ڈاکٹرجارج ابراہم گریئرسَن۔ برِصغیر کی لسانیات کا محسن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویسے تو سندھی ادب و ثقافت کے فروغ کو نظر میں رکھتے ہوئے سُومرا دورِ حکومت کے بعد کلہوڑا دورِ حکومت کو سُنہرا دور کہا جاتا ہے، جس نے ہمیں حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ جیسا شاعری کا خاورِ درخشاں دیا، لیکن اس کے باوجود سندھی زبان کے گرامر، ادب اور بذاتِ خود رسم الخط پر جتنا کام انگریز سرکار کے دور میں انگریزوں اور جرمن عالموں نے کیا، اُس کی نذیر کسی اور دور میں نہیں ملتی۔ لہٰذا اگر ہم سندھی زبان و ادب کی ترقی اور فروغ کے حوالے سے برطانوی راج والے دور کو بھی ”سُنہرا دور“ قرار دیں، تو اس میں کوئی دو رائے نہیں ہوں گی۔

انگریز و جرمن افسران، جو اُس دور کے دوران اِس خطے میں اپنی سرکاری ذمہ داریاں انجام دینے کے لئے تعینات کیے جاتے تھے، وہ اپنی ملازمت کرنے کے ساتھ ساتھ علم و ادب کے شعبے میں وہ گراں قدر خدمات انجام دیتے تھے، جس کا تصوّر آج کل کے ٹیکنالوجی کے دور میں بھی کرتے ہوئے حیرت ہوتی ہے۔ کیا پڑی تھی ’ایچ۔ ٹی۔ سورلے‘ کو، جو حیدرآباد کا ڈپٹی کلیکٹر تھا اور ہر جمعرات کو گھوڑے پر چڑھ کے حیدرآباد سے بھٹ شاہ جا کر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ کے مزار پر پوری پوری رات اُن کا راگ سنتا تھا اور صبح اپنے وقت پر دفتر میں ہوتا تھا۔

اُسی سورلے نے ہمیں ”شاہ لطیف آف بِھٹ“ جیسی شہرہ آفاق کتاب دی، جو بذاتِ خود سر زمینِ لطیف سے تعلق رکھنے والوں کے لئے شاہ لطیفؒ کا ایک نیا تعارف تھی، جس کے اب تو اُردو اور سندھی میں بھی جامع تراجم موجود ہیں۔ یا پھر کیا پڑی تھی جرمن اسکالر ’ڈاکٹر ارنیسٹ ٹرمپ‘ کو، جس نے شاہ لطیف ؒ کی حویلی سے اُن کے کلام کے قلمی نسخے ’گنج‘ کی تصویریں (ٹرانسپیرنسیز) بنوا کر جرمنی جا کر 19 ویں صدی کے دوران وہاں خاص طر پر سندھی کا چھاپہ خانہ لگوا کر، وہاں سے شاہ لطیفؒ کے کلام کا پہلا نسخہ شایع کر کے ہمیں دیا۔ یا پھر ’سر بارٹل فرئیر‘ (جن کے نام سے منسوب ”فرئیر ہال“ آج بھی کراچی میں واقع ہے۔ ) کی جانب سے سندھی گرامر کی ترتیب اور سندھی موجودہ رسم الخط کا اجراء یقینی طور پر ناقابلِ فراموش کارنامے ہیں اور ایسے کارہائے نمایاں ہیں، جن جیسے واقعات کو زندہ قومیں کبھی فراموش نہیں کیا کرتیں۔

اِس خطّے کے ادب، ثقافت اور زبان کے ایسے ہی گراں قدر محسنین میں سے ’سَر ڈاکٹر جارج ابراہم گریئرسن‘ کا نام بھی بُھولنے جیسا ہر گز نہیں ہے۔ جارج ابراہم گریئرسن 7 جنوری 1851 ء کو ڈبلن کے علاقے ”گلینگیئری“ نامی جزیرے میں معروف ڈبلن خاندان میں پید ا ہوئے۔ اُن کے والد اور دادا ’جارج‘ کے منسب پر فائز رہے، جو دونوں ناشر اور پرنٹر بھی تھے۔ گریئرسن کے والد، ڈبلن میں ایک سرکاری پریس بھی چلایا کرتے تھے۔ جارج ابراہم گرئیرسن نے سینٹ بِیز اسکول کمبر لینڈ اور ٹرنیٹی کالج ڈبلن سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈبلن یونیورسٹی سے مشرقی زبانوں کی تعلیم حاصل کی، جن میں اہم زبانیں ’سنسکرت‘ اور ’ہندی‘ تھیں۔

گرئیرسن، ڈبلن یونیورسٹی کے معروف عالم فاضل استاد، پرو فیسر ایٹکنسن کے پیارے شاگرد رہے۔ حصُولِ تعلیم کی تکمیل کے بعد گریئرسن 1871 ء میں انڈین سول سروس میں شامل ہوئے اور پہلے پہل 1873 ء میں بنگال میں تعینات کیے گئے۔ وہ پٹنا میں بہ یک وقت مجسٹریٹ اور کلیکٹر رہنے کے بعد ’بِہار‘ میں ’اوپیم ایجنٹ‘ مقرر ہوئے۔ 1888 ء میں جب ہندوستان کے لسانیاتی سروے (لینگوسٹک سروے آف انڈیا) کے پروجیکٹ کا آغاز ہوا، تو گریئرسن کو اُس کا سپرینٹنڈنٹ مقرر کیا گیا، جس کے بعد وہ برطانیہ میں قائم یورپی کتب خانوں اور عالموں سے رابطے کرنے کے لئے انگلینڈ آئے۔

جارج گریئرسن کے اوّلین مقالہ جات، جائزے اور کتب 1877 ء میں شایع ہوئے۔ وہ مختلف زبانوں کے محاوروں، بِہار کے مزدُوروں کی زندگی، ہندی ادب، بگھتی تحریک اور لسانیات جیسے موضوعات پر اپنی عالمانہ تحقیق شایع کرواتے رہے۔ ساتھ ساتھ اُنہوں نے ادویت، ویدانت اور لوک ادب کے موضوعات پر بھی کام کیا۔ گریئرسن کا ابتداء میں یہ خیال تھا کہ بھگتی نے عیسائیت سے اثر قبول کیا ہے، مگر بعد ازاں اُنہوں نے تسلیم کیا کے بھگتی، عیسائیت سے زیادہ قدیم ہے۔

وہ 1898 ء میں ”بنگال رائل ایشیاٹک سوسائٹی“ سے وابستہ ہو گئے۔ اُن کا سب سے بڑا کام ”ہندوستانی زبانوں کا جائزہ“ (لینگوسٹک سروے آف انڈیا) ہے، جو برِ صغیر ہندو پاک کی 364 زبانوں اور اُن زبانوں کی شاخوں پر تحقیق پر مشتمل گیارہ جلدوں پر مبنی تفصیلی تحقیق ہے۔ (جن میں سے کئی جلدیں دو دو، تین تین حصّوں پر مشتمل ہیں اور یہ گیارہ جلدیں مجموعی طور پر 19 کتابوں کی صُورت میں ہیں۔ ) یہ کام گرئیرسن نے 1898 ء سے 1928 ء تک، مسلسل 30 برس کی محنت کے بعد مکمّل کیا۔

یہ اہم کام 1908 ء سے 1927 ء تک کلکتے سے مختلف قسطوں میں شایع ہوتا رہا۔ اس ضخیم اور شاندار تصنیف کی آٹھویں جلد میں ’سندھی‘ اور سدرن پنجاب کی زبانوں (بشمول ’سرائیکی‘ اور ’ملتانی‘ ) کا ذکر شامل ہے۔ یہ جلد 1919 ء میں شایع ہوئی۔ اس ذکر میں گریئرسن نے سندھی زبان کی کم و بیش 20 رسُوم الخط کا ذکر کیا ہے، جن میں رومن، دیوناگری، خدا آبادی، شکار پوری، ساکھرو، لوہانکو، بھاٹیکو، لاڑائی، وَنگائی، راجائی، خواجکو، ٹھٹائی، حیدرآبادی، سیوہانی اور سدرن لہندا رسُوم الخط کا ذکر خاص طور پر شامل ہے۔ اس جلد میں گریئرسن نے اُس دور میں اِس خطے سمیت ہندوستان کے دیگر خطّوں میں مکین سندھی زبان بولنے والے لوگوں کے اعداد و شمار بھی دیے ہیں۔

جارج ابراہم گریئرسن کی شایع شدہ دیگر اہم کتب میں ’سیون گرامرس آف دی ڈائیلیکٹس اینڈ سب ڈائیلیکٹس آف دی بِہاری لینگئیج‘ (جو کہ تین جلدوں پرمشتمل ہے ) ، 1885 ء میں شایع شدہ۔ ’بہار۔ پریزنٹ لائف‘ ، 1906 ء میں شایع ہونے والی۔ ’پشاکو لینگئیجز آف نارتھ ویسڻرن انڈیا‘ ، 1920 ء میں شایع ہونے والی ’اشکاشمی، زیباکی اینڈ یزغلامی۔ این اکاؤنٹ آف تھری ایرانین ڈائیلیکڻس‘ ، 1916 ء سے 1932 ء تک شایع ہونے والی کشمیری زبان کی لغت، ’ماڈرن ورنیکیولر لٹریچر آف انڈیا‘ ، ’جیسز پدم وتی‘ کا ترجمہ اور دیگر اہم کتب شامل ہیں۔

جارج ابراہم گریئرسن کو 1912 ء میں ’نائٹ‘ کے خطاب اور بعد ازاں ”کمانڈر آف دی آرڈر آف انڈین امپائر“ (کے او آئی ای) کے خطاب سے بھی نوازا گیا۔ اُنہیں 1928 ء میں ”آرڈر آف میرٹ“ (اؤ ایم) کے لئے نامزد بھی کیا گیا۔

سر ڈاکٹر جارج ابراہم گریئرسن نے 90 برس کی عمر پاکر 9 مارچ 1941 ء کو انگلستان کے شہر ’کمبرلے، سری‘ میں وفات پائی۔ برِصغیر کی لسانیات و ادب جارج ابراہم گریئرسن کی گرانقدرخدمات اور کارناموں کو رہتی دُنیا تک یاد کرتا رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •