خان صاحب، خوش رہیئے، خوش رہنے دیجیئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ایک بھیانک حقیقت ہے کہ عشروں تک حکومت کرنے والوں کو چھوڑ دیا گیا ان سے تو کسی قسم کی باز پرس نہیں کی گئی۔ لیکن موجودہ حکومت کو تین ماہ بھی پورے نہیں کرنے دیے جارہے اور خان صاحب کا جینا حرام کردیا گیا ہے۔ جسے دیکھو سو دن کا راگ الاپ رہا ہے۔ لیکن سچ مانیے تو یہ آفت خان صاحب نے خود اپنے اوپر نازل کی ہے۔ وہ اتنے وعدے نہ کرتے اگر کر ہی لئے تھے تو بار بار سو روزہ پلان کا ایجنڈا عوام کے سامنے دہرانے کی ضرورت نہیں تھی نہ وہ خود اتنا واویلا کرتے نہ عوام ان سے اتنی توقعات وابستہ کرتے۔

تو نہ ان پر چڑھائی کی جاتی۔ حصولِ اقتدار کے بعد اگر خان صاحب خاموشی اختیار کر لیتے تو انھیں جناح کنوینشن سنٹر اسلام آباد میں تقریب منعقد نہ کرنا پڑتی اور نہ ہی اس میں حکومتی کارکردگی کو پیش کیا جاتا۔ نہ کٹوں، مرغیوں، انڈوں کا ذکر ہوتا نہ وزیر اعظم کا مذاق بنتا۔ جانے کیوں وہ ہر بار منہ سے کوئی نہ کوئی ایسی بات نکال دیتے ہیں جس پر عوام دنوں ہنستی رہے۔ ہو سکتا ہے یہ عوام کو خوشی دینے کا ایک طریقہ ہو نہ کہ حکومتی نا اہلی۔

اپوزیشن کو تو بس عادت ہوگئی ہے ہر بات پکڑ لیتے ہیں اب اگر حکومت مرغیوں، اور کٹوں پر سوار ہو کر معیشت ٹھیک کرسکتی ہے تو آپ کو کیا اعتراض۔ بھئی ہر ایک کا اپنا طریقہ ہوتا ہے ویسے بھی کسی بھی چیز کو حقیر نہیں جاننا چاہیے۔ ویسے اگر حکومت بھینسوں میں انٹرسٹڈ تھی ہی تو پھر وزیرِ اعظم ہاؤس کی بھینسیں بیچنے کی بھلا کیا تُک تھی؟ در حقیقت حکومت کے پاس پیش کرنے کو کچھ بھی نہیں تھا مگر انھیں تقریب منعقد کرنا پڑی۔

اسی لئے کہتے ہیں ایک چپ سو سکھ۔ حکومت کیا کر رہی ہے کیسے کر رہی ہے یہ خود حکومت کو بھی نہیں پتہ۔ ہر دوسرے دن بجلی، گیس، پٹرول کے بڑھتے نرخوں نے مہنگائی کے بڑھتے امکانات کو مزید روشن کر دیا ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ آئی ایم ایف کے در دولت پر حاضری لگوانے کے لئے ہمارا صدقہ نکالا جارہا ہے۔ اُن کی منشاء کے مطابق ماحول بنایا جا رہا ہے۔ مہنگائی سر پٹ دوڑتے گھوڑے پر سوار ہے یہ بات پرانی ہے تبدیلی آچکی سو ہم نے ترقی کر کے مہنگائی کو گھوڑے سے اتار کر راکٹ پر بٹھادیا ہے۔

اور یہ تیزی سے ”اپنی منزل“ کی طرف رواں دواں ہے۔ خان صاحب بار بار یاد کرواتے ہیں کہ کرپشن کے خاتمے تک ملک کا کوئی مستقبل نہیں یہ حقیقت ہے لیکن یہ بھی یاد رکھا جائے کہ دہائیوں کی کرپشن کا کینسر دنوں میں ٹھیک نہیں ہوسکتا تو پھر جلدی جلدی کا شور کیوں۔ ویسے بھی جلدی کام شیطان کا۔ خبر آتی ہے ڈالر مہنگا ہو گیا۔ ڈالر نے ہرنی سی قلانچ بھری اور 134 سے 144 پر چلاگیا۔ اگر ڈالر مہنگا ہو گیا تو عوام کیوں نڈھال ہو رہی ہے یہ کون سا ہماری کرنسی ہے ہم روپیہ استعمال کرتے ہیں ہماری بلا سے یہ 246 کا ہو جائے۔

جو لوگ کہتے ہیں ڈالر کے بڑھنے سے روپے کی قدر میں کمی ہوئی ہے تو وہ یہ دکھ چھوڑ دیں بہت سارے ممالک ایسے ہیں جہاں ہماری کرنسی بھی ڈالر کی طرح مہنگی ہے۔ روپے کی کمی کا رونا رونے والے ویت نام جاکر روپے کی قدر دیکھیں۔ ہمارا ایک روپیہ وہاں کے 215 کے برابر ہے۔ ہم لوگوں نے تو یونہی ہر بات پہ رونا عادت بنا لی ہے۔ بجلی جب سستی تھی تو روتے تھے ہم اس سے زیادہ سستی کریں گے۔ اب خود مہنگی کی ہے تو روتے ہیں کہ گذشتہ حکومت نے بجلی اور ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طریقے سے روک رکھا تھا۔

پہلی بات تو یہ کہ اگر بہتری کے لئے مصنوعی طریقے استعمال ہوتے ہیں تو کوئی ہرج نہیں کہ سبزیوں، مرغیوں کی بڑی پیداور بھی تو مصنوعی طریقے سے حاصل ہوتی ہے۔ آپ کو بجلی کی کم قیمت پر اعتراض تھا یا اس کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کرنے پر؟ مہنگائی سے عوام پریشان ہے جانے کیوں ہم نے ہر بات پر پریشان ہونا قومی فریضہ سمجھ لیا ہے ملک کی 98 %آبادی تو غریب ہے جو زیادہ تر دال اور سبزی پکاتی ہے۔ اب ایک کلو دال یا ایک کلو سبزی پر کتنی مہنگائی ہوگئی ہے ایک کلو دال پر اگر دس روپے بڑھ گئے تو کون سی قیامت آگئی۔

رونا تو انھیں چاہیے جنھیں پزا ہٹ میں جاکر دوہزار والا پزا تین ہزار میں خریدنا ہے ہم کیوں پریشان ہیں۔ بجلی کے بڑھنے پر بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ زیادہ قوم چھتوں پر سوتی ہے جو لوگ اے سی کے استعمال کی وجہ سے جوڑوں اور گھٹنوں کے درد میں مبتلا ہو رہے تھے ان کے جوڑ دوبارہ سے ٹھیک ہو جائیں گے۔ بجلی مہنگی ہوگی تو ہر کمرے سے ٹی وی بند ہو کر ہال میں لگے گا تو گھر میں ایک ساتھ بیٹھنے سے محبت بڑے گی، موبائل چارج نہ کرنے کی وجہ سے نوجوان جو انٹرنیٹ کے استعمال سے برائی کی طرف راغب ہو رہے ہیں پھر سے پارسا ہو جائیں گے۔

پٹرول مہنگا ہوگیا تو کوئی آفت نہیں آئی۔ ہر شخص ذاتی سواری ترک کر کے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرے گا تو ٹریفک کے مسلے سے جان چھوٹے گی، فضائی آلودگی میں کمی واقع ہوگی۔ اور پیدل چلنے کی وجہ سے ملک سے شوگر کا مرض بھی ختم ہو جائے گا۔ پتہ نہیں کیوں وزیر اعظم کو بار بار عوام کو تسلی دینا پڑتی ہے کہ گھبرائیں نہیں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ یہاں تو پہلے بھی سب ٹھیک ہی تھا۔ روپیہ بڑھے یا گرے عام عوام کا اس سے کوئی واسطہ نہیں یہ حکومت کا درد سر ہوتا ہے عام عوام ان باتوں سے گھبرا کر اپنا بلڈ پریشر بڑھانا چھوڑدے۔

بلکہ میں تو کہتی ہوں حکومت لگے ہاتھوں پرنٹ میڈیا کی طرح الیکٹرانک میڈیا کو بھی نکیل ڈال دے۔ اس نے پل پل کی خبریں دے کر عوام کو ایک ہیجان میں مبتلا کر رکھا ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ پیسے کی ناقدری کا شکوہ بھی چھوڑ دے۔ پیسہ تو ہاتھ کی میل ہے سو ”امپورٹڈ“ صابن سے ہاتھ دھو کر یہ میل اتار دیں دوسرا خاں صاحب کے وعدوں کو یاد کر کرکے گریہ زاری کرنے کی بجائے نارمل حالت میں آجائیں اور اپنے کام کریں بلکہ عوام کو چاہیے کہ وہ موجودہ حکومت کا مذاق اڑانے کی بجائے تسلی دے کہ بھلے اقتدار کی پر پیچ راہداریاں آپ کے لئے نئی ہیں لیکن ستر دہائیوں سے ہم ان راہداریوں سے گزرنے والوں سے آشنا ہیں۔

آپ اس کی بھول بھلیوں میں بھٹکیں نہیں، اس کی اندرونی سازشوں سے خائف بھی نہ ہوں کہ یہ جتنی بھی پر پیچ کیوں نہ ہوں اس میں داخل ہونے والے راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں اپنی منزل پالیتے ہیں اور عوام ان کا کچھ نہیں بگاڑ پاتے۔ ان کا جب بھی بگاڑا یا تو ان کے ذاتی خلیفوں نے بگاڑا یا پھر ذاتی حریفوں نے۔ عوام میں اتنی سکت نہیں کہ ہنٹر پکڑ کر ان سے جواب طلبی کریں۔ آپ بھی اقتدار سے پہلے کی گئی باتوں کا ذکر چھوڑ دیں قوم بھی بھول جائے گی۔ معاف کر دے گی جیسے روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے والوں کو معاف کر دیا جیسے قرض اتارو ملک سنوارو کے نعرے والوں کو معاف کیا۔ ویسے بھی ہم لوگ مرے ہوؤں پر مٹی ڈال دیتے ہیں۔ مرنے والوں کے گناہ کا ذکر کرنا گناہ سمجھتے ہیں کہ مرے ہوؤں پر کیا انگلی اٹھائیں۔ اور بیماروں کو معاف کرنے کا رحجان بھی عام ہے۔ اس قوم کا حوصلہ بہت بلند ہے یہ فوت شدگان اور فوت ہونے والوں، دونوں کو معاف کردیتی ہے۔ سو آپ بے فکر رہیں آپ کو بھی معاف کردیا جائے گا۔ بس اتنا خیال رکھیں کہ اب ان تکلیف دہ وعدوں کو مت دہرائیں جن کو آپ پورا نہیں کر سکتے یہ آپ کے بس کی بات نہیں لہذا پرانے وعدے یاد کر کر کے ہمارے زخموں کو ناسور مت بنائیں، اپنا مذاق بنوائیں نہ خود کو مشکل میں ڈالیں۔ جو کہا بھول جائیے آپ بس خود بھی خوش رہیں اور ہمیں بھی خوش رہنے دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •