جب آئے گا کپتان۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حیرت ہے تحریکِ انصاف کے ان نمائندوں پر جو کہ کپتان کے القاعدہ کی ٹریننگ بارے بیان کو ”سلِپ آف ٹنگ“ کہہ کر ہمارے وزیرِ اعظم کی جراءت، بے باکی اور حق گوئی کو تسلیم کرنے سے پہلوتہی کرتے نظر آتے ہیں۔ اسی راست گوئی اور حق شناسی سے متاثر ہو کر تو خان صاحب کو اس منصبِ جلیلہ کے لیے چنا گیا تھا۔ آج سے قبل ہمارے کس سیاسی لیڈر میں یہ ہمت و حوصلہ تھا کہ امریکہ بہادر کی سرزمین پر پورے اعتماد کے ساتھ امریکی قیادت اور عوام کو یہ کہہ سکے کہ ہاں وہ القاعدہ جسے تم دہشت گردی اور انتہاء پسندی کی علامت تصور کرتے ہو، ہاں ہماری فوج اور آئی۔ ایس۔ آئی نے اس کی تربیت کی ہے۔ بگاڑ لو جو ہمارا بگاڑ سکتے ہو۔ اور امریکی قیادت لرزاں و ترساں، انگلی دانتوں تلے دابے، ہمارے کپتان کی شخصیت سے مرعوب اور حق گوئی اور بے باکی سے مغلوب، کھیسیانی بلی کی مانند کھمبا نوچنے پر مجبور۔ یہ غیرملکی دوروں کے دوران پرچیاں پڑھنے والے بناسپتی لیڈر۔ یہ کیا جانیں کہ سپرپاور کی زمین پر کھڑے ہو کر، اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر، اس کے پیروں تلے سے زمین کیسے سرکائی جاتی ہے۔

سچ فرمایا ہے شاعرِ مشرق نے کہ شاہیں کا جہاں اور ہے، کرگس کا جہاں اور۔ یقین مانیے کہ اگر آپ علامہ کے شاہین کو قالبِ انسانی میں مقیّد دیکھنا چاہتے ہیں، یا آپ اقبال کے فلسفہ ء مردِ مومن کو گہرائی میں اتر کر سمجھنا چاہتے ہیں توعمران خان صاحب کی شخصیت کو اقبالیات کے نصاب میں شامل کرنے کے سوا کوئی چارہء کار نہیں۔ آئینِ جوانمردی ہے حق گوئی و بے باکی۔

امریکی اس امر سے آگاہ ہیں کہ پاکستان کی سیاسی و ملٹری قیادت ایک پیج پر ہے۔ امریکہ کی کاسہ لیسی اور چمچہ گیری کرنے والے آج پابندِ سلاسل ہیں۔ آج وہ پاکستان کو کسی بھی طرح دیوار سے لگانے کی پوزیشن میں نہیں۔ وزیرِ اعظم پاکستان کی حب الوطنی کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ وہ آئی۔ ایس۔ او سرٹیفائیڈ حب الوطن ہیں۔ صد شکر کہ آج پاکستان پر میمو گیٹ یا ڈان لیکس کروانے والے غدار مسلط نہیں۔ ہمیں خان۔ صاحب کے خلوص اور نیک نیّتی پر رتی برابر بھی شبہ نہیں۔

اچانک ایسی اچھوتی بات کہہ کر صفِ غنیم میں افراتفری پیدا کر دینے کا فن کوئی خان صاحب سے سیکھے۔ یہ خان صاحب کی ادائے خاص ٹھہری۔ ساتھ ہی امریکیوں کو یہ بھی جتا دیا کہ اگر ہم نے اسامہ بن لادن کے متعلق معلومات نہ فراہم کی ہوتیں تو تم اسی طرح اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے پھرتے۔ یعنی امریکہ بہادر کو کہ جو خود کو عالمی دنیا کا تھانیدار سمجھتا ہے، سو پیاز بھی کھلا دیے اور سوجوتے بھی مارے۔ اور وہ بھی اس کی اپنی سرزمین پر کھڑے ہو کر۔ اور کوئی کپتانِ اعظم کا بال بھی بیکا نہ کر سکا۔

ایک مرتبہ وزیرِ اعظم پاکستان کے اس بیان کی اہمیت کا کشمیر کاز کے تناظر میں جائزہ لیں تو آپ خان صاحب کی راست گوئی و بے باکی کے ساتھ ساتھ ان کی دانش و حکمت اور معاملہ فہمی کے بھی معترف ہو جائیں گے۔ اپوزیشن نے بغضِ نیازی میں لاکھ الزام دھرا کہ عمران خان نے کشمیر کا سودا کر لیا ہے، مگر تمام الزام دھرے کے دھرے رہ گئے۔ خان صاحب کے ایک اسی بیان نے مسئلہ ء کشمیر کے حل کے متعلق خان صاحب کی سنجیدگی آشکار کرتے ہوئے دشمنوں کے الزامات کی قلعی کھول کر رکھ دی اور کشمیر کاز میں نئی روح پھونک دی ہے۔

جیسے ہی مودی نے پر یہ کھلا ہو گا کہ پاکستان آرمی اور آئی۔ ایس۔ آئی کا القاعدہ کے ساتھ استادی شاگردی کا رشتہ ہے، مودی کا تو فوراً ہی پیشاب خطا ہو گیا ہو گا۔ بھارتی بنیا تو ویسے ہی بزدل ٹھہرا۔ اسے تو غزوہء ہند کے مجاہدین کے گھوڑوں کے سموں کی ٹاپیں ابھی سے سنائی دینے لگی ہوں گی۔ ساری اکڑفوں جھاگ کی مانند بیٹھ گئی ہو گی اورفوراً اپنے پیر استاد ٹرمپ کے قدموں میں جا گرا ہو گا کہ سرکار ہماری سب تدبیریں الٹی ہو گئیں۔

یہاں تو لینے کے دینے پڑنے کو ہیں۔ میری اور میرے ملک کی عزّت آپ کے ہاتھ میں ہے۔ ثالثی کا منصب سنبھالیے اور ہمیں اس قیامت کی گھڑی سے بچائیے کہ جب غزوہء ہند کا بگل بج اٹھے گا۔ امید ہے کہ مودی خان صاحب کے اس ببانگِ دہل بیان سے ہیبت زدہ مودی انڈیا لوٹتے ہی وادیء کشمیر سے کرفیو ختم کرنے کا اعلان کر دے گا۔ ایسے مسلم جنگجو فرمانروا اس سے قبل نسیم حجازی کے ناولوں ہی میں اپنی جوانمردی و بے باکی کے جلوے دکھاتے ملے تھے۔ امتِ مسلمہ کی خوش نصیبی ہے کہ اسے اہسا دلیر راہ نما میسّر آیا ہے۔ تاریخِ اسلام میں مانیکا صاحب کی مسلم امہ کے مفاد کی خاطر دی گئی قربانی اورخان صاحب کی اہلیہ کی ریاضت، دونوں کا ذکر سنہری حروف میں قلمبند کیا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •