لینن پہ گولی کس نے چلائی تھی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گذشتہ صدی کے وسط میں سوویت یونین میں نامور ہدایت کار میخائیل روما کی فلم ’لینن 1918 میں‘ خاصی مقبول تھی۔ فلم کا اختتام رہبر انقلاب روس پہ اسی سال کے 30 اگست کو کیے گئے قاتلانہ حملے پر ہوتا ہے۔  ایک جلسے سے خطاب کرنے کے بعد مزدوروں کے ہجوم میں گھرے ہوئے ولادیمیر لینن کو اپنی کار کی جانب جاتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔  اس لمحے فانّی کپلان نام کی ایک عورت قریب پہنچ کر، ریوالور سے لینن پر گولیاں چلاتی ہے۔  مزدور جائے واردات پہ ہی عورت کو قابو میں کر لیتے ہیں۔  لینن پہ ہونے والے قاتلانہ حملے کے اس موقف پر دسیوں برسوں کسی کو بھی شبہ نہیں گزرا تھا لیکن سوویت یونین کے انہدام کے بعد محققین کو خفیہ دستاویزات تک رسائی حاصل ہو گئی تھی۔ کپلان کے خلاف مقدمے کے مواد کا مطالعہ کرتے ہوئے کچھ کم تضادات سامنے نہیں آئے۔

روما کی فلم میں گولیاں چلائے جانے کے فوراً بعد مزدور کپلان کو قابو میں کرکے غیر مسلح کر دیتے ہیں جبکہ اصل میں مزدروں نے دہشت گرد عورت کو قابو میں کرنے کی بجائے اطراف میں دوڑ لگا دی تھی۔ زخمی رہنما کے ساتھ صرف ان کا ڈرائیور ستیپان گل کھڑا رہا تھا جس نے بعد میں تفتیش کرنے والوں کو بتایا تھا کہ گولیاں چلتے کے فوراً بعد اس کی نگاہ ہجوم میں موجود ریوالور ہاتھوں میں لیے ہوئے ایک عورت پر پڑی تھی۔ اقدام قتل کے بعد وہ ہتھیار پھینک کر باقی سب لوگوں کے ساتھ بھاگ کھڑی ہوئی تھی۔

 کمیسار سرگئی باتولن نے گولی چلانے والی کو نہیں دیکھا تھا لیکن جرم کے شاہد کو تلاش کرنے کی کوشش میں ہجوم کے ساتھ بھاگنے لگا تھا۔ اچانک اس کی نظر ایک عورت پہ پڑی تھی جو درخت کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ گھبرائی ہوئی تھی اور خود کو مشکوک ظاہر کر رہی تھی۔ باتولن نے اس انجان عورت کو گرفتار کر لیا تھا۔

پوچھ گچھ کے دوران تفتیش کرنے والوں کو اس کا نام فانّی کپلان معلوم ہوا تھا۔ 1906 میں وہ انقلابیوں میں شامل ہوئی تھی اور شہر کیو میں گورنر جنرل پہ کیے جانے والے قاتلانہ حملے میں شامل تھی۔ بم وقت سے پہلے پھٹ گیا تھا اور یہ ناکام دہشت گرد عورت بس مرتے مرتے بچی تھی۔ شدید زخمی ہونے والی کپلان تقریبا ”نابینا ہو چکی تھی۔ شاہی عدالت نے اسے سائیبیریا کے قید خانے میں عمر بھر بند رہنے کی سزا سنائی تھی۔ اس عورت کو 1917 کے انقلاب نے رہائی دلائی تھی۔

لینن کی سرکردگی میں حکومت پر قبضہ کر لینے کے بعد بالشویکوں نے آمریت قائم کر دی تھی اور اپنے مخالفوں کو سختی کے ساتھ کچل دیا تھا۔ کپلان نے اس پورے عمل کو انقلاب کے بہتر تصور اور سوشلزم کے ساتھ غداری کے طور پر لیا تھا اور ”بڑے غدار“ لینن، کو سزا دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس اعترف جرم پہ اسے سزائے موت سنا دی گئی تھی۔ 3 ستمبر 1918 کو فانی کپلان کو ”عہد انقلاب کے عارضی قانون“ کے تحت گولی مار دی گئی تھی۔ لینن کے زخم ہلکی نوعیت کے ثابت ہوئے تھے اور وہ جلد ہی کام کرنے لگے تھے۔

فانی کپلان

قاتلانہ حملے میں کپلان کی شمولیت عیاں ہے لیکن یہ کم ہی ممکن ہے کہ ایک قریبا ”نابینا شخص، چھٹپٹے کے وقت ہجوم بیچ تین بار اپنے ہدف کا نشانہ لے سکے جبکہ ایک بھی عینی شاہد کپلان کو نہیں پہچان پایا تھا البتہ کہا سب نے یہی تھا کہ گولیاں تو ایک عورت نے ہی چلائیں تھیں۔  نہ کوئی سراغ تھا نہ کوئی ثبوت، واحد ثبوت کپلان کا اعتراف جرم تھا۔ چنانچہ اگر دہشت گرد خاتون کپلان نہیں تھی تو پھر وہ عورت کون تھی جس نے لینن پر گولی چلائی تھی؟

1922 میں ماسکو میں اسیروو گروہ کی سوشلسٹ انقلابی پارٹی کے دہشت گردوں کے خلاف، جو بالشویکوں کے ساتھ لڑ رہے تھے، مقدمے کی ایک بڑی کارروائی ہوئی تھی۔ ملزمان میں جنگی گروہ کے قائدین ایسیروو گریگوری سیمیونوو اور لیدیا کونوپلیووا بھی شامل تھے، انہوں نے لینن کے ساتھیوں کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ دہشت گردوں کا خیال تھا کہ ”اہداف“ کو پرہجوم جلسوں میں نشانہ بنایا جانا کہیں زیادہ سہل تھا۔ پہلے جلسے میں جاسوس بھیجے جاتے تھے۔  پھر حملہ کرنے والا لوگوں میں گھل مل جاتا تھا اور ”ہدف“ کو نشانہ بناتا تھا۔ گولی چلنے سے خوفزدہ لوگ بھاگ کھڑے ہوتے تھے اور ان کے ساتھ ہی دہشت گرد بھی بھاگ نکلتے تھے۔

لینن پہ گولی چلنے کے واقعے کو یاد کرتے ہیں۔  جلسہ، ہجوم میں سے گولی چلائی گئی، سراسیمگی۔۔۔ یہ سیمیونوو کے گروہ کا انداز ہے۔  اس طرح کپلان کی شہادت واضح ہو جاتی ہے۔  ممکنہ طور پہ وہ اس ہجوم میں دہشت گردوں کی جاسوسہ تھی، جس سے لینن خطاب کر رہے تھے۔  اپنا مشن پورا کرکے کپلان ایک طرف کو ہو کر ”کارروائی“ کے نتائج کا انتظار کر رہی تھی۔ بوکھلائے ہوئے کمیسار باتولن کی اس عورت پہ نگاہ پڑی تھی۔ اپنے ساتھیوں کو بچانے کی خاطر کپلان نے سارا جرم اپنے کندھوں پہ لے لیا تھا۔ یوں سوویت سرکاری تاریخ نگاروں کے نزدیک لینن پہ کیا جانے والا قاتلانہ حملہ ایک اکیلی دہشت گرد عورت کے خلاف مقدمہ بن کر کے رہ گیا تھا۔

لینن کی آخری تصویر (1923)

مگر وہ عورت کون تھی جس نے عینی شاہدوں کے مطابق لینن کو گولی ماری تھی؟ کپلان کے علاوہ سیمیونوو کے گروہ میں ایک اور عورت لیدیا کونو پولیووا ہی تھی۔ انتہائی جری، فیصلہ کرنے والی اور کسی پہ رحم نہ کھانے والی، جو ہتھیاروں کو استعمال کرنا بہت اچھی طرح جانتی تھی اور کئی دہشت گردانہ کارروائیوں میں شریک بھی ہو چکی تھی۔ دہشت گرد اہم کارروائی کے لیے صرف اسی کو ہی چن سکتے تھے نہ کہ نیم اندھی کپلان کو۔ 1922 کے مقدمے میں سیمیونوو اور کونوپولیووا نے انتہائی پشیمانی ظاہر کر دی تھی۔

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ انہیں رہا بھی کر دیا گیا تھا بلکہ بعد میں یہ سابق دہشت گرد کمیونسٹ پارٹی میں شامل بھی ہو گئے تھے لیکن 1937 میں سٹالن کی ”عظیم دہشت“ کے دوران سیمیونوو اور کونوپولیووا کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور پھر گولی مار دی گئی تھی۔ ممکن ہے اس طرح لینن کو قتل کرنے کا انتظام کرنے اور قاتلانہ حملہ کرانے والوں کا سچ بھی ان کے ساتھ ہی مر گیا ہو۔

(مترجم : ڈاکٹر مجاہد مرزا)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •