انفرادی اور قومی تنزلی کی ایک بنیادی وجہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قومی سطح پر ہماری بری عادات میں ایک بہت بری عادت جھوٹی انا ہے۔ میرے خیال میں یہ ہماری انفرادی خاندانی اور اجتماعی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ انفرادی ترقی کے لئے جس علم اور محنت کی ضرورت ہے ہم اسی انا کے ہاتھوں اس سے محروم رہ جاتے ہیں۔ قومی ترقی کے لئے اس انفرادی ترقی کے ساتھ ساتھ جن قوانین پر عمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے انہیں ہم اپنی انا کے ہاتھوں کچلتے چلے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ نہ ذاتی ترقی کر پاتے ہیں نہ قومی۔

روزمرہ کے رشتوں میں اسی انا کے ہاتھوں ہم بہن بھائی کھو دیتے ہیں۔ شریکا بھی اسی انا کے ہاتھوں پیدا ہوتا ہے اور دو دو انچ کے لئے لڑائیاں بھی۔

تجھے مناؤں کہ اپنی انا کی بات سنوں
الجھ رہا ہے مرے فیصلوں کا ریشم پھر

آپ ایک عام سی مثال لے لیجیے وہ لوگ جو روزانہ کھانے اور تفریح پر ہزاروں روپے اڑادیتے ہیں اگر ان کی گاڑی کا اڑھائی سو روپے کا چالان ہوجائے تو وہ پہلے اپنے عہدے کی، پھر تعلقات کی دھونس جماتے نظر آئیں گے۔ پھر بھی بات نہ بنے تو دس جگہ فون ملائیں گے کہ اس جرمانے سے بچ سکیں، ان کے لئے مسئلہ اڑھائی سو روپے کا نہیں بلکہ انا کا ہوگا کہ اس ”دو ٹکے“ کے پولیس والے نے مجھے غلط کہا ہے۔ اور پھر یہی لوگ کسی اور کی ایسی ہی غلطی پر پریشان و متفکرنظر آئیں گے کہ اس ملک میں لوگ ٹریفک قوانین کی پابندی نہیں کرتے۔

یہ رویہ صرف ٹریفک قوانین تک ہی محدود نہیں، قتل سے لے کر محلے کی نکاسی آب تک یہی رویہ ہے۔ ایک شخص نے قتل کردیا اس کے عزیزوں سے میری بات ہوئی، خود ہی کہنے لگے ”بڑا ظلم کیا ہے ہمارے بچے نے، مقتول کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے، گھر میں اکیلا کمانے والاتھا۔“ خوش ہوا کہ قاتل کے عزیزوں کو غلطی کا ادراک ہے اور وہ قانون کو ذمہ داری پوری کرنے دیں گے۔ خوشی کافور ہوئی کہ ”قاتل کو بے گناہ ثابت کرنے کے لئے ہر سطح پر کوشش کریں گے، اب ہمارا لڑکا پھانسی تو نہیں لگ سکتا۔“

اب ہر سطح کی کوشش میں رشوت، قانون شکنی، مقتول کے گھر والوں کودباؤ میں لانا سب شامل ہے۔ کراچی کے مشہور قتل کیس میں ملوث وڈیرے کا ایک رشتے دار اتفاقاً مل گیا۔ باتوں باتوں میں اس نے بھی ملتی جلتی بات کہہ دی کہ پاکستان میں ابھی کوئی پھندہ تیار نہیں ہوا، جو ”ہمارے بچے“ کے گلے میں پورا آسکے۔ یہ انا پرستی نہیں تو اور کیا ہے۔ جو پورے نظام کو گندہ کرے گی کہ ان کے بچوں کو ملنے والی سزا سے ان کی سبکی ہوتی ہے۔ یہ ہر ممکن کوشش کرکے اپنی انا کی خاطر اپنے قصور وار بچوں کو بچائیں گے اور ان کے ہاتھوں کے مقابل قانون کے نام نہاد لمبے ہاتھ بونے لگنے شروع ہو جائیں گے۔

پاکستان میں رہ کر اچھے باصلاحیت نوجوان اس لئے کاروبار نہیں کرتے کہ یہ کام دیکھ کر لوگ کیا کہیں گے اور پھرکسی اور پھر ملک ریاض یا سر انور پرویز جیسوں کی مثالیں دے کر آہیں بھر رہے ہوں گے کہ کیسے انہوں نے ایک معمولی سے کاروبار سے زندگی شروع کی اور آج ارب پتی ہیں۔ اگر انہیں مشورہ دیں کہ آپ بھی ملک ریاض کی طرح رنگ سازی کا ٹھیکہ لے کر شروع کریں، کوئی ٹھیلہ لگائیں جو آپ کو ہاشوانی بنادے۔ تو خاندان، جاننے والے، معاشرہ انا کی صورت سامنے آکھڑا ہوگا۔

اس انا کی وجہ سے ہم اپنے بچوں کے لئے تعلیم اور نوکری خریدتے ہیں اورکسی کا حق مارتے ہیں۔ ہم لائن میں نہیں لگتے، ہم دوسرے کو روند کر آگے نکل جاتے ہیں۔ بنکوں اور سرکاری دفاتر میں ٹوکن سسٹم کے باوجود کسی صاحب کے کمرے میں بیٹھ کر کام کرانے اور عوام الناس پر نخوت بھری نظر ڈالنے کا اپنا ہی نشہ ہے۔ ہم فضول خرچی کرتے ہیں، ہم دکھاوازدہ مصنوعی ماحول میں زندہ رہتے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ اشیا، بڑی گاڑی، شادی بیاہ پر اسراف اور یہ سب قرض لے کر یا اپنی طاقت سے بڑھ کر کرنا انا کی گوڈی کرنے کے مترادف ہے۔ ہم صفائی اور ماحول کا خیال نہیں رکھتے، بڑے بڑے گھروں کی پچھلی دیواروں میں برسوں گند پڑا رہتا ہے کہ صفائی حکومت کاکام ہے، ہم صفائی کرتے برے لگیں گے۔

ہم کمزور کی عزت نفس سے کھلواڑ کرتے ہیں اور ہم سے طاقتورہمیں بے عزت کرتا ہے، ہم جائز کام کے آگے رکاوٹ کھڑی کردیتے ہیں اور ناجائز کام کے لئے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ علم اور بحث میں دلیل کی مضبوطی کے لئے سیکھنے کی بجائے اپنی آواز بلند کرلیتے ہیں کہ کوئی ہم سے کیسے اور کیوں جیت جائے۔ ہم پرویز ہود بھائی کے سائنسی علم کا بھی گالی سے رد کردیں گے اور فتوے اور بدزبانی سے غامدی صاحب کی دلیل کا بھی۔

یہی رویہ بالاخر ہمیں حقیقت پسندی، خود شناسی، علم اور عمل سے دور لے جاتاہے اور ہم گھر بیٹھے ہمارا ایٹم بم تگڑا، ہم یہ، ہم وہ، ہم جنت جہنم کے ٹھیکیدار، ہم ہر صورت غالب آنے والے، ہمارا ملک ہر قسم کے وسائل سے مالامال قسم کے خوابوں سے اپنی انا بہلا کر خوش ہوجاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •