شیر کی دم سے بندھا گیدڑ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک کسان اپنے کھیت میں بیلوں کی جوڑی سے ہل چلا رہا تھا۔ اچانک ملحقہ جنگل سے ایک بڑا سا شیر نکلا اور اس نے نہایت سلیقے سے کسان کو سلام کر کے کہا ”کیسی گزر رہی ہے میرے دوست؟ “

کسان کی پہلے تو شیر کو دیکھ کر جان نکل گئی مگر شیر کا دوستانہ انداز دیکھ کر اسے تسلی ہوئی۔ اس نے سوچا کہ شیر ڈائیلاگ کرنے آیا ہے تو خیریت اسی میں ہے کہ اس سے بات چیت کی جائے۔ وہ بولا ”بہت اچھی گزر بسر ہو رہی ہے جنگل کے بادشاہ۔ “

شیر نے اپنے تیز پنجے نکالے اور بہت خوش اخلاقی سے بولا ”یہ تو بہت اچھی بات ہے کیونکہ خدا نے مجھے تمہارے دونوں بیل کھانے کے لئے بھیجا ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ تم خدا پرست آدمی ہو، اب جلدی کرو اور انہیں ہل سے نکال کر میرے حوالے کر دو“۔

اب کسان حوصلہ پکڑ چکا تھا کیونکہ اسے علم ہو گیا تھا کہ شیر اسے کھانے کی نیت نہیں رکھتا بلکہ اس کے بیل حاصل کرنے کے لئے سودے بازی کر رہا ہے۔ ”میرے دوست کیا تمہیں یقین ہے کہ تم کوئی غلطی نہیں کر رہے ہو، کیونکہ خدا نے مجھے ان کھیتوں میں فصل اگانے کا حکم دیا ہے اور بیلوں کی جوڑی کے بغیر میں ایسا نہیں کر سکتا۔ بہتر ہے کہ تم واپس جاؤ اور اچھی طرح سے معاملہ پوچھ لو“۔

”دیر کرنے کا وقت نہیں ہے اور میں تمہیں انتظار نہیں کروانا چاہتا۔ فوراً بیل کھول کر میرے حوالے کر دو“ شیر اپنے تیز پنجے اور لمبے دانت نکال کر غرایا۔
اب کسان کانپنے لگا۔ اس نے شیر کی منت سماجت شروع کر دی کہ وہ اس کے بیل نہ کھائے بلکہ ان کے بدلے وہ اسے اپنے گھر سے اپنی بیوی کی خوب موٹی تازی گائے لا کر دے دے گا۔
شیر بہت قانون پسند تھا اور لوٹ مار پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ وہ ہمیشہ کوشش کرتا تھا کہ اسے بلا جبر و اکراہ اس کا مال مل جائے۔ وہ راضی ہو گیا۔

کسان نے اپنے بیل سنبھالے اور ہانپتا کانپتا اپنے گھر پہنچا۔ وہ کانپ اس لئے رہا تھا کہ اس بچارے کی بیوی شیر سے بھی زیادہ خونخوار تھی۔ اسے جلدی گھر آتے دیکھ کر وہ چیخی ”ہڈ حرام، تم کام کیے بغیر ہی واپس آ گئے؟ “

کسان نے اسے شیر کے بارے میں بتایا کہ وہ اس کے بیل کھانا چاہتا تھا مگر اس نے بمشکل شیر کو گائے کھانے پر راضی کر لیا ہے۔

یہ سنتے ہی اس کی بیوی اسے برا بھلا کہنے لگی ”تمہارے یہ نکھٹو بیل بچ جائیں اور میری ددھیل گائے شیر کو دے دیں؟ بچے دودھ کہاں سے پئیں گے؟ سالن میں گھی کہاں سے ڈلے گا؟ لسی کیسے بنے گی؟ مکھن لگی روٹی کیسے کھانے کو ملے گی؟ تمہیں کچھ عقل ہے بھی یا نہیں؟ “

کسان اب تک شیر اور بیوی سے ڈانٹ کھا کھا کر تنگ آ چکا تھا۔ تنک کر بولا ”اور اگر بیل نہیں ہوں گے تو گندم کہاں سے اگے گی جس کی روٹی پر مکھن رکھنا ہے؟ مکھن کے بغیر گزارا ہو جائے گا روٹی کے بغیر نہیں ہو گا۔ گائے کی رسی کھولو اور مجھے دو“۔

بیوی آپے سے باہر ہو گئی ”تم بھوندو نہ ہوتے تو کوئی چکر چلا کر شیر سے جان چھڑا لیتے۔ “
”تم اتنی سیانی ہو تو تم کوئی منصوبہ بنا لو“۔
”ٹھیک ہے لیکن میری بات کان کھول کر سن لو۔ شیر کے پاس جا کر اسے بتاؤ کہ گائے تمہارے ساتھ آنے پر رضامند نہیں تھی، تمہاری بیوی اسے لا رہی ہے۔ پھر آگے میں دیکھتی ہوں کیا کرنی ہے“۔

کسان بہت بزدل تھا۔ اسے بھوکے شیر کے پاس خالی ہاتھ جاتے ہوئے ڈر لگ رہا تھا۔ لیکن اسے اپنی بیوی شیر سے بھی زیادہ خونخوار لگتی تھی۔ وہ شیر کے پاس چلا گیا جو کھانے کے انتظار میں اپنے پنجے تیز کر رہا تھا۔ اسے پتہ چلا کہ گائے آنے میں کچھ دیر ہے تو غصے سے غرانے لگا۔ کسان کی ٹانگیں کانپنے لگیں اور اس نے اپنی عافیت کے لئے دعائیں مانگنا شروع کر دیں۔

ادھر کسان کی بیوی نے اپنے جسم کے گرد کئی کپڑے لپیٹے اور اوپر کسان کے کپڑے پہن لئے تاکہ خوب موٹی تازی دکھائی دے۔ اس کے بعد اس نے خوب اونچے شملے والی پگڑی باندھی اور منہ پر کپڑا لپیٹ لیا۔ اس کے بعد وہ گھوڑے پر سوار ہوئی اور کلہاڑی لہراتی ہوئی کھیتوں کی طرف چلی۔

جب وہ کھیتوں کے کنارے پر پہنچی تو زور زور سے بولنے لگی ”خدا کرے کہ مجھے جلدی سے کوئی شیر مل جائے۔ کل سے میں نے کوئی شیر نہیں کھایا ہے۔ کل قسمت اچھی تھی کہ مجھے ناشتے کے لئے تین شیر مل گئے۔ “

شیر نے یہ الفاظ سنے تو سر اونچا کر کے دیکھا۔ اتنا لمبا چوڑا اور لحیم شحیم آدمی اپنی طرف آتا دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہو گئے۔ وہ ایسے اندھا دھند جنگل کی طرف بھاگا کہ اس نے اپنے ساتھی گیدڑ کو ہی کچل ڈالا۔ شیر ہمیشہ اپنے ساتھ ایک گیدڑ بطور خادم رکھتے ہیں۔ گیدڑ ان کے لئے کھانا لگاتے ہیں اور کھانے کے بعد میز صاف کرتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں بچا کھچا شکار کھانے کو مل جاتا ہے۔

”میرے آقا آپ کدھر دوڑے جا رہے ہیں؟ “ گیدڑ نے پوچھا۔
”بھاگو بھاگو، ادھر کھیت میں ایک شیطانی گھڑ سوار آ گیا ہے جو تین تین شیر کھا کر بھی ڈکار نہیں لیتا“۔ شیر نے بھاگتے بھاگتے کہا۔

گیڈر ہنسا ”میرے آقا، آپ کی آنکھیں تیز دھوپ سے چندھیا گئی تھیں۔ وہ گھڑ سوار شیطان نہیں بلکہ کسان کی بیوی تھی جو آدمیوں کے کپڑے پہنے ہوئے تھی“۔
”کیا تمہیں یقین ہے؟ “ شیر نے پوچھا۔
”بالکل۔ اور میرے آقا کی آنکھیں سورج کی وجہ سے بند نہ ہو گئی ہوتیں تو وہ خود بھی اس گھڑ سوار کی چٹیا دیکھ لیتے“۔ گیدڑ بولا۔

”کیا ضمانت ہے کہ تم سچ بول رہے ہو؟ میں نے خود اپنی آنکھوں سے اس شیطان نما گھڑ سوار کو دیکھا ہے“ بزدل شیر نے سوچ میں پڑتے ہوئے کہا۔
”ڈرتا کون کم بخت ہے؟ میرے ساتھ آئیں اور ایک عورت کی وجہ سے اپنا کھانا نہ گنوائیں“۔ گیڈر بولا۔

”ہو سکتا ہے کہ تمہیں رشوت دی گئی ہو کہ تم مجھے مروا ڈالو“۔ شیر نے اسے شبے کی نظر سے دیکھتے ہوئے کہا۔
”ایسی بات ہے تو دونوں اکٹھے چلتے ہیں“ گیدڑ نے اسے تسلی دی۔

”ہو سکتا ہے کہ تم مجھے وہاں لے جاؤ اور پھر بھاگ نکلو“ شیر نے شبہ ظاہر کیا۔
”آپ ایسا کریں کہ اپنی دم سے میری دم باندھ دیں، پھر میں اکیلا نہیں بھاگ سکوں گا۔ “ گیدڑ نے شیر کو دلاسا دیا۔ اس کا بھوک سے برا حال تھا اور وہ بیل کے گوشت سے کسی قیمت پر محروم نہیں ہونا چاہتا تھا۔ شیر مان گیا، اس نے اپنی دم سے گیدڑ کی دم باندھی اور دونوں کھیت کی طرف چل پڑے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1195 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar