ہوش کرو دوستو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں پاکستان اور دنیا بھر میں سول سپریمیسی، جمہوری رویوں، انسانی برابری اور یگانگت کا قائل ہوں۔ حُبِ جرنیل شاہی ہو، حُبِ عمران ہو، حُبِ نواز ہو یا حُبِ بھٹو میرے لیے پاکستان کے عوام کا اقتصادی مفاد اور آسودگی کا نمبر سب سے پہلے آتا ہے۔

میرا پاکستان ایک جغرافیائی منطقہ نہیں، میرے پاکستانی ہم وطن ہیں۔

عمران خان صاحب لاکھ ہینڈسم اور ہیرو بنیں اور جنرل باجوہ صاحب جرنیلی اختیار اور اس کی توسیع کی تڑپ میں خود کو ملک کا لاکھ خیرخواہ گِنوائیں، ان سب معاملات سے سے پہلے پاکستانیوں کی بہتری کے لیے نظر آتا کام ہونا چاہیے۔ اگر دونوں کو ایسا کوئی کام کرنا نہیں آتا ہے تو جنہیں یہ کام آتا ہے، ان سے پوچھ کر سیکھ لیں۔

ورنہ کرپٹ نواز شریف و زرداری اور آپ کے اس نئے سیٹ اپ میں فرق کیا ہوا۔ کام تو وہ ہے جو ہوتا ہوا نظر آئے۔ خالی باتوں سے کب پیٹ بھرتا ہے۔

خوشحالی تو وہ ہے جو کسی جرنیل یا پسندیدہ سیاستدان کا ذاتی خواب و مفاد نہیں ہو بلکہ عوام کی خوشحالی ہو۔ جو ملک کا جی ڈی پی اور فارن ایکسچینج بھارت سے اتنا تو مقابل لے آئے کہ کوئی بددماغ ہندوتوا کا پرچارک کسی امریکی صدر کے ساتھ ہمیں بدحال منگتا نہ کہہ سکے۔ ہمارے پاس پیسے ہوں، کھپت کی بڑی منڈیاں ہوں اور سیل کے لیے مناسب قیمت پر مطلوبہ اشیاء۔ تب ہمارے لیے بھی ریڈ کارپٹ بچھیں گے۔

بھلی حکومت تو وہ ہے جو کہ امریکہ، جاپان، جرمنی، فرانس، چائنہ یا برطانیہ کی طرح پاکستان کو مضبوط کاروباری اور معاشی طاقت بنا کر جلد از جلد بھارت کے برابر یا اس سے بھی آگے لے جائے۔

یہ کیا حکومت اور عسکری انتظام ہوا جو کہ پاکستانی قوم کو بدحالی اور اقتصادی بحران کہ دلدل میں دھکیل کر کشمیر اور پاکستانی حمیت کو نِت نئے قرضوں کے عوض بیچ رہا ہے اور سعودی، اماراتی امریکی، یا یورپی مفادات کی تھوڑی سی اجرت پہ دلالی کر رہا ہے۔

جو نت نئی عسکری ڈکٹرائنز بنا کر پاکستان کو ذلالت، معاشی میلٹ ڈاؤن اور ناکامی کے گڑھے میں گہرے سے گہرا دھکیل رہا ہے اور اس ناکامی کا سارا ملبہ ماضی کے سیاستدانوں پر ڈال رہا ہے۔ بھئی اب تو سب کچھ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ بازیاب کریں چوروں سے سب سارا مال دعووں کے مطابق۔

اپنے اقتدار کے حصول اور اس کی کی طوالت کے لیے مغرب و عرب کے آقاؤں کے حکم پر چین سے بلاوجہ کی مخاصمت پال کر ڈیڑھ سال پہلے تک تیزی سے حجم میں بڑھتی ہوئی پاکستانی معیشت کو سکیڑتے نظر آتے عسکری اور عمرانی گروہ نے لوگوں کو خواب بہت مہنگے کر کے بیچے ہیں۔ انہیں اب کچھ نہ کچھ تو ایسا ڈیلیور تو کرنا ہو گا جس کا اقرار پاکستانی عوام ہی نہیں ساری دنیا کرے۔

لوگ مودی جیسے مسلم اور پاکستان دشمن کے طعنوں سے دل گرفتہ ہو کر رفتہ رفتہ جان رہے ہیں کہ دفاع کے ساتھ ساتھ آزاد اور خومختار ریاستِ پاکستان کے جھنڈے تلے عوامی خوشحالی، دولت اور معاشی طاقت کا حصول بہت ضروری ہے۔

خوشحالی اور اطمینان وہ ہے جس کا کوئی عسکری اور عمرانی بھونپو نہیں بلکہ راہ چلتا شخص اقرار کرے۔ جس سے صنعت، روزگار، ماہر افرادی قوت اور عوام کی مجموعی قوتِ خرید بڑھے۔ جس سے لوگوں کی کوالٹی آف لائف بہتر ہو اور سب سے بڑھ کر آپ سے اختلافِ رائے پر کسی کو غدار یا ملک دشمن نہ کہا جائے۔ جہاں جج فیصلوں میں مکمل آزاد ہوں اور جج جن کے پیشِ نظر صاحب اقتدار کی خیرخواہی نہیں بلکہ عوام کی مجموعی خوشحالی ہو۔

پاکستان کی عزت اس کے لیڈروں کی واشنگٹن ڈی سی ایمبیسی، وائٹ ہاؤس اور پینٹاگان میں لی گئی پر اعتماد تصویریں نہیں بلکہ پاکستان کی عزت تو پاکستان کی شہ رگ اور پاکستانیوں کی امنگوں کا عالمی سطح پر احترام و احساس ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اب پاکستان میں ستر سال سے ریاستی زبردستوں کے اعمال اور ان کے نتائج پر بات ہونی چاہیے۔ سب ایشوز پر اختلافِ رائے کی گنجاش ہونی چاہیے۔ بس جب قوم کا جینوئن نصب العین ہو تو وہاں سب اختلاف بھلا کر اکٹھا ہو جانا جائے۔

رہے میرے بھارت سے الفت رکھتے چند پاکستانی دوست، تو میں ان پر یہ واضح کر دوں کہ ہندوستان کی تقسیم ضروی تھی۔ امن یک طرفہ نہیں ہوتا اور نہ ہی جذبہِ خیر سگالی کا اظہار یک طرفہ ہو سکتا ہے۔

آج بھارت کا سو فیصد نہیں تو ستر سے اسی فیصد ہندو، مسلمانوں، پاکستانیوں اور کشمیریوں سے اپنی نفرت کا برملا اظہار کر رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کے خلاف بھارتی موقف اور بھارتی پراپیگینڈہ کی حمایت کیسی؟

یار پاکستانی بن جاؤ۔ ہندوستان نے تو ابھی تک عدنان سمیع خان کو قبول نہیں کیا تمھیں یا مجھے کیا کرے گا۔

وہ تو پچاس ساٹھ سال پہلے بنگلادیش سے آسام آئے لاکھوں بنگالی مسلمانوں کی شہریت چھین کر انھیں کیمپوں میں بند کر رہا ہے۔ تو تم کس کھیت کی مولی ہو۔

اپنے گھر میں گڑبڑ ہے تو اسے سب کو ساتھ ملا کر ٹھیک کرو نہیں ہوتا تو بار بار کوشش کرو، غصہ جانے دو۔ اپنے وطن سے بغض کیسا۔ پاکستان کے پڑوسی بھارت کو ہندوتوا کا سخت بخار ہوا پڑا ہے۔ اس کی نفرتوں سے بھری غلاغت کو تبرک بنا کر منہ پر کیوں ملتے ہو۔ پاکستان میں رہو گے یا دنیا میں کہیں بھی جاؤ گے پاکستانیت کے بغیر تمھاری کوئی قابلِ قدر پہچان نہیں ہو گی۔

میں نے امریکہ میں صدیوں سے آباد افریقہ سے لائے گئے سیاہ فاموں کو اپنی روٹس کے لیے بیتاب اور آبدیدہ دیکھا ہے۔ تم کیوں خود کو اور پاکستان کے لوگوں کو بدمزہ سی بھارت نوازی بیچتے ہو جبکہ ہندوستان کا ہندو تمھاری تیسرے درجے کی شودر پہچان سے زیادہ کسی پہچان پہ کبھی راضی نہیں ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •