اسم ضمیر غائب اور قومی گرامر کے دیگر مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس سے پہلے کہ آوازوں کا رزق چھن جائے، قلم کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے، کیمرا ضبط کر لیا جائے، آنکھ پر پردہ ڈال کر نظر کی حد لگا دی جائے، مشاہدے اور بیان میں ربط ختم ہو جائے، واقعے اور گواہی میں کار سرکار کی خلیج حارج ہو جائے، مفاد کی مقراض سے قطع و برید کے بعد بچ رہنے والا ادھورا موقف سیل بلا کے تھپیڑوں کی مانند زبانوں پر جاری ہو لیکن دلوں کی کھیتیاں خشک رہ جائیں، مولا علی کے فرمان تکلموا تعرفوا (کلام کرو تاکہ پہچانے جاؤ) پر دست تسلیم بلند کرنا چاہیے۔

فیض صاحب نے بھی تو حرف تسکین ارزاں کیا تھا، بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے۔ وقت کی اس مہلت کی صراحت کرتے ہوئے ہمارے عہد کے ایک گیانی برٹولٹ بریخت نے کہا تھا کہ سچ اتنا ہی آگے بڑھتا ہے، جتنا ہم اسے آگے دھکیتے ہیں۔ ہم فانی انسانوں کو یہ مقام ودیعت نہیں ہوا کہ سچ ایک الہام کی صورت میں کہیں غیب سے ہم پر اترے۔ سچ تو اپنی آواز بیان کرنے کا منطقہ ہے۔ اپنی آواز کا حق ناگزیر طور پر دوسروں کی آواز کے حق سے منسلک ہے۔ تہذیب کی اقلیم وہاں سے شروع ہوتی ہے، جہاں ہم دوسروں کی بات سننے اور پھر دلیل سے اختلاف کرنا سیکھتے ہیں۔

ہم نے اکیسویں صدی سے اظہار کی آزادی کی امید باندھی تھی، معلوم ہوا کہ ہم سرمائے، ریاستی قوت اور سیاسی جبر کی اس سہ گونہ ٹکٹکی سے بندھ گئے ہیں جو حرف و صدا کی آزادی کو اپنے عزائم کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں رونق افروز صدر صحافت سے علانیہ نفرت کرتا ہے۔ تجارتی جنگ کے فریق ثانی نے اپنی تاریخ کی علامت دیوار چین کی توسیع میں خبر کے گرد سد سکندری تعمیر کر دی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے بدقسمت خطے میں آزادی اظہار کی روایت ہی موجود نہیں۔ ہمارا مشرقی ہمسایہ وادی کشمیر میں خبر کو نظربند کر کے ریاستی استبداد کا ایک نیا باب لکھ رہا ہے۔

ایسے میں خبر آئی کہ ہمارے وزیر اعظم اظہار کے جسد نیم جاں سے نالاں ہیں اور ان کے وزرا میڈیا عدالتوں کا نسخہ تجویز کرتے ہیں۔ ابھی اس خبر کی دھول بیٹھی نہیں تھی کہ وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات نے صحافیوں کو دو ٹکے کے لوگ قرار دیا ہے۔ آنے ٹکے کا طرز گفتار تو خیر خود شناسی کا اشارہ دیتا ہے، جاننا چاہیے کہ اس ملک میں وزارت اطلاعات کی روایت کے دو دھارے ہیں۔ ایک روایت میں شیر علی خان، کوثر نیازی، مشاہد حسین، عابدہ حسین، شیخ رشید، فردوس عاشق اور فواد چوہدری جیسے نام رقم ہیں اور دوسری فہرست میں جاوید جبار، شیری رحمن، قمر زمان کائرہ اور پرویز رشید کے اسمائے گرامی جگمگا رہے ہیں۔ صحافت کے کسی استاد سے دونوں گروہوں کا فرق معلوم کر لیجئے گا۔ آئیے آپ کو ایک پرانی حکایت سناتے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ دست ستم کیش سے نظر بچا کر تاریخ سے کچھ سیکھا جائے۔

ہٹلر کے نازی جرمنی میں ہائنرخ ہملر طاقتور ترین شخص سمجھا جاتا تھا۔ بیک وقت گسٹاپو کا سربراہ، پولیس چیف اور وزیر داخلہ تھا۔ نازی جرمنی کے بدنام زمانہ عقوبت خانوں کا معمار ہملر ہی تھا۔ نازی دہشت کی علامت ہائنرخ ہملر کے ہاتھوں پر ساٹھ لاکھ یہودیوں، پانچ لاکھ روما قبائل سمیت ایک کروڑ چالیس لاکھ انسانوں کا لہو تھا۔ عالمی جنگ ختم ہونے پر گرفتار ہوا اور خود کشی کر لی۔

دوسری طرف سوویت یونین نازی جرمنی کے ساتھ حالت جنگ میں تھا۔ اشتراکی لیڈر اسٹالن کا دست راست لیورانتی بیریا تھا۔ سیکرٹ پولیس کا سربراہ، سنسر شپ کا نگران، سائبیریا کے برف پوش جہنم کدوں کا معمار جنہیں گولاگ کہا جاتا تھا۔ بیریا کے جبر سے سیاسی کارکن، سائنس دان، یونیورسٹی استاد، ادیب غرضیکہ کوئی محفوظ نہیں تھا۔ کروڑوں روسی شہری بیریا کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔ 1953 میں اسٹالن کی موت کے بعد اقتدار کی کشمکش میں شکست کھا کر گرفتار ہوا۔ بیریا کو سکول کی بچیوں کو ریپ کرنے کے 357 مقدمات کے نیتجے میں سزائے موت دی گئی۔

اب دلچسپ بات سنیے۔ فروری 1945 میں یالٹا کانفرنس کے موقع پر اسٹالن نے امریکی صدر روزویلٹ سے بیریا کا تعارف کراتے ہوئے کہا، یہ ’ہمارا ہملر‘ ہے۔ گویا اسٹالن کو ہملر اور ہٹلر کی چیرہ دستیوں سے اصولی اختلاف نہیں تھا۔ یہ دو آمریتوں کی لڑائی تھی۔ ہٹلر سے اختلاف کا دعویٰ کرنے والوں کے اعمال ہٹلر سے مختلف ہونے چاہیں۔ فسطائیت کی مزاحمت کے لئے فسطائی ہتھکنڈے نہیں اپنائے جاتے، جمہوریت کو فروغ دیا جاتا ہے۔

جمہوریت جوابدہ حکومت کو کہتے ہیں۔ صحافت جمہوری حکومت کی جوابدہی کا موثر ترین ذریعہ ہے۔ صحافت جمہوری حکومت کی دشمن نہیں، معاون ہوتی ہے۔ صحافت اپنی ساکھ کھو بیٹھے تو جمہوری حکومت سرکاری دفاتر سے جاری ہونے والے احکامات کا ایسا بے معنی بندوبست رہ جاتی ہے جو ملکی مسائل حل کر سکتا ہے اور نہ قوم کی پیداواری، علمی اور تمدانی توانائی کو بروئے کار لا سکتا ہے۔

خبر پر سنسرشپ لگا دی جائے تو ہو سکتا ہے کہ کوئی بری خبر دبا دی جائے لیکن سنسر شپ بذات خود وہ بدترین خبر ہے جو قوم کے ہر فرد تک پہنچ جاتی ہے۔ سنسرشپ میں صحافت فاعل کی نشاندہی نہیں کر سکتی چنانچہ اسم ضمیر سے محروم ہو جاتی ہے۔ اسم ضمیر سے مملو صحافت شہری کو اختیار کا وہ احساس دیتی ہے جس کے نتیجے میں شہری اور ریاست ایک رشتے میں بندھ جاتے ہیں۔ سنسرشپ شہری کو حکومتی انتظام سے لاتعلق کر دیتی ہے چنانچہ اجتماعی مفاد کی بجائے ذاتی مفاد اور اقربا پروری کا چلن عام ہو جاتا ہے۔

اس بحث کا ایک زاویہ یہ کہ پیداواری معیشت کے لئے جمہوری شفافیت ناگزیر ہے۔ غیر جمہوری حکومت معاشی بدعنوانی کے راستے کھولتی ہے۔ بدعنوانی کا پیوستہ مفاد اخبار کی خبر ہی سے نہیں، درس گاہ کے علمی امکان سے بھی خوفزدہ ہوتا ہے کیونکہ علم معیشت کے نئے امکانات کو جنم دیتا ہے اور پیوستہ مفاد کی فصیل میں شگاف ڈالتا ہے۔ قوم کا وقار قوس قزح کی وہ طیف ہے جس میں شفاف جمہوریت، اظہار کی آزادی، پیداواری معیشت اور علمی مکالمہ کے مختلف رنگ مل کر آسمان پر ایک خوشنما منظر مرتب کرتے ہیں۔ آمریت سیاہ و سفید کی ایسی مصنوعی تقسیم ہے جس میں ریاست خود کو سفید قرار دے کر اختلاف رائے کو سیاہی کا خانہ تفویض کر دیتی ہے۔ آمریت ہملر کی مخالفت نہیں کرتی، بلکہ اپنا ہملر تخلیق کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ اپنے گوئبلز کا ڈنکا پیٹتی ہے۔ گوئبلز کا المیہ یہی تھا کہ خود وزیر اطلاعات تھا اور صحافی کو حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •