سفر امریکہ کی روداد ( 2 ) عربانہ، وال مارٹ اور امریکی بوڑھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شکاگو سے بذریعہ کوچ عربانہ جانے کے ٹکٹ پہلے سے موجود تھے۔ وقت مقررہ پر عربانہ کے لیے روانہ ہوئے۔ ٹرمینل سے جیسے ہی باہر نکلے، سرد ہواؤں کے جھونکوں نے استقبال کیا۔ امی کی ہمت کی داد دینی پڑتی ہے کہ منفی 17 ڈگری درجہ حرارت میں بھی خوش دلی سے چلتی ہوئیں، کوچ تک پہنچیں۔ کوچ میں سوار ہوتے ہی سردی کا احساس ختم ہو گیا۔ اچانک امی نے پوچھا کہ ”حسن کا پروموشن کب ہوگا؟ “ میں نے کہا: ابھی تو نوکری سے منسلک ہوئے، دو سال ہی ہوئے ہیں، دیکھیں کب ہوتا ہے؟

امی نے کہا: ہم دعا کریں گے۔ عربانہ سٹی شکاگو سے قریباً 139 میل کے فاصلے پر ہے۔ اور امریکہ کی پہترین یونیورسٹیز میں سے ایک یونیورسٹی، یونیورسٹی آف الینائیس اس شہر میں واقع ہے۔ معروف پاکستانی نژاد دولت مند امریکی شاہد خان نے انجینیئرنگ کی ڈگری اسی یونیورسٹی سے حاصل کی ہے۔

جب شکاگو پہنچے تھے تو سردی اپنے عروج پر تھی اور شدید ٹھنڈی ہوائیں سر سر چل رہیں تھیں۔ عربانہ میں بھی موسم کا یہی رویہ تھا۔ عربانہ ( الینائیس ٹرمینل ) پر بہنوئی جو کہ سگے خالہ زاد بھائی بھی ہیں، شدید سردی میں استقبال کے لیے موجود تھے۔ لیکن ایئرپورٹ، بس اور عربانہ بس ٹرمینل کی حدود میں گرماہٹ کا مناسب انتظام تھا، اس لیے سفر کے دوران سردی کی شدت سے محفوظ رہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ امی دوران سفر بہت خوش رہیں، ایئرپورٙٹس پر گھومتی پھرتی بھی رہیں۔ اور مسافروں سے گپ شپ بھی کرتی رہیں۔

عربانہ پہنچنے کے دوسرے دن صبح کے وقت بھانجے کے ساتھ وال مارٹ جانے کا پروگرام بنا۔ گھر سے نکلنے سے قبل نیٹ پر بس کی اسٹاپ پر آمد کا وقت دیکھا اور وقت کو مد نظر رکھتے ہوئے، چند منٹ قبل گھر سے نکلے۔ موسم تو انتہائی سرد تھا، لیکن سردی سے محفوظ رہنے کے لیے مناسب لباس زیب تن تھا۔ عربانہ شیمپیئین دو جڑواں شہر ہیں۔ ایک شہر سے دوسرے شہر کی حدود میں آپ کب داخل ہوئے یا باہر نکلے، پتا نہیں چلتا۔ عربانہ شیمپیئین کو یک جا کرنے کے لیے کوششیں بھی ہوئیں، لیکن شہریوں نے علیحدہ شناخت و حیثیت کو ترجیح دی۔ عربانہ کے خوب صورت و مسحور کن نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے، وال مارٹ پہنچے۔ وال مارٹ ( ایم ٹی ڈی ) کا آخری بس اسٹاپ بھی ہے۔ عربانہ شیمپیئین میں الینائیس ٹرمینل سے دونوں شہروں کی حدود میں آنے جانے کے لیے بسیں دستیاب ہوتی ہیں۔

وال مارٹ میں گھریلو ضرورت کی تمام اشیاء انتہائی مناسب دام پر ملتی ہیں۔ ہر طرح اور قسم کی سبزی اور پھل مارٹ میں دستیاب ہوتے ہیں۔ گارمنٹس، الیکٹرونکس، میک اپ کی اشیاء، کھلونے بھی مارٹ میں دستیاب ہیں۔ اشیائے ضرورت کی خریداری کے بعد مارٹ میں تھوڑا گھومے پھرے۔ وال مارٹ کا دعوی ہے اور بڑی حد تک بجا ہے کہ ان کے یہاں جس قیمت پر اشیائے ضرورت اور دیگر اشیاء دستیاب ہیں، ان کی قیمتیں دیگر بڑے اسٹورز کی قیمتوں کے مقابلے میں بہتر و مناسب ہیں۔ خود کار مشین سے ادائیگی کے بعد سامان کی ٹرالی لیے بس اسٹاپ پہنچے۔

بس کی آمد میں چند منٹ باقی تھے۔ سردی کی وجہ سے مسافر شیشے کے بنے ہوئے اسٹاپ کے اندر تھے۔ دو چار افراد سے رسمی علیک سلیک ہوئی۔ مقررہ وقت پر بس آئی اور گھر پہنچ گئے۔ دو دن بعد پھر وال مارٹ جانا ہوا۔ خریداری کے بعد بس اسٹاپ پہنچے تو ایک امریکی بوڑھا جس سے پہلے علیک سلیک ہو چکی تھی، دیکھ کر مسکرایا اور حال چال پوچھنے کے بعد سوال کیا کہ ”کہاں سے آئے ہو؟ “

اس موقعے پر نہ جانے کیوں غیر ارادی طور پر حیلہ اختیار کیا اور کہا کہ ”دبئی سے آیا ہوں۔ “ جواب سن کر موصوف کا مزاج یک دم بدل گیا اور انتہائی گرم جوشی سے دوبارہ خیر مقدمی مصافحہ کیا اور فوری طور پر 11 ستمبر 2011 کے حادثے کی بابت بات کرنے لگا۔ اس کے مطابق ہوائی جہازوں کا ٹوئن ٹاور سے ٹکرانا با قاعدہ منصوبہ بندی تھی۔ دونوں ہاتھوں کو بس اسٹاپ کے شیشے کے اوپری حصے پر مارا اور کہا کہ ”ہوائی جہاز ٹاورز کے اوپری حصے سے ٹکرائے، تو ٹاورز زمین بوس نچلی سطح سے کیسے ہو گئے۔ “

امریکی بوڑھے نے جب یہ بات کی، تو ہمیں اُس وقت اُس میں اُس ایک عام پاکستانی کی روح سمائی نظر آئی، جو اس حادثے کو امریکی سازش قرار دیتا ہے اور سازشی نظریوں پر دل و جان سے ایمان لایا ہوا ہے۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ اب تو وہ ہیرو شیما اور ناگا ساکی کے ایٹمی دھماکوں سے ہوتا ہوا، جنگ کوریا و ویتنام کی جنگ تک جا پہنچا۔ اور لگا امریکی حکومتوں کو کوسنے کہ کتنے امریکی مروا دیے اور کتنا عوام کا پیسہ ان جنگوں پر لٹایا اور ہاتھ کچھ نہ آیا۔

عراق و افغانستان کا تذکرہ بھی کیا اور کہا کہ ”ان ممالک میں بھی جنگ اور دخل اندازی سے امریکہ کا جانی و مالی نقصان ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔ “ جن ممالک سے امریکہ جنگ میں مصروف عمل رہا اور جن تنظیموں کو خلاف بر سر پیکار ہے۔ وہاں کے عوام کے جانی و مالی نقصان پر بھی اس نے دکھ کر اظہار کیا۔ عراق پر حملے کے متعلق اس کا موقف تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق پر حملہ و قبضہ عراقی تیل کی دولت لوٹنے کے لیے کیا ہے۔ امریکی اسلحہ بھی خوب بک رہا ہے اور نیٹو ممالک کے بھی مزے آئے ہوئے ہیں۔ باتیں جاری ہی تھیں کہ بس ڈرائیور بس کی طرف بھاگتا ہوا نظر آیا، چونکہ بس چلنے میں چند لمحے باقی تھے۔ سب مسافر بس میں بیٹھ گئے۔ بس میں بھی امریکی بوڑھے سے ہلکی پھلکی گپ شپ جاری تھی کہ ہمارا بس اسٹاپ آگیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •