کیا آپ کا کوئی رشتہ دار ذہنی مریض ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عبدالستار کا ڈاکٹر خالد سہیل کے نام خط

پیارے طبیب آداب!

ڈاکٹر صاحب میں ایک ایسے معاشرے کا باشندہ ہوں جسے آپ (Traditional Land) کا نام دیتے ہیں۔ ہمارا یہ معاشرہ چوں چوں کا مربہ ہے جہاں کسی بھی قسم کی معیاری قدروں کا نام و نشاں نہیں ہے اور ایسی سٹینڈرڈ ویلیوز کے لیے ہماری زمین ابھی زرخیز نہیں ہوئی ہے۔ تعلیمی اور علمی سطح پر ہم لوگ انتشار کا شکار ہیں۔ ہمارے یہاں تعلیم تو کجا علم کی سہولیات کا بھی فقدان ہے۔ صحت کے اچھے معیارات نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں میں بہت زیادہ ہجوم لگا رہتا ہے۔ مگر وہاں مسیحائی کی جگہ موت بانٹی جاتی ہے۔ معاشی سطح پر بد حال غریب لوگ ہسپتالوں سے مایوس ہو کر آستانوں اور درباروں کا رخ کرتے ہیں اور تعویز گنڈوں کا سہارا لیتے ہیں۔ اکیسویں صدی جو کہ انسانی علم کی بالغ صدی ہے، اس جدید دور میں بھی ہم لوگ حقیقی دنیا سے باہر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اس خط کے ذریعے سے میں ایک مریض کی کہانی سنا کر آپ سے راہنمائی کا طلب گار ہوں۔ چونکہ آپ کا تعلق نفسیات کے میدان سے ہے۔

ڈاکٹر صاحب میرے ایک گہرے رشتہ دار جن کا نام محمد اقبال ہے اور عمر کی 67ویں منزل کو چھو رہے ہیں۔ ان کی ذہنی حالت بہت دگرگوں ہے اور ذہنی بیماری کا یہ سلسلہ کئی سالوں سے چل رہاہے۔ مریض کے ذہن میں یہ بات راسخ ہوچکی ہے کہ اس کے اندر جنات پائے جاتے ہیں اور اس کی رگوں میں کیڑے گردش کرتے رہتے ہیں۔ جب اس مریض کو کھانا وغیرہ دیا جاتاہے تو وہ کہتا ہے کہ مجھے ایسے محسوس ہوتاہے کہ جیسے میں گندگی اور غلاظت کھا رہا ہوں۔ رشتہ دار اور احبات جب بھی اسے کسی مستند میڈیکل ڈاکٹر سے چیک اپ کی بات کرتے ہیں تو وہ جانے سے انکار کردیتا ہے۔زبردستی کرنے پر وہ خود کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دیتا ہے، جس پر احباب پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور اب تو یہ حالات پیدا ہوچکے ہیں کہ مریض نے کافی عرصہ سے نہانا بھی ترک کردیا ہے۔

ڈاکٹر صاحب قابل غور بات یہ ہے کہ اس مریض کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت برقرار ہے اور رشتہ داروں کو جاننے اور لوگوں سے ملنے جلنے کی پوری آگاہی ہے۔ مریض کا صرف اس بات پر اصرار رہتا ہے کہ میری بیماری کا علاج میڈیکل میں نہیں ہے بلکہ بابوں اور تعویز گنڈے کرنے والوں کے پاس ہے۔ اس کی ضد کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے کئی بابوں اور آستانوں پر بھی لے جایا گیا اور احباب نے بہت سارے نذرانے اور پیسے بھی ان آستانوں والوں کی نذرکیے مگر مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی۔ پیارے طبیب طول کلامی کی معذرت چاہتا ہوں اور آپ سے راہنمائی کا طلب گار ہوں۔ امید ہے کہ میرے اس خط کی وجہ سے بہت سارے لوگوں کی مسیحائی ہو جائے گی۔

آپ کا ادبی دوست

عبدالستار

٭٭٭     ٭٭٭

ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب

محترمی عبدالستار صاحب !

آپ کا محبت نامہ ملا۔ مجھے خوشی ہے کہ نہ صرف آپ میری کتابیں پڑھ رہے ہیں بلکہ مجھ سے خط و کتابت بھی کر رہے ہیں۔ آپ کے خط کے دو حصے ہیں۔پہلا حصہ عمومی ہے اور دوسرا خصوصی۔

جہاں تک مشرقی عوام کا تعلق ہے وہ ابھی تک سائنس ’ طب اور نفسیات کے جدید علوم سے بے خبر ہیں۔ اسی لیے جب وہ بیمار ہوتے ہیں تو کسی ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات کے پاس جانے کی بجائے کسی پیر فقیر کے پاس جاتے ہیں اور گنڈا تعویز سے علاج کرواتے ہیں۔ مجھے قوی امید ہے کہ جوں جوں علم کی روشنی بڑھے گی اور لوگ صحت کے بنیادی اصول جانیں گے وہ پیروں فقیروں کی بجائے ڈاکٹروں اور نرسوں سے رجوع کریں گی۔ ارتقا کا سفر کچھوے کی طرح سست خرام ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس سفر کو قدرے تیز کیا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔

جہاں تک آپ کے رشتہ دار کا تعلق ہے آپ کے خط میں درج کردہ عوارض سے لگتا ہے کہ وہ ذہنی مرض کا شکار ہیں۔ وہ ذہنی مرض جس میں مریض

غیبی آوازیں HALLUCINATIONS بھی سنتا ہے

غیر حقیقی تصورات DELUSIONSکا بھی شکار ہوتا ہے

ان کی سوچ بھی غیر منطقی ہوتی ہےTHOUGHT DISORDER سکزوفرینیا کہلاتا ہے۔

ایسے مریض کو اگر ہسپتال میں داخل کیا جائے تو اس کا ادویہ۔۔۔تھیریپی۔۔۔اور ذہنی صحت کی تعلیم سے علاج کیا جا سکتا ہے۔

ذہنی مریض خاندان والوں کے لیے بھی پریشانی کا باعث ہو سکتا ہے خاص طور پر اگر وہ رشتہ داروں سے تعاون نہ کرے۔ ایک شعر ہے

دیوانے کے ہمراہ بھی رہنا ہے قیامت

دیوانے کو تنہا بھی تو چھوڑا نہیں جاتا

کینیڈا میں اگر کوئی ذہنی مریض اپنی یا کسی اور کی جان کے لیے خطرہ بن جائے یا اپنا خیال نہ رکھ سکے تو اسی ڈاکٹر کچھ عرصے کے لیے اس کی مرضی کے بغیر بھی ہسپتال میں داخل کر کے اس کا علاج کر سکتا ہے۔

ایک وہ زمانہ تھا جب لوگ سمجھتے تھے کہ ذہنی مریضوں کے اعصاب پر جن اور پریاں سوار ہیں۔ اب طب کی سائنس نے بتایا ہے کہ ایسے مریض یا مرگی EPILEPSY کا شکار ہوتے ہیں یا SCHIZOPHRENIA کا اور ان کا ادویہ تھیرپی اور تعلیم سے علاج کیا جا سکتا ہے۔

ایک وہ زمانہ تھا جب ذہنی مریض روحانی پیشوائوں کے پاس جاتے تھے لیکن اب ماہرینِ نفسیات کے پاس جاتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ مسئلہ نفسیاتی ہے روحانی نہیں۔

عبدالستار صاحب۔ میری ممانی سکزوفرینیا کی مریضہ تھیں۔ ان کے شوہر انہیں ایک روحانی پیشوا کے پاس لے گئے جو ان کا روحانی علاج کرتے رہے۔

ان کا بیٹا انہیں ایک سائیکاٹرسٹ کے پاس لے گیا جو ان کا MODECATE INJECTION سے علاج کرنے لگا۔ میری ممانی بہتر ہونے لگیں۔ ان کے شوہر سمجھتے رہے وہ روحانی علاج سے ٹھیک ہو رہی ہیں ان کا بیٹا سمجھتا رہا کہ وہ انجکشن سے ٹھیک ہو رہی ہیں۔

میں خاموشی سے سب کچھ دیکھتا رہا۔ انہوں نے میری رائے پوچھی تو میں نے کہا کہ اگر وہ انجکشن لگوا رہی ہیں تو مجھے ان کے کسی روحانی پیشوا کے پاس جانے میں کوئی اعتراض نہیں۔

کچھ عرصے کے بعد پاکستان میں موڈیکیٹ انجکشن بازار سے غائب ہو گئے۔ جب ممانی کو انجکشن نہ ملے تو وہ پھر بیمار ہو گئیں اگر چہ وہ روحانی علاج باقاعدگی سے کروا رہی تھیں۔ چند ماہ بعد میں نے کینیڈا سے انجکشن بھجوائے انہوں نے انجکشن لگوانے شروع کیے تو ایک دفعہ پھر بہتر ہونے لگیں۔ ان کے بہتر ہونے سے سب خوش ہوئے۔

عبدالستار صاحب۔ امید ہے میرے خط سے آپ بھی اور ’ہم سب‘ کے دیگر قارئین بھی کچھ استفادہ کر سکیں گے۔

مخلص

ڈاکٹر خالد سہیل

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 254 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail