فتح کی قیمت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”انگلیاں! انُ کے نشانات! میں کہاں سے لاؤں؟ انہی کو بچانے کے لئے مجھے پاسپورٹ کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ کب تک فتح کا جشن منائیں گے؟ “ حارث فٹ پاتھ پر نا جانے کب سے کھڑا خود سے باتیں کر رہا تھا اور اس کی نظر بار بار اپنی انگلیوں پر جا کر ٹک جاتی تھی۔

یہ تین روز پہلے کی بات ہے جب شہر پر فوج نے حملہ کر دیا تھا۔ لوگ امید کر رہے تھے کہ فوج کسی طرح ان کے جان اور مال کے نقصان کے بغیر شہر کو فتح کر لے گی۔ لیکن دعیش کے کچھ لوگ جنہوں نے گھروں کے اندر مورچے بنائے ہوئے تھے مزاحمت کر رہے تھے۔

حارث اور آمنہ بے انتہا پریشان تھے کہ اس طرح گھر چھوڑ کر پانچ بچوں کے ساتھ بھاگ بھی نہیں سکتے تھے۔ دونوں نے یہی فیصلہ کیا کہ کچھ عرصے بند ہو کر گھر ہی میں رہا جائے۔ جب حالات پر امن ہو جائیں گے تو وہ بچوں کو اسکول بھیجیں گے اور حارث اپنی کمپیوٹر اور موبائل فون کی دکان پر جانا شروع کر دے گا۔

اب دھماکوں کی آوازیں قریب تر آگئی تھیں۔ زمین ہل رہی تھی اور شاید آسمان بھی پھٹا جا رہا تھا۔ چھوٹے دو بچے خوف و ہراس کے مارے آمنہ سے لپٹ کر رو رہے تھے اور بڑے بچے دعائیں مانگ رہے تھے۔ فوج کے لوگ مورٹر کے گولے داغتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ کچھ دیر بعد وہ جابریہ کے محلے میں داخل ہو گئے۔ مورٹر کا ایک گولا حارث کے مکان پر گرا۔ جب چیخ و پکار اور دھواں کم ہوا تو معلوم ہوا کہ حارث اور آمنہ کی نزاکت میں پلی ہوئی پندرہ سال کی بیٹی امان آگ میں جھلس رہی تھی۔

حارث نے دیوانوں کی طرح جلتے ہوئے کمرے میں گھس کر امان کو باہر نکالا اور اس پر پانی ڈالا۔ امان کا جلا ہوا جسم دیکھ کر اس کا کلیجہ باہر آنے کو آ گیا۔ جسم کی جلد کئی جگہ سے جلی ہوئی تھی اور بائیں ہاتھ کی انگلیاں جل کر ختم ہو چکی تھیں۔ تکلیف کی نا قابل برداشت شدت سے امان بے ہوش ہو چکی تھی لیکن تھوڑی تھوڑی دیر بعد کراہنے کی آواز نکال رہی تھی۔ آمنہ نے امان کو اپنے شانوں پر لٹایا ہو ا تھا اور بغیر کسی آواز کے آنسوؤں کا دریا بہا رہی تھی۔ امان کی بہنوں اور بھائیوں نے خوف اور افسردگی کے مارے چیخیں مارنا شروع کر دیں تو انہیں ایک ہمسایہ اپنے گھر لے گیا۔

سارا محلہ حارث کے گھر جمع ہو گیا تھا۔ شہر کے ان حالات کوئی بھی امان کوہسپتال لے جانے کے لئے تیار نہیں تھا۔ حارث کا ہمسایہ ایک ہسپتال کے انتظامی شعبے میں ملازم تھا۔ وہ فون پرچیخ چیخ کر ایمبولینس بھیجنے کے لئے کہہ رہا تھا۔ دو گھنٹے بعد ایمبولینس تباہ شدہ سڑکوں اور گلیوں سے بچ بچا کر حارث کے گھر پہنچی۔ انہوں نے امان کے جھلسے ہوئے جسم کو پٹیوں سے لپیٹا، اسے ہوش میں لے آئے اور ہسپتال لے گئے۔ ہسپتال کیا تھا، ایک ماتم کدہ بنا ہوا تھا۔ ہر طرف لوگ کراہ رہے تھے یا سسکیاں لے رہے تھے۔ انتظار گاہ زخمیوں سے بھری ہوئی تھی۔ ٹوٹے ہوئے اعضاء، جھلسے ہوئے جسم، خون سے لبریز فرش۔ عملے کے لوگ پاگلوں کی طرح بھاگ بھاگ کر کام کر رہے تھے۔

امان کے زخموں کا مکمل جائزہ لیا گیا۔ تیس فیصد جسم کی جلد جل چکی تھی۔ بایاں ہاتھ ضائع ہو چکا تھا اور اسے فوراً کاٹنے کی ضرورت تھی۔ دوسرے ہاتھ کی انگلیوں پر اور جسم پر کئی جگہ نئی جلد لگانے کے لئے آپریشن کرنے کی ضرورت تھی۔ جب ہسپتال والوں نے حارث کو اخراجات بتائے تو اس کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ اسے امریکی حملے سے پہلے والے وہ دن یاد آ گئے جب علاج مفت ہوتا تھا۔ لیکن وہ دور گزرے دس سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا تھا۔ اسے اپنی پیاری بچی کو ہر حال میں بچانا تھا۔ اس نے آمنہ سے پوچھے بغیر فوراً ہاں کر دی کہ وہ اتنا بل ادا کر سکتا ہے حالانکہ اس کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے۔

پورا شہر اب فوج کے قبضے میں آچکا تھا۔ حارث نے شہر کی نئی انتظامیہ سے مفت علاج کے لئے بات کی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ اس کے علم میں تھا کہ یہاں کئی خیراتی ادارے کام کرتے ہیں۔ وہ باری باری سب کے پاس گیا۔ اور ایک ادارے کے منتظمین نے اسے یقین دلایا کہ وہ ہسپتال کا بل ادا کرنے میں اس کی مدد کریں گے۔

سارے دن کا بھوکا پیاسا حارث شام کو ہسپتال پہنچا تو پتہ چلا کہ امان کا بایاں ہاتھ کاٹ دیا گیا ہے۔ امان کی آنکھوں سے نہ رکنے والے آنسو رواں تھے۔ اس کو اتنا ہوش تھا کہ وہ اپنے بائیں ہاتھ کی عدم موجودگی کو محسوس کر سکتی تھی۔ آمنہ سوالیہ نظروں سے حارث کو دیکھ رہی تھی کہ کیا وہ امان کے لئے کیا کر سکتا ہے۔

حارث اور آمنہ نے پوری رات امان کے پاس بیٹھ کر گزاری۔ امان غنودگی کے عالم میں خامو ش تھی۔ صبح ہوتے ہی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم آئی۔ انہوں نے پٹیاں کھول کر امان کے جسم کا اچھی طرح جائزہ لیا۔ آمنہ تو یہ دیکھ ہی نہ سکی اور کمرے سے باہر چلی گئی۔ حارث یا تو بے حس ہو چکا تھا یا ضبط کا پتلا بن کر یہ سب کچھ خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔ انہوں نے حارث کو بتایا کہ امان کے زخموں کی نوعیت ایسی ہے کہ اس کا علاج یہاں نہیں ہو سکتا بلکہ پورے عراق میں ہی نہیں ہو سکتا۔

ہر ہسپتال میں آلات اور ڈاکٹروں کی کمی ہے اور امان کو علاج کے لئے ملک سے باہر لے جانا پڑے گا ورنہ یہ انفیکشن بڑھتا جائے گا۔ دوسرا ہاتھ بچانے کے لئے یہ کام جلد از جلد کرنا پڑے گا۔ حارث کچھ دیر خاموش گم سم کھڑا رہا۔ پھر اچانک اس نے بھاگنا شروع کر دیا۔ وہ فتح کے جشن کے جلوسوں سے بچتا بچاتا کئی خیراتی اور امدادی اداروں کے دفاتر گیا۔ کچھ ادارے اس خانہ جنگی میں تباہ و برباد ہو چکے تھے اور کچھ جشنِ فتح کی وجہ سے بند تھے۔ صرف ایک تنظیم ہلالِ عراق کا دفتر کھلا ہوا ملا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ ملک سے باہر دوبئی یا سعودی عرب میں کوئی کفیل ڈھونڈیں گے اور اس کے لئے امان کا پاسپورٹ چاہیے تاکہ وہ یہ کارروائی شروع کر سکیں۔

حارث بے چینی سے اس تین روزہ جشن کے ختم ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ تین دن کے بعد وہ پاسپورٹ کے دفتر گیا تو پتہ چلا کہ وہ تو کب سے بند ہو چکا تھا۔ اور اس کی ساتھ والی عمارت میں داعش نے ایک اپنا دفتر سفری کاغذات جاری کرنے کے لئے کھولا تھا اور وہ بھی ان کی شکست کے بعد بند ہو چکا تھا۔ حارث کو پتہ تھا کہ پاسپورٹ کے بغیر امان دوبئی یا سعودی عرب میں داخل نہیں ہو سکتی۔ اس نے کسی دوسرے شہر کے پاسپورٹ دفتر جانے کا سوچا جہاں سے عراق کا پاسپورٹ جاری ہوتا ہو لیکن وہ اتنی دور امان کو اس حالات میں نہیں لے جا سکتا۔

امان کی موجودگی کے بغیر اس کے نام پاسپورٹ نہیں جاری ہو سکتا تھا۔ جب اس کا فون سے اربیل شہر کے پاسپورٹ دفتر سے رابطہ قائم ہوا تو انہوں نے کہا بتایا کہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے نشانات ضروری ہیں۔ امان کو ڈاکٹر کے خط کے ساتھ خود آنا پڑے گا تب انگلیوں کے نشانات کے بغیر پاسپورٹ کے لئے درخواست دینا ممکن ہے۔ انگلیوں کے نشانات کا ذکر سن کر حارث کے دل میں ایک خنجر گھپ گیا۔ وہی انگلیاں جو ایک ہاتھ کے ساتھ کٹ چکی تھیں۔

اور دوسرے ہاتھ کی وہی انگلیاں جن کو وہ بچانے کی کوشش میں تھا۔ حارث بار بار اپنے ہاتھوں کی انگلیاں دیکھ رہا تھا۔ ”کاش! یہ انگلیاں میں اپنی پیاری بیٹی کو دے دوں۔ میں تو کسی طرح نا کسی طرح ان کے بغیر گزارا کر لوں گا۔ “ گندے کپڑوں میں ملبوس، بکھرے ہوئے بال، بوجھل قدموں کے ساتھ حارث ہسپتال واپس آ گیا۔

جب وہ ہسپتال پہنچا تو فوج کے کچھ کارکن فتح کی خوشی میں مٹھائی بانٹ رہے تھے۔

جب وہ امان کے کمرے میں داخل ہوا تو نرس نے اسے بتایا کہ انفیکشن تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کو روکنے کے لئے کل امان کے دوسرے ہاتھ کی انگلیاں کاٹ دی جائیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •