مردانہ کمزوری اور نفسیاتی رویے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آداب!

امید کرتی ہوں آپ خیریت سے ہوں گے۔ خط و کتابت ویسے تو تقریبا ختم ہو چکی ہے۔ لیکن سوال و جواب کے ان خطوط کا سلسلہ دوستوں کو بہت پسند آیا ہے۔ اس کے لیے ڈاکٹر خالد سہیل کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ سے خط لکھنے کی فرمائش کر کے مجھے دوبارہ سے ان دنوں کی یاد کروائی ہے۔ جب ہم خط لکھتے تھے اور لیٹر بکس میں ڈال کر خط کا انتظار کرتے تھے۔ اب لیٹر باکس کی موجودہ شکل انباکس نے لے لی ہے۔ میرے آج کے سوال پہ شاید کچھ دوست برا منا لیں، لیکن میں نے کون سا کپڑے کی دکان کھولی ہوئی ہے جو سب کی پسند کا کپڑا دکان میں رکھوں گی۔

لیکن یہ گارنٹی ہے کہ میرے دوست ضرور اس موضوع کی حساسیت و نفسیات سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ آج کا میرا سوال یہ ہے کہ جب مرد جنسی طور پہ کمزور ہوتا ہے یا ہو جاتا ہے تو اس کے مزاج کے دو رویے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یا تو وہ ڈرپوک ہو جاتا ہے۔ یا پھر اپنے ارد گرد ایک کرختگی اور جھوٹا رعب داب کا خول بنا لیتا ہے۔ میں نے اس بات پہ بہت مشاہدہ کیا ہے۔ ڈرپوک ہونے والے مرد کو خوف ہوتا ہے کہ اس کی کمزوری کہیں معاشرے کے سامنے نہ آ جائے۔

وہ اپنے آپ کو اپنی بیوی کے سامنے اتنا اچھا کر لیتا ہے کہ اس کی دوسری خوبیوں کے سامنے اس کی اس کمزوری کی کوئی اہمیت نہ رہے۔ اور معاشرے میں اس کا بھرم قائم رہے۔ دوسری جانت سخت مزاج اور اکھڑ آدمی بھی خوف کا شکار ہوتا ہے۔ لیکن وہ اسے ظاہر نہیں کرواتا۔ وہ اپنی جنسی کمزوری کا الزام بھی عورت کو دیتا ہے۔ وہ عورت کو یہ باور کرواتا ہے کہ اس کی جنسی کمزوری کی ذمہ دار عورت ہے۔ اس طرح ایک خوف کی فضا قائم کر کے وہ سمجھتا ہے کہ اس کی کمزوری کے متعلق معاشرے میں کوئی بات نہیں کر سکتا۔ یہ میرا تجزیہ ہے آپ کیا سمجھتے ہیں ایسی کون سی نفسیاتی گرہیں ہیں جو ان رویوں کے پیچھے نظر آتی ہیں۔ ؟ جواب کا شدت سے انتظار رہے گا۔

آپ کی دوست نوشی بٹ

18۔ 9۔ 2019

افسوس ہونا تو نہیں چاہیے مگر پھر بھی ہوتا ہے کہ ہمارا ماضی حال تک نہیں پہنچ پایا۔ جیسے کہ آپ نے خط اور لیٹر بوکس کی یاد دلائی جو قصہء پارینہ ہوچکے۔ خط لکھنا، سڑک کنارے لگے سرخ رنگ کے لیٹر بوکس میں بڑی احتیاط سے ڈالنا اور پھر شدت سے جواب کا انتظار کرنا، ہمارے لیے ایک رومانس ہی تو تھا۔ مجھے یاد ہے کہ پرائمری میں تختی لکھنے کی وجہ سے میری لکھائی بہت عمدہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جس دوست کو خط لکھتا، اس کے سبھی گھر والے وہ خط شوق سے دیکھتے اور داد بھی دیتے۔ ایک دوست تو اپنی محبوبہ کے نام خط بھی مجھی سے لکھواتے کیونکہ انھیں یقین تھا کہ میری خوش خطی اور جملوں کی رومانی ادبی بناوٹ پتھر سے پتھر دل محبوبہ کو موم بنا سکتی ہے۔ خیر یہ سب باتیں تو ایسے ہی یاد آگئیں۔ اب میں آتا ہوں آپ کے سوال کی طرف۔

آج کے خط میں آپ نے ہمارے سماج کے مردانگی کے غرور سے لبریز مردوں کی دکھتی رگ پر ہاتھ نہیں بلکہ سیدھا سیدھا پاؤں رکھ دیا ہے۔ ہم نے ہزارہا برس کی محنت سے یہ خیال راسخ کیا تھا کہ مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ میرا نہیں خیال کہ اس بات کو کبھی عورتوں نے بھی تسلیم کیا ہو ہاں البتہ ہم انہیں مختلف طرح کے حربوں سے خاموش کروانے میں ضرور کامیاب رہے۔ میں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ یہ عورت ہی ہے جو جانتی ہے کہ اس کا مرد کتنا مرد ہے۔ بس معاملہ صرف اتنا ہے کہ وہ بوجوہ بتاتی نہیں ہے۔

ہمارے ہاں جسے مرد اپنی جنسی کمزوری سمجھتا ہے اس کی جڑیں ہمارے سماجی تانے بانے میں پیوست ہیں۔ یہ مسئلہ اپنی بنیاد میں جسمانی کی بجائے ذہنی یا نفسیاتی ہے۔

آئیڈیل جسمانی تعلق کے لیے ذہنی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کے لیے ایک خاص حد کو چھوتی ہوئی پسندیدگی شرط ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو رشتے کی ابتدا ہی ایسی دراڑوں سے ہوتی ہے جو بڑھتے بڑھتے کھائی میں بدل جاتی ہیں۔

عدمِ ہم آہنگی کی پہلی وجہ تو ہماری تربیت میں مضمر ہے جس کے تحت لڑکے اور لڑکی کو امتیازی سلوک کے ساتھ پالا پوسا اور بڑا کیا جاتا ہے۔ بہت شروع میں ہی لڑکوں اور لڑکیوں کو باور کروادیا جاتا ہے کہ ناں صرف وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں بلکہ ایک کمتر ہے اور دوسرا برتر۔ نوکر یا نوکرانیوں سے منسوب سبھی کام بیٹی کو سرانجام دینے ہوں گے جبکہ بیٹا صرف تعلیم حاصل کے گا۔ دونوں کی آزادی کے دائروں کی حدود بھی مختلف ہوں گی۔

اگرچہ لڑکی کو زیادہ سے زیادہ گھر کے اندر رہنا ہوگا مگر گھر سے باہر آزاد گھومنے والے بھائی کے برعکس اس گھر سے اس کا رشتہ بالکل عارضی ہے جسے شادی ہوتے ہی اسے خیرباد کہنا ہوگا۔ اب یہ سبھی وہ عوامل ہیں جو لاشعوری طور پر لڑکے کو بطور مرد برتری کے احساس میں مبتلا کردیتے ہیں جسے وہ ابتدا میں بہنوں کے ساتھ پریکٹس کرتا ہے اور شادی کے بعد بیوی کے ساتھ۔

بصد معذرت یہ جسے ہمارے ہاں مڈل کلاس میں محبت سمجھا جاتا ہے، اس میں مرد اور عورت کی جنسی فرسٹریشن کا زیادہ عمل دخل ہے۔ اس کی وجوہات بالکل سامنے کی بات ہیں۔ جیسے کہ ہمارے گھروں کا نام نہاد مشرقی ماحول، پردہ اور کوایجوکیشن کا فقدان۔ لڑکوں اور لڑکیوں میں مصنوعی طور پر پیدا کردہ یہ دوری انھیں ایک دوسرے کے لیے پُر اسرار مخلوق بنادیتی ہے۔ حالانکہ یہ پراسرایت حقیقی نہیں بلکہ سراسر خیالی ہوتی ہے۔ مرد اور عورت کے بیچ پُراسرایت کی یہی دھند ہے جو اکثر انھیں عقل و خرد سے ماوراء عشق میں مبتلا کردیتی ہے۔ وہ ایک دوسرے میں ایسی ایسی خوبیاں تصور کرلیتے ہیں جن کا دونوں فریقین میں عشرِ عشیر بھی نہیں پایا جاتا۔ شادی کے بعد جب یہ دھند چھٹتی ہے تو دونوں ہی ایک دوسرے کو جھوٹا ثابت کرکے ذلیل کرنے پر کمر باندھ لیتے ہیں۔

سماج کی جانب سے عورت اور مرد کے بیچ پیدا کردہ دُوری عورت سے کہیں زیادہ مرد کی جنسی فرسٹریشن کو بڑھاوا دیتی ہے جس کا ازالہ وہ ماسٹربیشن سے کرتا ہے۔ اس عمل سے جہاں اس میں مذہبی /اخلاقی حوالوں سے احساسِ گناہ پیدا ہوتا ہے، وہیں جنسی کمزوری کا خوف بھی سر اٹھانے لگتا ہے۔ اسے پڑھائے گئے روایتی اسباق اسے یہ باور کروا چکے ہوتے ہیں کہ عورت کی حیثیت پارٹنر کی نہیں بلکہ ایک قلعے کی ہے جسے صرف مردانگی کی طاقت سے ہی زیر کیا جاسکتا ہے، مگر اس کا خیال ہے کہ وہ ماسٹر بیشن جیسی ’بری‘ عادت میں مبتلا ہوکر اس طاقت کو مسلسل کھوئے جا رہا ہے۔ اکثر نوجوان اس غلط فہمی میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں کہ دنیا میں محض چند دوسرے یا پھر وہ اکیلے ہی اس عادت کا شکار ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ انھیں نہ تو دوسروں کے بارے میں کوئی علم ہوتا ہے اور نہ ہی ان کے سامنے کوئی اس حرکت کا اعتراف کرتا ہے۔

ماسٹربیشن بھلے ان کی جسمانی صحت کو کوئی نقصان نہ پہنچائے مگر ان کی خوف اور احساسِ جرم سے لتھڑی سوچ انھیں یہ یقین دلا دیتی ہے کہ ان کی صحت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ اس پریکٹس کا جو سب سے خطرناک نتیجہ نکلتا ہے وہ محض عورت کے تصور سے پیدا ہوجانے والی زُودحسی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو مرد محض عورت کے تصور سے ہی چند لمحات میں ’منزلِ مراد‘ پر پہنچنے کا عادی ہوجائے وہ جیتی جاگتی عورت کا سامنا کیسے کرسکتا ہے۔

یہ مسئلہ ایسے حضرات کو بھی پیش آسکتا ہے جو گناہ کے خیال سے سماج میں کہیں بھی عورت کی موجودگی سے بدک جاتے ہیں اور اپنی فطرت کے خلاف پورا زور لگا کر خود کو دور رکھنے کا جتن کرتے ہیں۔ گناہ کے احساس سے ڈرے کئی لوگوں کو میں نے پبلک مقامات پر زیرِلب مقدس آیات کا وِرد کرتے بھی دیکھا ہے تاکہ ان کا دھیان بھٹک کر صنفِ مخالف کی جانب نہ چلا جائے۔

اب ظاہر ہے کہ ایسے اصحاب اپنی ازدواجی زندگی کی شروعات نارمل انسان کے طور پر کرنے میں بری طرح سے ناکام رہتے ہیں۔ یہ مرحلہ ان کے لیے بڑا کٹھن ہوتا ہے جو ان کی پوری شخصیت کا تانہ بانا ادھیڑ کر رکھ دیتا ہے۔ ایسا فرد عمومی طور پر دو رویے ہی اپنانے پر مجبور ہوتا ہے۔ ایک جی حضوری کا اور دوسرا رعب، جھنجھلاہٹ اور غصے کا۔ آپ نے تو اپنے سوال میں اس مرحلے کو زندگی کے کہیں آخری مرحلے میں رکھا ہے جبکہ میرا مطالعہ اور مشاہدہ اسے ازدواجی زندگی کی بالکل شروعات میں دیکھتے ہیں۔

میاں بیوی کا رشتہ دو طرح کی ضرورتوں سے مشروط ہے جنہیں ہم قارئین کی آسانی کے لیے ذہنی اور جسمانی ضرورتیں کہہ سکتے ہیں۔ اگر ان دونوں میں سے ایک ضرورت بھی مناسب انداز میں پوری نہ ہو تو یہ رشتہ کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ اس رشتے کے انسانی انداز میں قائم رہنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ہی ایک دوسرے کو اپنا “دی بیسٹ” دینے کے قابل ہوں اور دل سے آمادہ بھی۔

ہمارے ہاں سیکس کو محض جانوروں کی سطح کی ایک جسمانی سرگرمی سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شادی کے تعلق میں بندھنے والے جوڑے کو اس حوالے سے بہت ذمہ داری کے ساتھ گائیڈ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ جبکہ شادی کی شروعات کرنے والے اکثر جوڑوں کی ذہنی حالت قابلِ رحم ہوتی ہے۔ دونوں کے اپنی اپنی نوعیت کے خدشات ہوتے ہیں جن کا کسی اور کو کوئی احساس نہیں ہوتا۔ انہیں کوئی یہ نہیں بتاتا کہ جسمانی تعلق بنانے سے پہلے اگر وہ اپنے درمیان موجود اجنبیت کو ممکنہ حد تک کم کرلیں تو جلد بازی کے نتیجے میں پیش آنے والی ذلت اور اذیت سے نجات مل سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک عورت جو آج تک خود پہ نہیں کھُلی وہ پہلی ہی رات ایک اجنبی مرد کے سامنے کیسے کُھل سکتی ہے؟ اس تعلق کو کامیاب بنانے کی زیادہ ذمہ داری بہرحال مرد پر ہی عائد ہوتی ہے۔

محبت سے محروم شادی کے تعلق کا ایک المیہ اس صورت میں سامنے آتا ہے جب بیوی خوبصورتی اور خصوصاً سماجی سٹیٹس میں شوہر سے برتر ہو۔ ایسے کیسز میں مرد عموماً نفسیاتی طور پر اپنی مردانگی ہار بیٹھتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ان مسائل کا حل کیا  ہے۔ ایک بات یاد رکھیے کہ بظاہر ان مسائل کی جڑ ہم ارینجڈ یا زبردستی کی شادیوں میں دیکھتے ہیں جبکہ صورتحال یہ ہے کہ ہمارے ہاں محبت کی شادیاں بھی اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام ہیں۔ واحد محبت ہی ایک طریقہ ہے جو فریقین کو ایک دوسرے کو ممکنہ حد تک سمجھنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ مگر افسوس کہ اس راستے پر جگہ جگہ مشرقی تہذیب کے نام پر ناکے لگے ہیں۔ ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے واقعی ایک آزاد ماحول درکار ہے۔

یہ ماحول تبھی وجود میں آسکے گا جب عورت کو بطور انسان جینے کا اور اپنی زندگی کے جملہ فیصلوں کا موقع ملے گا۔ جب اس کا جسم اور ذہن خود اس کے اپنے اختیار میں ہوگا۔ عورت مرد دونوں کے لیے پارٹنر کے انتخاب کے مواقع جتنے زیادہ اور آسان ہوں گے، ان کے انتخاب کا نتیجہ اتنا ہی پائدار ہوگا۔ یہی وہ تعلق ہوگا جو اپنی اولاد کو بھی بطور انسان پالنے پوسنے کے قابل ہوگا۔

اب معلوم نہیں ایسا معاشرہ کب وجود میں آئے جو من حیث الاجماع ہماری زندگیوں کا رخ مثبت سمت میں موڑ دے۔ مگر تب تک کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہوگا، بھلے انفرادی سطح پر ہی سہی۔ اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ جو بھی صاحب اپنے تعلق کو انسانی بنانا چاہتے ہوں وہ اپنی مردانگی کے غرور کو اٹھا کر ایک طرف پھینک دیں۔ عورت کو اپنے جیسا انسان تسلیم کرلیں جو آپ کے ہر فیصلے میں برابر کی شریک ہو۔ ہاں مگر عورت کو بھی اپنے تنگ دائرے سے باہر نکلنا ہوگا۔ بے جا شرم و حیا اور سیکس سے جڑے گندگی کے روایتی احساس سے جان چھڑانا ہوگی۔ فریقین کو آپس میں اپنے ذہنی اور جسمانی تعلق کو بلا جھجھک زیرِ بحث لانے کی عادت ڈالنا ہوگی اور ایک دوسرے کو اپنے بارے میں سمجھنے میں مدد کرنا ہوگی۔

جسمانی تعلق میں مردانگی کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے کہ مرد ہی فاعل ہوگا اور عورت مفعول۔ جبکہ کامیاب تعلق کے لیے دو طرفہ جوش اور تحرک شرط ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے کہ مرد عورت کو بھی فاعل بننے کی ترغیب دے اور اسے اپنی مردانگی کے لیے ہرگز ہرگز ندامت نہ سمجھے۔

کامیاب ازدواجی زندگی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں مل کر ایک دوسرے کی شخصیت کو نکھاریں تاکہ ایک دوسرے کو مسلسل اچھے لگتے رہیں۔ اپنی زندگی میں کوئی نہ کوئی تخلیقی کام شامل کریں۔ مل کر برا بھلا گانا گائیں، آڑی ترچھی مصوری کریں، رقص کریں چاہے نہ بھی کرنا آتا ہو۔ موویز دیکھیں اور ان پہ گفتگو کریں۔ شخصیات کی بجائے آئیڈیاز پہ بات کریں۔

جب تک سماج نہیں بدلتا، ہمیں خود اپنی ذات کی خاطر، اپنی اولاد کی خاطر خود کو بدلنا ہوگا۔

سعید ابراہیم

24۔ ستمبر۔ 2019

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •