر اکیلے وزیراعظم عمران خان ماننے کے لیے تیار نہیں۔ وہ بضد ہیں کہ عثمان بزدار پنجاب کی تاریخ کا بہترین وزیراعلیٰ ثابت ہو گا۔

الیکشن جیت کر اپنے عہدے کا حلف لینے کے بعد سب کی نظریں عمران خان پر لگ گئیں کہ اب وہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کا وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے کس کا انتخاب کرتے ہیں۔ ایسا صوبہ جہاں ملک کی سیاسی تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں اور جہاں پاکستان مسلم لیگ نواز گزشتہ 30 سالوں سے اپنی دھاک بٹھائے ہوئے ہے۔ انتہائی سوچ بچار اور تدبر کے بعد قرعہ جنوبی پنجاب کے پسماندہ ترین علاقے سے تعلق رکھنے والے سردار عثمان بزدار کے نام نکلا۔ وزیراعظم کے اس اعلان نے سب کو حیران اور پریشان کرکے رکھ دیا کہ ایسا ناتجربہ کار شخص پنجاب میں پارٹی ووٹ کو وسعت کیسے دے پائے گا اور کیا وہ نواز لیگ کے سیاسی قلعے کی مضبوط دیواروں کو ہلا پائے گا۔

نامزدگی کے چند گھنٹوں بعد ہی تحریک انصاف کی صفوں میں ہلچل مچ گئی۔ ان کی وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر نامزدگی تحریک انصاف کے کارکنوں اور وزارت اعلیٰ کے خود ساختہ امیدواروں کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں تھی۔ ہر کسی نے کہا کہ اگر ایسے بندے کو ہی پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا سربراہ بنانا تھا تو ان میں کیا کمی تھی۔ سب کو اعتراض تھا کہ ایک شخص جو الیکشن سے کچھ ہی عرصہ پہلے پارٹی میں شامل ہوا اور اسے وزیراعلیٰ کے عہدے پر بٹھا دیا گیا۔ عمران خان نے انہیں محض اس بات پر وسیم اکرم پلس قراردیا کہ ان کے گاوّں میں بجلی نہیں ہے اور وہ غریب کے مسائل کو زیادہ بہترطریقے سے سمجھ سکتا ہے۔ وزیراعظم 50 سے زائد مرتبہ یقین دلانے کی کوشش کرچکے ہیں کہ وہ آہستہ آہستہ سیکھ لے گا اورصوبے کا نظام سنبھال لے گا۔ مگر کوئی ماننے کے لیے تیارہی نہیں۔

ہر دوسرے ہفتے وزیراعظم لاہور آتے ہیں اور پنجاب میں جاری تمام اہم ’منصوبوں‘ کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ وزراء کی ’کارکردگی‘ رپورٹ حاصل کرتے ہیں۔ اب تک وزیراعظم کئی تقریروں میں عثمان بزدار کی حکومت کے دو بڑے کارناموں کا ذکر کرچکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عثمان بزدار نے پنجاب میں پناہ گاہیں بنائی ہیں اور ہزاروں ایکڑ زمین واگزار کروائی ہے۔ پناہ گاہوں کا منصوبہ ان کا اپنا تھا جس میں خاتون اول بھی بہت زیادہ دلچسپی لیتی رہیں جبکہ پنجاب میں تجاوزات کے ساتھ سرکاری زمین واگزار کرانے کا کام اعلیٰ عدلیہ کے حکم پرکیا گیا۔ تو پھرعثمان بزدار کا اس میں کیا کمال؟

سرکاری زمین تو پہلے ادوار میں بھی ہر ضلع میں واگزار ہوتی رہی ہے البتہ موجودہ دور میں اس کارروائی کے ساتھ زمینوں کی مالیت مارکیٹ ریٹس سے بھی کئی گنا بڑھا چڑھا کر اربوں روپے بتائی گئی۔ مگر ان اربوں روپوں کا کیا بنا کچھ پتا نہیں۔ دیگرکرپشن کے کیسوں میں بھی حکومت اور نیب کا ادارہ کئی سو ارب کی کرپشن کا چرچا کرتے ہیں اور بعد میں ریفرنس چند کروڑ کا ہی بنتا ہے جس کا حاصل پراپیگنڈا کے سوا کچھ نہیں۔

تحریک انصاف کی حکومت میں اربوں کی رٹ بہت مقبول ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہر وزیر اربوں ڈالر یا سینکڑوں ارب روپے سے نیچے کوئی بات نہیں کرتا۔ حال ہی میں پنجاب کے وزیرتعلیم برائے سکولز مراد راس نے آن لائن ٹرانسفر سسٹم متعارف کروا کر اساتذہ کی ٹرانسفر پوسٹنگ میں کئی دہائیوں سے جاری تین سے پانچ ارب روپے سالانہ کرپشن ختم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کا ہر اسکول ٹیچر 50 سے 70 ہزار روپے رشوت دے کر ہی اپنی ٹرانسفر کرواتا رہا ہے۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب کا ہر اسکول استاد چاہے وہ مرد ہے یا عورت اور چاہے اس کی تنخواہ 50 ہزار سے بھی کم ہے اس نے کبھی میرٹ یا اکیلی سفارش پر اپنی ٹرانسفر نہیں کروائی۔ بہت ہی حیران کن ہے کہ وزیر موصوف بغیر کسی ریکارڈ کے ناقابل یقین حد تک اتنی بڑی مالیت کی کرپشن روکنے میں کامیابی کے دعوے کررہے ہیں۔

ادھرعثمان بزدار ابھی تک سیکھ رہے ہیں۔ آج بھی ہر لمحہ ان کے معاونین ان کے ساتھ چپکے دکھائی دیتے ہیں کہ کہیں وزیراعلیٰ کوئی بڑی غلطی نہ کربیٹھیں۔ ایک بریفنگ کے دوران حال ہی میں فارغ کیے جانے والے ایک مشیر کمرے میں وارد ہوئے اور بریفنگ روک کر رعب دار طریقے سے اپنے وزیراعلیٰ سے مخاطب ہوتے ہیں کہ چند مہمان دوسرے کمرے میں چند مہمان آئے ہیں اور ان سے ملاقات بہت ضروری ہے۔ عثمان بزدار با ادب طریقے سے بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ بریفنگ ختم ہونے والی ہے کیوں نہ انہیں چند منٹ مزید دے دیے جائیں۔

مگر ’بڑے شاہ‘ سے بھی زیادہ شاہ کے وفادار نے بریفنگ کے ارکان سے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ کو بعد میں سب کچھ سمجھا دیں گے اور اب آپ لوگ جائیں۔ عثمان بزدار معذرت کرکے اٹھے اور بریفنگ ادھوری چھوڑ کران کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔ شاید انہی حرکتوں سے تنگ آکر انہوں اس امریکہ پلٹ مشیر کو فارغ کردیا۔

کچھ اور ہو نہ ہو ایک سال میں ’وسیم اکرم پلس‘ نے ایک کام ضرور سیکھ لیا ہے کہ جو افسر ان کی بات نہ سمجھ سکے اس کا تبادلہ کردیں۔ جہاں جاتے ہیں افسروں کو چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر معطل کردیتے ہیں۔ اب تک لاتعداد افسران ’تبدیلی‘ کا نشانہ بن چکے ہیں۔ افسران شکایت کرتے ہیں کہ حکومت کسی پالیسی کے بغیر چل رہی ہے اور دوسری طرف ان پر نیب اور نا اہلی کی تلوار لٹکا دی گئی ہے۔ ایسے حالات میں وہ کیا کام کریں؟

ایسے افسر جو شریفوں کے چہیتے تھے اور ان کے ذاتی ملازم قرار دیے جاتے تھے انہیں فارغ کرنے کے بعد پھر انہی کو واپس لاکر مختلف محکموں میں اہم ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔ بعض محکموں کے سربراہان کو متعدد بار تبدیل کیا جا چکا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات ہیں کہ لاہور کی ڈپٹی کمشنر کو ڈینگی کی روک تھام کے لیے ناکافی اقدامات پر تبدیل کردیا گیا ہے اور پھر سے خبریں آرہی ہیں کہ بہت جلد محکمہ پولیس میں بڑی تعداد میں افسران کی اکھاڑ پچھاڑ متوقع ہے۔

قصور کے علاقے چونیاں میں تین بچوں کی ہلاکتوں پر بھی یہی ہوا۔ تمام چھوٹے بڑے پولیس افسروں کی چھٹی کرا دی۔ مگر ایک سال میں پنجاب پولیس میں اصلاحات ہوسکیں اورنہ ہی بچوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کی روک تھام کا کوئی منصوبہ بن سکا۔ آئندہ پھر کوئی ایسا واقعہ ہوا تو پھر پولیس کی شامت آئے گی۔ پنجاب حکومت کا رونا یہ ہے کہ 70 سال کا ’گند‘ ایک سال میں کیسے صاف ہو۔ ایک سال میں تعلیم، صحت، پولیس یا کسی محکمے میں بھی اصلاحات لانے میں ناکامی کا مطلب ہے کہ حکومت میں آنے سے پہلے تحریک انصاف نے سرے سے کوئی منصوبہ بندی ہی نہیں کی تھی۔ اب کہتے ہیں کہ ابھی ہم سیکھ رہے ہیں۔ حیرت ہے کہ 22 سالہ سیاسی جدوجہد میں بوسیدہ گورننس کے نظام یا معاشرے کی خامیوں سے نابلد رہے اور اب اس قوم پرآئے روز نئے نئے تجربات کیے جا رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •