مہاجر قوم کو ایک اور موقع دیا جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسکول کے امتحانات کازمانہ تھا میں اپنے کمرے میں بڑے زور وشور سے پیپر کی تیاری کررہی تھیں اتنے میں ٹی وی پہ ایک صاحب کی تقریر کرنے کی آواز کانوں میں پڑی۔ ایسی کشش تھی اس آواز میں کہ میں بے اختیار یہ دیکھنے کو اٹھ کھڑی ہوئی کہ یہ مقرر آخر ہیں کون؟ وہ تھے جناب الطاف حسین، مہاجروں کے روحانی باپ۔ بلاشبہ ان کا انداز اور ان کی گفتگو قابل رشک تھی۔ مجھے سن کر بہت اچھا لگا اس وقت تک کوئٹہ میں ایم کیو ایم کا کوئی وجود نہیں تھا لہذا انہیں سننے کے بعد دوبارہ ایسا کوئی موقع نہیں آیا کہ کوئی تعلق قائم ہوسکے۔

پڑھ لکھ کر فارغ ہوئے تو شادی کے مرحلے سے گزرے رخصت ہوکر کراچی آنا ہوگیا۔ کراچی آنے سے پہلے ہمارے خاندان پہ ایک درد ناک سانحہ گزرا۔ میر ے چچا سے گاڑی چھینے والوں نے انہیں بیچ سڑک پہ گولیاں مار دیں۔ پتا چلا یہ تو کراچی میں روز کامعمول ہے۔

انیس سو پچانوے میری شادی کا سال اور کراچی آمد۔

کراچی آنے کے بعد پتا چلا کہ کوئی آپریشن چل رہا ہے مہاجروں کے خلاف یہ سن کر مجھے اپنے اسکول کے زمانے میں سنی والی تقریر یاد آگئی اور میرے دل میں مہاجر قوم کے لئے ہمدردی پیدا ہوئی۔ خاتون ہونے کے ناتے میرا وقت گھرداری میں گزرا لیکن آئے روز کی ٹارگٹ کلنک، لوگوں کا لاپتہ ہونا یہ سب اخبار اور محلے والیوں سے پتا چلتا رہا۔ خدا خدا کر کے آپریشن اپنے اختتام کو پہنچا اور کراچی میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ سڑکیں پارک چائے کے ہوٹل کی رونقیں بتاتی تھیں کہ کراچی کی عوام ایک جبر مسلسل سے گزرے ہیں۔

شاید یہ سکون کراچی کی عوام بالخصوص مہاجر قوم کو راس نہیں آیا یا یوں کہ لیں کہ کچھ اختیارات ہاتھ آنے کے بعد بہت سے لوگ اپنی اوقات بھول گئے۔ لالچ اور ہوس زر نے انہیں وہ نظریہ بھلا دیا جس کے لئے الطاف حسین نے اپناگھر بار، اپنے بہن بھائی، اپنا ملک چھوڑا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ الطاف حسین نے مہاجر قوم کو ایک چھتری تلے جمع کیا ان کو شعور دیا لیکن کچھ بد خصلت لوگوں کو مہاجروں کایہ سکون برداشت نہیں ہوا اور پھر اس تحریک کودیمک لگ گئی۔

ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، لڑکیوں سے زور زبردستی شادیاں اور ناجانے کون کون سے ایسے کام جن سے صرف اور صرف ان کی جیبوں میں نوٹ بھرتے گئے۔ لندن میں الطاف حسین کو سب اچھا ہے کی رپورٹ دے دے کر کراچی کو یرغمال بنالیا گیا۔ عام چھوٹا ادنیٰ کارکن الطاف حسین سے رابطے کا تصور نہی کرسکتا تھا۔

افضاء الطاف کی سالگرہ ہو یا بھائی کا کوئی خطاب ایک ان دیکھا گھیرا الطاف حسین کے گرد نظر آتا تھا۔ مخصوص چکنے چہرے بے ڈھنگے لباس میں ملوث خواتین مرکز نگاہ ہوتی تھیں یہی وجہ بنی ہم جیسے سپورٹر اور مخلص کارکن پیچھے ہوتے گئے۔

کراچی میں بہت برا ہوا اس میں کوئی شک نہیں اور ناہی اس نقصان کا ازالہ کوئی کر سکتا ہے۔ یہ تو وقت نے احسان کیا کہ الطاف حسین کو اپنے آس پاس کے آستین کے چھپے سانپ نظر آگئے اور انہوں نے ان کے خلاف ایکشن لینا شروع کیا۔ تین بار رابطہ کمیٹی توڑی کارکنوں نے حجامت بنائی لیکن یہ مافیا اپنی جڑیں اتنے اندر تک مضبوط کرچکا تھا کہ مائنس الطاف کا فارمولا کامیاب کرنے کے لئے سرگرم ہوگیا۔

آج کراچی کی موجودہ حالت ایک ایسی اجڑی ہوئی بستی کامنظر پیش کرتی ہے جیسے کوئی بہت تیز آندھی سب کچھ اڑاکرلے گئی ہو۔ کتنے گھر ہیں جواپنے پیاروں کو ترس رہیں ہیں۔ کتنے بچے اپنی تعلیم سے محروم ہیں۔ بچیاں شادی کی عمر سے نکلی جارہی ہیں۔ آخر کب تک یہ سلسلہ چلے گا؟

بحیثیت ایک مہاجر کی بیٹی، بیوی اور ماں ہونے کے ناتے میں اپنی قوم کے درد سے غافل نہیں رہ سکتی۔ پچھلے پانچ سالوں سے اس اذیت سے میں خود گزر رہی ہوں۔ اپنے اور اپنے مہاجر قوم کے بچوں کے لئے اگر میں ایک ادنیٰ کوشش کرسکوں تو شاید میرا دل مطمئن ہوجائے۔

مانا مہاجروں سے غلطیاں ہوئیں، خون بہا، ظلم ہوا، وجہ کوئی بھی رہی ہو، لیکن اب ایسا اور نہیں ہونا چاہیے۔ کچھ لوگوں کی سزا پوری قوم کو نہیں ملنی چاہیے۔ الطاف حسین اپنی قوم کے قائد ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ اب قوم کوایک موقع ملناچاہیے کہ وہ اپنے قائد پہ لگے داغ دھو دے۔ یہ الگ الگ آزمائے ہوئے لوگوں کی ٹولیاں بنا دینے سے کراچی اور مظلوم مہاجر قوم کے مسائل کبھی حل نہیں ہوں گے۔

میں آج کے حالات اور معاملات کودیکھتے ہوئے الطاف حسین سے گزارش کرتی ہوں کہ وہ اپنے مخلص ساتھیوں کوموقع دیں اور کچھ دن ہی سہی پورا اختیار اپنے مخلص ساتھیوں کو منتقل کرکے کچھ دن آرام کریں۔ اور موقع دیں انہیں کہ یہ معافی مانگیں اپنی قوم سے کہ جو بھی ظلم کیاگیا۔

ریاست سے بھی اپیل کرتی ہوں کہ آپ بھی اچھی طرح سمجھ گئے ہیں کہ کراچی کے مسائل کاحل صرف مہاجر قوم کے پاس ہے۔ اس کی غلطیوں کو معاف کیجئے اور ایک موقع اور دیجیے۔ مجھے معلوم ہے کہ میں ریاست کی نظر میں غدار ہوں اور اس تحریر کے بعد تو مہاجر قوم کے ٹھیکیداروں کی لعن طعن بھی میری منتظر ہوگی، لیکن پھر بھی میں اپنی کوشش جاری رکھوں گی۔

مجھے امید ہیں کہ ان شاءاللہ حالات بہتر سے بہترین ہوں گے اور جب کراچی پرسکون ہوگا معاشی حالات بھی بہتر ی کی طرف جائیں گے۔ معاشی حالات بہتر ہوں گے تو باقی ملک بھی ترقی کی طرف کامزن ہوگا۔ اس سب کے لئے مہاجو قوم کو ایک موقع اور دیا جانا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •