سچن ملہوترہ کی پیشن گوئیاں اور عمران خان کا مستقبل!
سچن کا اندازہ ہے کہ آنے والے دنوں کے عالمی منظر نامے میں پاکستان کو بھارت کے علاوہ امریکہ اور ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بھی شدید پیچیدگیوں، تلخی اور کھچاؤ کا سامنا کرنا ہوگا۔ سچن کے مضمون کے مطابق ہر گزرتے روزکشمیر کے دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لئے دونوں ملکوں پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوگا، جس کا براہ راست اثر وزیراعظم مودی کی شخصیت اور ان کے فیصلوں پر ہوگا۔ پاک بھارت سرحدوں پر شدید کشیدگی جاری رہے گی جو بالآخر اگلے سال کے موسم گرما میں باقاعدہ جنگ میں تبدیل ہو کر برصغیر کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ سچن اس ممکنہ پاک بھارت جنگ کو ہی پاکستان اور عمران خان کے مستقبل کی راہ میں ایک ممکنہ رکاوٹ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان مذکورہ بحران سے کیسے نمپٹے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بے ہودہ اور بے سروپا مواد کی کمی نہیں۔ لہٰذا آپ سچن ملہوترہ کے مذکورہ مضمون کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے کھلکھلا کر ہنسنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود نجومی کی اس بات سے تو ہمیں اتفاق کرنے میں دقّت نہیں ہونی چاہیے کہ جنگ کشمیر کے مسئلے کا حل نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے لئے باہمی تباہی کا راستہ ہے۔ کوئی بھی ممکنہ پاک بھارت جنگ اب مختصر، ہولناک اور نتائج کے اعتبار سے بے ثمر ہوگی۔
مسلط کی جانے کی صورت میں ہماری کیفیت اس شخص کی سی ہوگی کہ جس کے پاس اپنا سب کچھ لڑائی میں جھونک دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہ ہو۔ اور بلا شک وشبہ یہ راستہ کسی ایک ملک نہیں، بلکہ خطّے کی تباہی کا راستہ ہے۔ منزلِ مقصود اگرتو کشمیریوں کی آزادی ہے تو ہمیں جنگ سے حتی الامکان پہلو تہی برتتے ہوئے مودی پرہر ممکن طریقے سے عالمی دباؤ کوبڑھاتے رہنا ہوگا۔
جہادی جتھوں کے نام سے ہی دنیا کا دم گھٹتا ہے۔ لہٰذہ وہ جنگجو جو غزوہ ہند کے منتظر ہیں، ان کو فی الحال اپنے گھوڑے اصطبلوں میں ہی باندھے رکھنے چاہئیں۔ پاک فوج کوجنگ سے جی چرانے کے طعنے دینے سے قبل دو عشروں سے بے چہرہ اور سفاک دشمن کے خلاف لڑی جانے والی ہولناک جنگ کو وہی فراموش کر سکتے ہیں کہ بغض اور نفرت میں جن کے دل گرفتار ہوں۔ سول اور ملٹری قیادت کا حالیہ مستحکم اتحاد اگر کشمیر کو بیچنے پرآمادہ ہے تو پھر اس باب میں ہم خدا کے بھیجے ہوئے فرشوں پر ہی کامل بھروسا کرسکتے ہیں کہ جو راتوں رات کشمیرکوآزادی دلوانے زمین پر اتر آئیں۔ بدقسمتی سے مگر کم از کم پندرہ صدیوں سے خدا اپنے فرشتوں کو زمینی معاملات میں براہ راست دخل اندازی کے لئے زحمت دیتے ہوئے دکھائی نہیں دیتا۔ معاملات کو ہم نے خود ہی نمٹانا ہے۔ یہی سنّتِ الہٰی ہے۔
دوسری جانب وہ خواتین و حضرات جو کل تک ’ڈان لیکس‘ کے بعد حیران ہو ہو پوچھتے تھے، ’ہوا کیا ہے؟ ‘ آج کل اچانک ان کے دل اداروں کی محبت سے لبریز ہیں۔ وزیراعظم کی تقریروں سے فقرے چن چن کر ڈھونڈتے اور سکیورٹی اداروں کی رسوائی کے غم میں آبدیدہ ہوہو کرسوشل میڈیا پر اپنا غم بانٹتے ہیں۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اس دوران کوئی اور وزیراعظم اِسی طرح کَھری کھلی باتیں کرتاتو اسٹیبلشمنٹ کا ردِعمل کیا ایسا ہی ہوتا؟ اندازہ تو یہی ہے کہ ایسا ہی ہوتا، اگر بغض سے بھرے کچھ حواری اور مخصوص رپورٹراندھیرے میں کارفرما نہ ہوں تو۔
سچن ملہوترہ کی پیشن گوئیوں سے قطع نظر، مسلمانوں کا ایمان ہے کہ غیب کا علم، کامیابیوں، ناکامیوں، زندگی اور موت کے معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ سامنے کی بات مگر یہی ہے کہ عمران خان کو ان کی حکومت کی تمام تر کمزوریوں او رغیر متاثرکن انتظامی کارکردگی کے باوجود تمام قومی امور پر اداروں کی غیر مشروط حمایت حاصل ہے۔
لفٹینی، کپتانی کے دور میں بین الاقوامی امور کے پرچوں میں لکھنے کو دیے گئے ہر مضمون کا آغاز ہم اِسی ’چشم کشا انکشاف‘ سے کرتے رہے کہ ’پاکستان تاریخ کے اہم دوراہے پر کھڑا ہے‘ ۔ پاکستان جبکہ آج بھی اسی مقام پر کھڑا نظر آتاہے، توکئی ایک عوامل کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ دوراہے پر کھڑے ملک کو صحیح راہ پر ڈالنے کے لئے اگر موجودہ سول اور عسکری قیادت قابلِ اعتماد نہیں تو پھر آسمان سے فرشتوں کے نزول کی دعا کرنے کے سوا ہمارے پاس بظاہر کوئی چارہ نہیں۔

