پاکستان انگریزوں کی سازش نہیں سے بنا تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

‘ہم سب ‘ پر 18 ستمبر 2019 کو مرحوم پیر مردان علی شاہ صاحب پگاڑا کا ایک پرانا انٹرویو شائع ہوا جس کا عنوان تھا “پاکستان انگریزوں نے بنایا تھا: پیر صاحب پگاڑا”۔ اس انٹرویو میں مندرجہ ذیل دعوے پیش کئے گئے تھے

1۔ پاکستان انگریزوں نے بنوایا تھا کیونکہ وہ مسلمانوں کی خدمات کے عوض انہیں نوازنا چاہتے تھے۔

2۔ یہ فیصلہ 1940میں قرارداد پاکستان منظور ہونے سے بہت پہلے ہو چکا تھا۔

3۔ مرحوم خان عبد الولی خان صاحب نے برٹش لائیبریری سے وہ کاغذات حاصل کئے تھے جن سے یہ بات ثابت ہوتی تھی۔ [اس کا تفصیلی ذکر خان عبد الولی خان صاحب نے اپنی کتاب Facts are Factsمیں کیا تھا] اور انہوں نے اس کی فوٹو سٹیٹ ضیاء الحق صاحب کو بھی بھجوائی تھی۔

اُس وقت لارڈ لنلتھگو ہندوستان کے وائسرائے تھے اور لارڈ زیٹلینڈ برطانوی کابینہ میں وزیر ہند تھے۔ جب 1940 میں قرارداد پاکستان منظور کی گئی تو ان دونوں کے درمیان دوسرے امور کے علاوہ اس بارے میں بھی خط و کتابت ہو رہی تھی۔ مکرم خان عبد الولی خان صاحب نے اپنی کتاب میں اس خط وکتابت کا حوالہ دیا تھا۔ خاکسار نے اس کتاب کو پڑھ کر خود برٹش لائیبریری لنڈن جا کر وہاں کاغذات کا جائزہ لیا تھا۔ اور بعد میں خاکسار کی ٹیم نے ان خطوط کی کاپی برٹش لائیبریری سے حاصل کر کے بھجوا دی تھی اور اب ان کا ریکارڈ میرے پاس موجود ہے اور کوئی بھی لنڈن کی برٹش لائیبریری سے ان کاغذات کو حاصل کر سکتا ہے۔ اس بارے میں زیادہ اہم وہ خط ہیں جو کہ وائسرائے نے 5 مارچ اور 12 مارچ 1940 کو لکھے تھے، اور وہ خط بھی اہم ہیں جو وزیر ہند نے وائسرائے ہند کو6 ، 8 اور 20 مارچ 1940 کو لکھے تھے۔ یعنی یہ خط و کتابت قرارداد پاکستان سے چند ہفتے قبل کی ہے۔ معین حوالے درج کرنے سے قبل ان خطوط کی روشنی میں بنیادی نکات پیش خدمت ہیں۔

1 اگر پاکستان انگریزوں نے بنایا تھا اور یہ فیصلہ قرارداد پاکستان سے بہت پہلے ہو چکا تھا تو کم از کم یہ راز اُس وقت وائسرائے ہند اور برطانیہ کے وزیر ہند کو نہیں پتا تھا۔ یہ بات حیرت انگیز ہے کہ یہ سنسنی خیز راز سندھ میں پیر صاحب پگاڑا کو 12 سال کی عمر میں کس طرح پتہ چل گیا جبکہ اُس وقت وائسرائے ہند اور وزیر ہند اس سے بے خبر تھے۔

2۔ اس وقت مسلمانوں میں علیحدہ ملک کا خیال پیدا ہو رہا تھا اور انگریز حکمران اس نظریے کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔

چند مثالیں پیش ہیں۔ 5 مارچ 1940کو وائسرائے ہند لارڈ زیٹلینڈ کو لکھتے ہیں:

We have, finally to deal with Jinnah’s letter of 24th February of which I have telegraphed the text to you, and which again states very categorically that the Muslims would not be prepared to acquiesce in a constitutional scheme imposed on them without their consent.

ترجمہ : جیسا کہ میں نے جناح کے 24 فروری کے لکھے ہوئے خط کا متن آپ کو تار کے ذریعہ بھجوایا تھا۔ ہمیں بالآخر اس مطالبہ سے نمٹنا پڑے گا کیونکہ انہوں نے پھر واضح طور پر لکھا ہے کہ مسلمان کسی ایسے آئینی سکیم کو قبول نہیں کریں گے جو ان کی مرضی کے بغیر بنائی جائے گی۔

مارچ 1940کے شروع تک برطانوی حکومت تک یہ خبریں پہنچ چکی تھیں کہ مسلم لیگ بر صغیر کی تقسیم کا مطالبہ کرے گی۔ اور برطانوی حکومت اس تجویز کے بالکل حق میں نہیں تھی۔ چنانچہ 6 مارچ کو وزیر ہند لارڈ زیٹلینڈ نے وائسرائے ہند لارڈ لنلتھگو کو خط میں لکھا:

In paragraph 12 of your letter you refer to the conversation that took place between Hallet and Chaudri Khaliq-uz-Zaman and you were good enough to send me a record of the talk. I read it with much interest and I agree with you that the suggestion put forward for three Indian dominions is very far from being convincing.

ترجمہ: آپ نے اپنے خط میں اس گفتگو کا ذکر کیا ہے جو کہ ہیلٹ اور چوہدری خلیق الزمان کے درمیان ہوئی اور آپ نے اچھا کیا کہ اس کا ریکارڈ مجھے بھجوا دیا۔ میں نے اسے بہت دلچسپی سے پڑھا۔ اور میں آپ سے متفق ہوں کہ ہندوستان کو تین ریاستوں میں تقسیم کرنے کی تجویز ہر گز اس قابل نہیں کہ قائل کر سکے۔

ملاحظہ کریں کہ مارچ 1940 تک تو برطانوی حکومت کے عہدیدار تقسیم ہند کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنے کو بھی تیار نہیں تھے لیکن اس کے باوجود یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ تقسیم ہند اصل میں انگریزوں کی سازش تھی۔ اور یہ سازش قرارداد لاہور سے بہت پہلے تیار ہو چکی تھی۔

اس وقت برطانوی حکومت ہندوستان کی مختلف جماعتوں کے قائدین سے آراء طلب کر رہی تھی۔ اور اُس وقت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے جو کہ ہندوستان کی کابینہ میں تھے ایک میمورنڈم وائسرائے کو بھجوایا تھا۔ یہ میمورنڈم 23 جنوری 1982 کے پاکستان ٹائمز میں شائع ہو چکا ہے۔ جس طرح قرارداد پاکستان میں تجویز پیش کی گئی تھی کہ ہندوستان کے مغربی اور مشرقی حصہ میں علیحدہ ریاستیں بنائی جائیں، اس میمورنڈم میں بھی یہی تجویز پیش کی گئی تھی۔ اور یہ میمورنڈم قرارداد لاہور سے قبل وائسرائے کو مل چکا تھا۔ وائسرائے نے یہ میمورنڈم وزیر ہند کو بھجوایا اور اس کے بارے میں 12 مارچ کو وزیر ہند کو لکھا کہ یہ ایک انتہائی نقطہ نظر ہے۔ اور لکھا کہ اس کی کاپیاں جناح اور حیدری کو بھی مل چکی ہیں اور وائسرائے کا خیال تھا کہ اس قسم کی تجویز مسلم لیگ کے اجلاس میں پیش ہو گی۔ اور پھر تقسیم ہند کی تجویز کے بارے میں لکھا :

I cannot claim even yet to have had time to absorb it fully, and I would prefer to comment on it later. But it is a substantial and trenchant piece of work, and I shall be greatly interested in your own reaction to it.

ترجمہ: میں یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ مجھے اتنا وقت ملا ہے کہ میں اسے پوری طرح سمجھ سکوں۔ اس لئے میں اس پر بعد میں تبصرہ کروں گا۔ یہ ایک خاطر خواہ اور پُر جوش دستاویز ہے اور میں چاہوں گا کہ آپ اس پر اپنی رائے دیں۔

جس وقت قرارداد لاہور منظور کی جا رہی تھی تو انگریز حکمران ابھی اس تجویز کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے اور ایک دوسرے سے اس بارے میں رائے مانگ رہے تھے۔ ان حقائق کی موجودگی میں یہ بات غلط ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ اُن کی سازش سے ہو رہا تھا۔

اس سے قبل بھی 5 مارچ والے خط میں وائسرائے نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے اس نوٹ کا ذکر کیا تھا۔ اور انہوں نے لکھا تھا کہ عموماَ چوہدری ظفر اللہ خان سمجھ اور توازن کی باتیں کرتے ہیں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ حالات کی خرابی کی وجہ سے وہ پریشان ہیں۔ اور وزیر ہند کو لکھا تھا کہ یہ تجویز ایک انتہائی نقطہ نظر ہے لیکن اس میمورنڈم میں ایسا مواد ہے جسے مسلمان اپنا موقف پیش کرتے ہوئے استعمال کریں گے۔

یہ حقائق بہت واضح ہیں۔ خان عبدالولی خان صاحب نے خطوط کا حوالہ دیا تھا ان کا ریکارڈ اس عاجز کے پاس موجود ہے۔ میں بہت ممنون ہوں گا اگر اس جملے کی نشاندہی کر دی جائے جس سے یہ نتیجہ نکالا جا رہا ہے کہ یہ تجویز انگریزوں نے سازش کر کے پیش کروائی تھی۔ ان خطوط سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ اس وقت تقسیم ہند کی تجویز کے خلاف تھے۔ تو ان حقائق کی موجودگی میں یہ کیوں نہ سمجھا جائے کہ اصل میں سازش یہ تھی کہ ہندوستان کو متحدہ صورت میں آزاد کیا جائے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •