کرمان کے ایک بچے کا سفرنامہ اصفہان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریر: ہوشنگ مرادی کرمانی۔
ترجمہ: عارف بھٹی۔
ہوشنگ مرادی کرمانی کا تعلق ایران سے ہے۔ وہ بچوں کے مقبول ادیب ہیں۔ ان کی کتابوں پر کئی مشہور فلمیں اور ٹی وی سیریز بنائے جا چکے ہیں۔ یہ کہانی ان کے ایک مقبول کردار ”مجید“ کے سفرنامہ اصفہان کے بارے میں ہے۔

قصہ کچھ یوں شروع ہوتا ہے کہ اُس روز رات ڈھلتے ہی، میری دادی ’بی بی‘ اور میں نے اکبر آغا کے گھر جانے کا ارادہ کیا۔ اکبر آغا ٹرک ڈرائیور ہیں۔ ان کی بیوی فاطمہ، کچھ دنوں سے بیمار تھی۔ ہم نے کچھ پھل خریدے اور ان کے گھر عیادت کرنے پہنچے۔
ہم کمرے میں بیٹھے تھے اور ہمارے سامنے انگور اور چائے رکھے تھے۔ ہر کوئی باتیں کر رہا تھا۔

اکبر آغا، بندرعباس کے سفر سے لوٹے تھے۔ وہ اس سفر کی روداد سنا رہے تھے۔ رستے کی حالت، وہاں کے لوگوں کے بارے میں، سمندر کا حال احوال، مچھلیوں کے بارے میں، ساحل سمندر کی آب و ہوا کے بارے میں، مسلسل بولنے سے ان کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔ میں ان کی باتیں سن رہا تھا اور اپنے چھے حواسوں کے ساتھ ان کی باتوں میں گم ہو چکا تھا۔ وہ بات کر رہے تھے اور میں اپنی آنکھوں سے وہ سب دیکھ رہا تھا۔ گویا میں اس کمرے میں موجود ہی نہ ہوں۔

میں نے خود کو اُن کی جگہ رکھا۔ ان کی ہر بات کے ساتھ، ہر خیال کے ساتھ، میں بندرعباس پہنچا ہوا تھا۔ میں گھوم پھر رہا تھا اور جو کچھ وہ بتا رہے تھے اچھی طرح سے دیکھ رہا تھا۔ جب وہ رکتے، اپنے منہ میں انگور رکھتے، چائے کا ایک گھونٹ بھرتے، تب مجھے پتا چلتا کہ میں تو کمرے میں بیٹھا ہوا ہوں۔

میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں اکبر آغا کی جگہ ہوتا۔ اور پہاڑوں، میدانوں، صحراؤں، شہروں اور دیہاتوں کی اچھی طرح سے سیر کرتا۔ پھر انگور اور چائے کے ساتھ لوگوں کو اپنے سامنے بٹھا کر، اپنے سفر کی روداد سناؤں۔ اصل میں مجھے سفر کی رودار سنانا بہت پسند ہے۔ بی بی، اللہ اسے غریق رحمت کرے۔ ایک بار تقریباً تیس سال پہلے اپنے رشتے داروں اور گدھے کے ہمراہ مشہد کی زیارت کرنے گئی تھی۔

اپنے سفر کے بارے میں، بارگاہ ضامن آھو کے صحن، میناروں، سقہ خانہ اسماعیل طلائی، مشہد کے پر ہجوم بازاروں، مسافر خانے اور وہاں دیکھی ہر چیز کے بارے میں ہر بار یوں سناتی گویا پہلی بات سنا رہی ہو۔ میں محوِ حیرت اور سراپا گوش ہو جاتا۔ نہ وہ سناتے ہوئے تھکتی اور نہ میں سنتے ہوئے۔ میں کبھی کبھار رات کو خواب میں خود کو سفر کرتے ہوئے دیکھتا ہوں اور پھر اگلی صبح، بیدار ہونے کے بعد اس سفر کی روداد سنانے لگتا ہوں۔

بہرحال، اکبر اغا کی گفتگو جب آہستہ آہستہ اختتام کو پہنچی تو میں نے کہا، ”اکبر آغا! آپ تو بہت خوش قسمت ہیں۔ آپ کے پاس گاڑی ہے اور ہر جگہ گھومتے ہیں۔ کاش آپ کی جگہ میں ہوتا تھا۔ “
میری یہ بات سن کر ان کی بیوی فاطمہ بولی، ”اکبر! ایک بار مجید کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤ۔ سفر سے ہی سمجھ بوجھ بڑھتی ہے۔ “

اکبر آغا نے میری طرف دیکھا اور کہا، ”اچھا۔ کل ہی مجھے اپنا ٹرک ٹھیک کروانے اصفہان جانا ہے۔ اگر بی بی اجازت دے تو میں اسے بھی اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔ گرمیوں کی چھٹیاں ہیں اور یہ فارغ بھی ہے۔ “

اکبر آغا کی بات مکمل ہوتے ہی میں اٹھا اور بی بی کے قدموں کے میں جا پڑا اور کہا، ”مجھے جانے کی اجازت دے دیں۔ لوٹتے ہوئے آپ کی لئے کوئی سوغات بھی لاؤں گا اور ساری روداد بھی سناؤں گا کہ کہاں کہاں گیا اور کیا کیا دیکھا۔ بلکہ جو دیکھوں گا اسے لکھ لوں گا۔ یہ ایک سفرنامہ بن جائے گا اور پھر یہ سفرنامہ آپ کو سنایا کروں گا۔ “

بی بی نے کچھ لمحے سوچنے کے بعد کہا، ”ٹھیک ہے۔ چلے جاؤ۔ “
پھر میں نے اکبر آغا سے کہا کہ مجھے ساتھ لیے بغیر مت جانا۔ وغیرہ وغیرہ۔

بہرحال، بات پکی ہو گئی کہ اگلے دن ہم کوچ کریں گے۔ اکبر آغا ٹرک کو ورکشاپ میں ٹھیک کروانے کے لئے کھڑا کریں گے اور میں اصفہان میں ہر جگہ گھوم پھر کر تاریخی عمارتوں اور سڑکوں کو اچھی طرح سے دیکھ لوں گا۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے، اگلے دن اصفہان جانے کی خوشی میں، اس رات مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔ میں کبھی جغرافیہ کی کتاب کھول کر اس میں جہاں اصفہان اور اس کے تاریخی مقامات، دریاؤں، پہاڑوں، آبادی، آب و ہوا، زرعی پیداوار، کارخانوں، دستکاری، قالین سازی، گاوخونی تالاب اور چاندی پر ہونے والی کندہ کاری کے بارے میں لکھا تھا، نہایت اشتیاق پڑھنے اور یاد کرنے لگا۔ میں اس طرح پڑھ رہا تھا جیسے مجھے کوئی امتحان پاس کرنا ہو۔

میں نے ایران کا نقشہ، جغرافیہ کی کتاب سے پھاڑ کر دیوار پر چپکایا۔ اس میں اصفہان تلاش کیا اور انگلیوں اور آنکھوں کے ساتھ نقشے پر کرمان سے سفر شروع کرتے ہوئے رفسنجان، یزد سے ہوتے اردکان پہنچا اور وہاں سے گزر کر اصفہان جا کر اتر گیا۔ نقشے پر حرکت کے دوران، سڑک کے پیچ و خم سے گزرتے ہوئے، میں منہ سے ٹرک کی آواز نکال رہا تھا کہ بی بی کو غصہ آیا اور اچانک آواز بلند ہوئی، ”بس کرو، اب سو جاؤ، صبح بہت سے کام کرنے ہیں۔ “

لیکن مجھے اپنا ہوش کہاں تھا۔ میں تو اصفہان کی فضاؤں میں پہنچا ہوا تھا۔ ’عالی قاپو‘ ، ’منار جنبان‘ ، ’چہل ستون‘ کی خوبصورتی کو سراہ رہا تھا اور ان کی تصاویر جغرافیہ کی کتاب میں ڈھونڈ رہا تھا۔ بی ہی سو چکی تھی اور میں بھی آہستہ آہستہ جغرافیہ کی کتاب کھولے وہیں سو گیا۔

بی بی نے مجھے مرغے کی بانگ کے ساتھ اٹھایا۔ میرا سامان باندھا۔ میں بھی اس دوران فارغ نہ بیٹھا۔ ناشتہ کیا۔ سائیکل پر سوار ہو کر اپنے دوست، ہمسائیوں اور جتنے بھی جاننے والے تھے ان کو اس خبر سے آگاہ کرنے پہنچا۔ کوئی بھی اپنے گھر پر موجود نہیں تھا۔ لہٰذا ایک کاغذ پر یہ لکھ کر کہ ”مجید کی طرف سے جو اچانک اصفہان روانہ ہو رہا ہے، آپ اور آپ کے گھر والوں کو خدا حافظ کہنے آیا ہے۔ مجھ سے اگر کوئی غلطی کوتاہی ہوئی ہو تو بخش دیجیئے گا۔ “ اور دروازے کے نیچے سے اندر ڈال دیا۔
ظہر کی اذان تک ایک لمحہ بھی آرام نہ کیا اور یہ پیغام پہنچانے میں مصروف رہا کہ میں اصفہان جا رہا ہوں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •