کیا شفاف احتساب ممکن ہو سکے گا ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا پاکستان میں شفاف اور منصفانہ احتساب ممکن ہے ؟ یہ ایک ایسا بنیادی نوعیت کا سوال ہے جو ہمارے اہل دانش سمیت رائے عامہ تشکیل دینے والے افراد یا اداروں سمیت عام آدمی کی بحث کا موضوع ہے ۔ پاکستان کا ماضی احتساب کے حوالے سے کافی مایوس کن اور متنازعہ ہے ۔او ل یہاں کبھی احتساب ہوا نہیں ہے اور دوئم اگر کچھ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس میں سیاسی انجیرئنگ یا سیاسی انتقام کی بو زیادہ نمایاں نظر آتی ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ احتساب کے تناظر میں ایک مایوسی اور عدم اعتماد کی فضا ہے ۔فوجی حکمران ہو یا سیاسی یا جمہوری سب ہی طبقوں نے احتساب پر یا تو سمجھوتہ کیا یا اسے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف بطور سیاسی ہتھیار استعمال کیا ۔اس کا ایک عملی نتیجہ ملک میں کرپشن ، لوٹ مار ، مالی بدعنوانی اور زیادہ سے زیادہ ریاستی و حکومتی وسائل پر ڈکیتی کی صورت میں نکلا ہے۔
پاکستان کی سیاست اور اہل دانش سے جڑے افراد نے کمال ہوشیاری سے اس فکری مغالطہ کو تقویت دی کہ کرپشن اور مالی بدعنوانی کوئی بڑا مسئلہ نہیں اور آج کے سرمایہ دارانہ نظام میں اس سے چھٹکارا ممکن نہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں کرپشن کا ایک سیاسی جواز بھی پیش کیاجاتا ہے جو کرپشن پر مبنی سیاست کے پھیلاو کا سبب بنا ہے ۔مسئلہ سیاست دانوں تک محدود نہیں بلکہ سرمایہ داروں ، کاروباری طبقات، ججز، جرنیل، میڈیا سمیت تمام فریقین کسی نہ کسی شکل میں کرپشن اور بدعنوانی پر مبنی سیاست سے جڑے نظر آئے ۔یہ عمل بھی دیکھنے کو ملا کہ طاقت کے تمام مراکز یا فریقین کے درمیان کرپشن اور بدعنوانی پر ایک مضبوط گٹھ جوڑ بھی موجود ہے جو ایک دوسرے کی کرپشن کو چھپانے یا ان کو سیاسی اور قانونی تحفظ دینے کا سبب بنتے ہیں ۔
عمران خان کی حکومت کی بنیاد ایک مضبوط اور شفاف احتساب سے جڑی تھی ۔ عمران خان کا بنیادی نکتہ ہی اسی کرپشن اور بدعنوانی پر مبنی سے نہ صرف جڑا ہوا تھا بلکہ ان کی سیاسی مقبولیت کے پیچھے بھی یہ ہی نعرہ تھا ۔ لیکن عمران خان کے اقتدا رکے ایک برس بعد بھی احتساب کا عمل ہم کو وہ مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام نظر آتا ہے جس کا دعوی حکمران طبقہ اور چیرمین نیب نے کیا تھا۔اس وقت جو موجودہ احتساب کی لہر چل رہی ہے اس پر چار طرح کے بنیادی سوالات ہیں ۔ اول کیا وجہ ہے کہ نیب کی حراست میں موجود بڑے بڑے سیاسی مجرموں کے مقدمات منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکے اور ایک طویل عرصہ تک نیب کی جاری تفتیش کا عمل کوئی بڑا نتیجہ نہیں دے سکا۔ دوئم سارے احتساب کا زور ہمیں حکومت مخالف جماعتوں کی طرف نظر آتا ہے اور کیوں حکمران طبقوں سے جڑے کرپٹ افراد یا جن پر مختلف بدعنوانیوں کے الزامات ہیں وہ گرفتار نہیں کیے جاسکے ۔سوئم کیا وجہ ہے کہ خود چیف جسٹس کو موجودہ احتساب کے تناظر میں لفظ سیاسی انجیرئنگ کا استعمال کرنا پڑا ۔ چہارم حزب اختلاف اس سے جڑے اہل دانش کیونکر احتساب کو سیاست ، جمہوریت اور سیاسی نظام کے خلاف سمجھتے ہیں یا اس عمل کو اسٹیبلیشمنٹ ، عدلیہ ، نیب اور حکمران طبقہ کے باہمی گٹھ جوڑ سے جوڑتے ہیں ۔
یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ موجودہ احتساب کا عمل اگر متنازعہ بن رہا ہے تو اس کی وجہ اس میں سے یکطرفہ احتساب کا عمل نظر آتا ہے ۔ اگر جس تیز عمل سے حزب اختلاف کے لوگ گرفتار ہوئے ہیں اور یہ ہی عمل حکمران طبقوں کے اندر بھی جڑا نظر آتا تو اس احتساب کی موثر اور بہتر سیاسی اور قانونی ساکھ بن سکتی تھی ۔بدقسمتی سے یہ عمل حزب اختلاف کے اس نکتہ کو مضبوط بناتا ہے کہ نیب اور حکومت کا کہیں نہ کہیں باہمی گٹھ جوڑ ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو لوگ حزب اختلاف سے کرپشن اور بدعنوانی کے مقدمات میں پکڑے گئے ہیں وہ نہ تو نیک ہیں اور نہ ہی ان کی سیاست شفافیت پر مبنی ہے ۔ لیکن جب تک احتساب کا عمل دوطرفہ نہیں ہوگا لوگ اسے سیاسی انجیرئنگ کے ساتھ ہی جوڑکر حکومت مخالف نکتہ نظر کو ہی بنیاد بنا کر احتساب پر سوالات اٹھائیں گے۔
یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ جو بھی پکڑا جائے گا وہ کبھی بھی یہ تسلیم نہیں کرے گا کہ وہ کرپٹ یا بدعنوان ہے ۔ یقینی طور پر اس کی پہلی اور آخری ترجیح اسے سیاسی انتقام کے ساتھ ہی جوڑنے سے جڑی ہے ۔ ہمیں اس مفروضہ یا مغالطہ سے باہر نکلنا ہوگا کہ کڑے احتساب کا عمل ملک میں سیاست ، جمہوریت اور پارلیمنٹ کو کمزور کرنے یا ختم کرنے کا سبب بنے گا ۔ کیونکہ اب وقت ہے کہ ہمیں کرپشن اور بدعنوانی کا سیاست اور جمہوریت کے ساتھ جو باہمی گٹھ جوڑ ہے اسے توڑنا ہے ۔ کیونکہ اس گٹھ جوڑ نے نہ صرف کرپشن پر مبنی سیاست کو فروغ دیا بلکہ مجموعی طو رپر پورے سیاسی کلچر، نظام اور جمہوری عمل کو بھی کمزور بھی کیا اور بدنام بھی ۔بدقسمتی سے جب سیاسی قیادتیں یا بڑے سیاسی نام خود کرپشن اور بدعنوانی کی عملی سیاست سے جڑے ہوں تو پھر ان کی اپنی جماعتوں سے جڑے دیگر افراد یا دیگر فریقین کیسے خود کو کرپشن سے دور کرسکتے ہیں ۔سیاسی قیادت اور جماعتوں نے عملی طورپر کرپٹ لوگوں کو سیاسی تحفظ دے کر اچھے نظریاتی اور فکری لوگوں کو سیاسی عمل سے پیچھے دکھیل کر جمہوری عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا سیاسی ماضی احتساب کے نام پر سمجھوتہ ، سیاسی انجیرئنگ یا سیاسی انتقام سے جڑا ہے ، ان دونوں بڑی جماعتوں نے شفاف احتساب کے عمل کو بری طرح مفلوج کیا ۔موجودہ نیب کا خاتمہ نہ کرنا یا اس میں بہتر ترامیم نہ لانا اور ایسے چیرمینوں کا انتخاب جو ان کے سیاسی مفادات کو تحفظ دے سکے ، یہ سنگین جرائم ہیں جن میں یہ دونوں جماعتیں برابر کی حصہ دار ہیں ۔لیکن کیا تحریک انصاف بھی اسی جانب بڑھنا چاہتی ہے جہاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کھڑے تھے یا ہیں ۔کیونکہ تحریک انصاف اور ان کی اتحادی جماعتوں میں ایسے کئی لوگ موجود ہیں جو وزیر اعظم کو احتساب کے عمل سے ڈی ٹریک کرنے کا ایجنڈا رکھتے ہیں۔
جو لوگ بڑے پرجوش ہوکر یہ دلیل دیتے ہیں کہ اہل سیاست پر کرپشن کے الزامات محض سیاسی انتقام ہیں تو ان کو اس بات کی بھی ضرور اپنی سطح پر وضاحت کرنی چاہیے کہ اہل سیاست نے کیسے جائدادیں بنائیں اور کہاں سے ان کے پاس اتنی دولت آئی ۔اگر ان سے کرپشن کے تناظر میں سوالات پوچھے جائیں تو اس سے جمہوری نظام کو کیسے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں ۔ ہمیں ان تضادات سے باہر نکلنا ہوگا اور جو لوگ بھی احتساب کے تناظر میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی سمیت کسی کو بھی سیاسی ہتھیار کے طو رپر استعمال کرتے ہیں ان کا بھی کڑ احساب ہونا چاہیے ۔کیونکہ کرپٹ اور بدعنوان لوگوں کو جمہوریت کے ساتھ جوڑنا بھی خود جمہوریت دشمنی کے زمرے میں آتا ہے ۔اگر یہ لوگ سمجھتے ہیںکہ یہ کرپٹ نہیں تو اس جواب بھی ان کو عدالتوں کو ہی دینا ہے اور ان ہی عدالتوں نے ان کے حق یا مخالفت میں فیصلہ کرنا ہے ۔کیونکہ ہمارا سیاسی نظام داخلی احتسابی نظام پر نہ تو یقین رکھتا ہے اور نہ ہی اس سے جڑا کوئی نظام بنایا گیا ہے ۔
بے نامی جائدادیں ، منی لانڈرنگ ، ناجائز ذرائع آمدنی ، آمدن سے زیادہ اثاثے، بے نامی اکاونٹس، ملازمین کے نام پر جائدادیں ،ظاہر نہ کرسکنے والے اثاثہ جات جرائم ہیں اور ہمیں ان کو جرائم ہی کے تناظر میںلینا چاہیے ۔اگر مسئلہ نیب یا عدالتوں کا ہے تو اس میں جو خرابیاں ہیں ان کے خاتمہ یا ترامیم پر ضرور بات ہونی چاہیے اور پارلیمنٹ کی مدد سے نئی قانون سازی بھی کی جانی چاہیے ۔لیکن احتساب کے خاتمہ کی بات کرنا یا احتساب کو پس پشت ڈالنے کا ایجنڈا ہی جرائم پر مبنی سیاست کو طاقت فراہم کرنے سے جڑا ہے ۔وزیر اعظم یقینا اپنے سیاسی مخالفین کا احتساب کریں لیکن نیب کوبھی پابند کریں اور خود بھی آگے بڑھ کر اپنے اندر موجودان کالی بھیڑوں کو بے نقاب کریں جو احتساب کے عمل میں آتے ہیں ۔
وزیر اعظم عمران خان کو سمجھنا ہوگا کہ اگر انہوں نے بھی احتساب کے نظام کو ماضی کے حکمرانوں کی طرح متنازعہ بنایا تو پھر ان میں اور سابقہ حکمرانوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا ۔ وزیر اعظم کو آگے بڑھ کر حزب اختلاف کے اس تاثر کی نفی کرنی ہوگی کہ ان کے حامیوں کا احتساب نہ ہونے کی وجہ یا اس میں نیب کا سرگرم نہ ہونا خود حکومتی ایما پر ہورہا ہے ۔اسی طرح جن بھی حکمران طبقات کے لوگوں کے خلاف مقدمات چل رہے ہیں یا جن پر نیب میں سنگین نوعیت کے الزامات ہیں ان کو کسی بھی طور پر حکومتی عہدہ کا حصہ دار نہ بنایا جائے اور پابند کیا جائے کہ جب تک وہ اپنے خلاف الزامات غلط ثابت نہیں کرتے وہ حکومت کا حصہ نہیں بن سکتے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •