کرمان کے ایک بچے کا سفرنامہ اصفہان
اکبر آغا اور فضل اللہ دونوں سو گئے لیکن مجھے نیند کہاں آتی۔ آخر سورج طلوع ہونے کے آثار نظر آنے لگے۔ میں نے آسمان پر ستاروں کی طرف دیکھا۔ صبح کی سفیدی آہستہ پھیلنے لگی تھی۔ چنانچہ سفرنامے کے پانچ چھ صفحے اصفہان کے آسمان اور ستاروں کے بارے میں لکھے۔ جب سورج طلوع ہوا تو میں نے اکبر آغا کو ڈھونڈا۔ وہ ٹرک کے سامنے ایک تختے پر سو رہے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے انہیں جگایا کہ اب اصفہان کی سیر کرنے چلیں۔ اکبر آنکھیں ملتے ہوئے ناگواری سے بولے، ”تم سوئے نہیں۔ “
”اکبر آغا! یہ اصفہان ہے۔ یہاں بندے کو نیند کیسے آ سکتی ہے۔ یہاں تو دیکھنے والی بہت سی جگہیں ہیں۔ مسجد لطف اللہ، چہار باغ، چہل ستون۔ “
میری بات کے بیچ میں ہی بولے، ”تمہیں ساتھ لا کر بہت غلطی کی ہے۔ دیکھو! اگر ابھی تک کہیں نہیں گئے ہو تو اکیلے جانا بھی مت۔ گم ہو جاؤ گے۔ میں تمہاری بی بی کو کیا جواب دوں گا۔ “
میں فضل اللہ کے پاس پہنچا۔ وہ ٹرک پر سو رہا تھا۔ اس کے خراٹوں کی آواز فضا میں پھیلی ہوئی تھی۔ اسے جگانے ہوئے مجھے ڈر لگا۔ سفرنامے میں اکبر اور فضل اللہ کی بدخلقی کے بارے میں لکھا۔ یہاں تک کہ ورکشاپ کھل گئی۔ اکبر آغا ٹرک کو ورکشاپ کے قریب لے آئے اور کاریگروں سے سلام دعا کرنے لگے۔ پھر ہم نے ناشتہ کیا۔ اکبر آغا نے مکینکوں والے کپڑے پہنے۔ فضل اللہ اور دوسرے کاریگروں کو ساتھ لے کر ٹرک کے نیچے گھس گئے۔
میں سفرنامے کو ہاتھ میں پکڑے وہیں بیٹھا رہا۔ ورکشاپ سے باہر نکلنے کو میرا جی نہ چاہا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں گم نہ ہو جاؤں، اکبر آغا مجھے اکیلے شہر نہیں جانے دینا چاہتے تھے۔ اکبر آغا نے دیکھا کہ میں فارغ ہوں اور ٹرک کے گرد بے مقصد چکر لگا رہا ہوں، تو مجھے آواز دی کہ میں یا تو آ کر ان کی مدد کروں یا پھر ایک جگہ بیٹھ کر کتاب لکھوں۔
آخر میں بیٹھ کر سفرنامہ لکھنے لگا۔ ایک کاریگر سے، جو پیچ کھول رہا تھا پوچھا، ”آغا! یہ چہار باغ کیسی جگہ ہے؟ “
بولا، ”چہارباغ وہ جگہ ہے جس کا نام چہار باغ ہے“ اور پھر ہنسنے لگا۔ مجھے بڑی کوفت ہوئی۔ سفرنامہ پکڑا اور ورکشاپ کی دوسری طرف ایک ٹرک کے پاس بیٹھ کر لکھنے لگا: ”دنیا بھر سے لوگ اصفہان کے تاریخی مقامات کو دیکھنے کے لیے اس شہر میں آتے اور یہاں کی بہترین کاشی کاری کے نمونوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہاں کا موسم برا نہیں ہے۔ صبح کے وقت فضا تھوڑی تھوڑی سرد ہوتی ہے۔ لیکن جوں جوں سورج بلند ہوتا جاتا ہے، موسم گرم ہونے لگتا ہے۔ یہاں بہت سی ورکشاپیں ہیں۔ ان میں ایک میں نے خود دیکھی ہے۔ کرمان شہر میں اچھی ورکشاپیں نہیں ہیں۔ لہذا ٹرکوں کی مرمت کے لیے لوگ یہاں آتے ہیں۔
”ورکشاپ کے اردگرد گندے اور تیل سے اٹے ہوئے کپڑے پڑے ملتے ہیں۔ کاریگر خوش مزاج ہیں اور اچھا مذاق کرتے ہیں۔ یہاں کی چائے، قہوہ خانے سے بہتر ہے۔ قند بھی خوب ہے۔ شاید یہاں قند بنانے کا کارخانہ موجود ہے۔ “
میں لکھتا جا رہا تھا کہ ایک کاریگر ہاتھوں میں اوزار اٹھائے، میرے سامنے سے گزرا۔ میں نے پوچھا، ”آغا! چہل ستون کس طرح کی جگہ ہے؟ “
کہنے لگا، ”چہل ستون کے بیس ستون نہیں ہیں۔ پتا نہیں اب بھی لوگ اسے چہل ستون کیوں کہتے ہیں۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ “
دوپہر ہو چکی تھی۔ اکبر آغا کا کام ابھی مکمل نہیں ہوا تھا۔ میرا حوصلہ جواب دینے لگا۔ ورکشاپ کے ارد گرد جو کچھ بھی نظر آتا سفرنامے میں درج کرتا رہا۔ دو بجے ورکشاپ کے ساتھ موجود قہوہ خانے میں دوپہر کا کھانا کھایا۔ وہاں پر بھی سفرنامہ لکھتا رہا:
”اصفہان کے کھانے خوش ذائقہ ہیں۔ گوشت وافر ہے اور چونکہ یہاں اناج بکثرت ہوتا ہے، اس لئے چنے، دالیں اور آلو زیادہ پائے جاتے ہیں۔ اصفہان کا پانی اچھا نہیں۔ تھوڑا تھوڑا کھارا ہے۔ بالکل ویسا ہی جیسا کہ کرمان میں ہمارے کنویں والا پانی ہے۔ لیکن کرمان میں حسین آباد کی طرح کا میٹھا اور خوش ذائقہ نہیں ہے۔ کھانا کھانے کے بعد ایک گلاس پانی پی کر مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے۔ ایک ابلا ہوا آلو میں نے اپنی جیب میں ڈال لیا ہے تاکہ عصر کے وقت کھا سکوں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اصفہان میں کافی غذائی اجناس ہیں۔ “
دوپہر کے بعد مجھے یہ خیال آیا کہ ٹرک کے اوپر چڑھ کر شہر کو دیکھوں۔ یہ ایک عمدہ خیال تھا۔ سفرنامہ اور جغرافیہ کی کتاب اٹھائی اور آہستہ آہستہ، بلی کی طرح دبے پاؤں اکبر آغا کے ٹرک پر چڑھ گیا اور بیٹھ کر شہر کی طرف دیکھا اور یوں لکھا:
”میں ٹرک پر بیٹھا ہوا ہوں۔ گرمیوں کا سورج پوری شدت سے چمک رہا ہے۔ اس کی تپش سے میری گردن کی جلد جلنے لگی ہے۔ اصفہان میں بڑے بڑے درخت ہیں جو کہ مناروں اور گنبدوں کے نقش و نگار والے منظر کو گھیر لیتے ہیں۔ ان درختوں کے درمیان سے کچھ مینار اور ایک گنبد نظر آ رہے ہیں۔ گنبد نیلے رنگ کا ہے۔ بڑا اور کالی چونچ والا ایک کوا درخت پر آن بیٹھا ہے۔ اس نے گنبد کے اس منظر کو گھیر لیا ہے۔ اگر یہ کوا اڑے تب ہی گنبد زیادہ واضح نظر آئے۔ ’عالی قاپو‘ کی عمارت نظر نہیں آرہی ہے۔ یہاں سے ’سی و سہ پل‘ بھی نظر نہیں آ رہا۔ ارے ہاں! کوا اڑ گیا ہے اور اب گنبد زیادہ واضح نظر آ رہا ہے۔ “
نیچے سے اکبر اور کچھ دیگر کاریگروں کے ہنسنے کی آواز بلند ہوئی۔ اکبر آغا نے اونچی آواز میں کہا، ”مجید خان! کیوں خود کو مشکل میں ڈالا ہوا ہے؟ دائی جان اس گرمی میں اوپر بیٹھ کر کتاب لکھ رہے ہو۔ بیمار ہو جاؤ گے۔ “
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


