شیر کی دم سے بندھا گیدڑ


اب ادھر کسان اور اس کی بیوی کھیت میں فتح کا جشن مناتے ہوئے شیر کی بے وقوفی پر ہنس رہے تھے۔ اچانک ان کی نظر شیر اور گیدڑ کی جوڑی پر پڑی جو ان کی طرف آ رہی تھی۔

”بھاگو، ہم ہار گئے، ہم مارے گئے“ کسان گھگھیایا۔
”کچھ نہیں ہوا، کانپنا بند کرو اور چپ کر کے بیٹھو“۔ اس کی بیوی نے اسے ڈانٹا۔

جب شیر اور گیدڑ اتنا قریب پہنچ گئے کہ ان تک آواز جا سکتی تو بیوی بہت پیار بھری لیکن بھاری مردانہ آواز میں بولی ”تم کتنے اچھے ہو میرے پیارے گیدڑ، تم نے اپنے وعدے کا پاس کیا اور اتنے موٹے تازے شیر کو لے آئے۔ تمہیں اس کا انعام ملے گا، اس کی ساری ہڈیاں میں تمہیں دوں گا“۔

شیر کے اوسان خطا ہو گئے۔ وہ ایسا خوفزدہ ہوا کہ بے تحاشا چھلانگیں مارتا ہوا جنگل کی طرف بھاگ نکلا۔ گیدڑ بے چارہ اس کی دم سے بندھا ٹھپے کھا کھا کر زمین سے ٹکراتا اور گھسٹتا جاتا۔ وہ جیسے ہی تکلیف سے چلاتا تو شیر اور ڈرتا اور زیادہ تیز دوڑتا۔ شیر اپنی جان بچانے کو پتھروں کنکروں کانٹے دار جھاڑیوں کی پروا کیے بغیر پوری قوت سے دوڑتا رہا اور گیدڑ ان سے ٹکرا کر زخمی ہوتا رہا۔ شیر اس وقت رکا جب جنگل کے اندر پہنچ گیا۔ وہ تھکن اور خوف سے نیم مردہ ہو چکا تھا۔ اس نے پیچھے دیکھا تو گیدڑ مر چکا تھا۔

نتیجہ: شیر اگر بزدل ہو تو گیدڑ کو اس کے ساتھ اپنی دم نہیں باندھنی چاہیے، شیر تو بچ جاتا ہے گیدڑ مارا جاتا ہے۔ سیاسی کارکن عام طور پر اس اصول کا خیال نہیں رکھتے اور خوب پچھتاتے ہیں۔
ایک قدیم دیسی حکایت۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar