کراچی کے نئے بھتہ خور

محمد حنیف - صحافی و تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم کراچی والے صبح شام پاک فوج کو سلام بھیجتے ہیں جس نے ہمارے شہر پر پے در پے آپریشن کرکے ہمیں بھتہ خوروں سے نجات دلائی۔ الطاف حسین کا مکوٹھپا اور فیصل واوڈا اور عمران اسماعیل جیسے ہیروں کو ہماری قسمت کا مالک بنا دیا۔

ویسے تو ان تحفوں میں عامر لیاقت بھی شامل ہیں لیکن ان سے پیار کرنے والے جانتے ہیں کہ ان پر کسی آپریشن کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

پاک فوج نے ہماری جنگجو جلاد، نسیم فرعون، راشد ریکھا، شکیل پنا، سلیم بیلجیئم اور کامران نفسیاتی جیسے بھتہ خوروں سے تو جان چھڑا دی لیکن جہاں پر بھی طاقت کا خلا ہو گا اسے کوئی اور پورا کرے گا۔

اور اسے پورا کیا ہے کبھی سوٹ بوٹ پہنے کارپوریٹ دفتروں میں بیٹھے ہوئے صاحب لوگوں نے اور کبھی ہمارے عسکری اداروں کے ذیلی اداروں کے اہل کاروں نے۔

اس بھتہ خوری کی جان لیوا شکل ایک پرائیویٹ ہسپتال میں دیکھی جہاں سرجن اپنی لاکھوں کی فیس صرف کیش میں وصول کرتا ہے اور رسید بھی نہیں دیتا۔

ایک اس سے بھی بڑے پرائیویٹ ہسپتال میں ایک اس سے بھی بڑا سرجن ایک مزدور لڑکے کی ایکسیڈنٹ میں کچلی ہوئی ٹانگ کو دیکھ کر کہتا ہے آٹھ لاکھ لے آؤ تو بچ سکتی ہے ورنہ سرکاری ہسپتال میں لے جا کر کٹوا لو۔

کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ ہے جو ہزاروں گھروں کو پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں دیتا لیکن بل باقاعدگی سے بھیجتا ہے اور دھمکی بھی دیتا ہے کہ بل نہ دیا تو کنکشن کاٹ دیں گے اور جرمانہ بھی ہو گا۔

کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے خلاف اٹھنے والی آخری آواز ہمارے سابق ایم این اے عارف علوی کی تھی جو پانی نہ ملنے پر احتجاج کرنے گئے تھے۔ ہماری عسکری اداروں کے ذیلی اداروں کے اہلکاروں نے انھیں دھکے دے کر نکال دیا اور اس کے بعد صدر بنا دیا۔ قصہ تمام۔

پانی کے ٹینکر پرانے بھتہ خوروں کے زمانے میں بھی چلتے تھے تو لوگ اسے ٹینکر مافیا کہتے تھے۔ اب ذیلی کے ذیلی اداروں نے اسے ایک بزنس کی شکل دے دی ہے۔

ٹینکر مافیا کے ٹینکروں پر لکھا ہوتا تھا ساڈے بھی دو ہی شوق، ایمان کی زندگی، ایمان کی موت۔ نئے ٹینکروں کے اوپر برانڈ بنے ہوئے ہیں اور ڈرائیوروں نے چمکتی ہوئی وردی اور ٹوپی پہن رکھی ہوتی ہے۔ دھندہ وہی پرانا ہے کہ ہمارا پانی ہم سے چوری کرو اور ہمیں ہی بیچو۔

پرانے بھتہ خور کا نام ‘کے ای ایس سی’ ہوتا تھا، انھوں نے کروڑوں روپے خرچ کرکے اپنا نام بدل کر ‘کے ای’ رکھ لیا۔

ہر مہینے اپنی زندگی کا سب سے بڑا بجلی کا بل دیتے ہیں اگلے ہی دن 16 گھنٹے کے لیے بجلی غائب کر دیتے ہیں۔ پتہ کرنے نکلو تو ٹرانسفارمر سے آگ کے شعلے اس طرح نکل رہے ہوتے ہیں جیسے کسی ناکام عاشق کا دل ہو۔ راہ گیر آگ بھجانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔

کے ای والے بھتہ خور الٹا اپنے صارفین کو ڈرانے دھمکانے والے اشتہار جاری کرتے رہتے ہیں۔

کراچی کے نئے بھتہ خورروں کو بھگتتے ہوئے پرانے بھتہ خوروں کی یاد ستانے لگتی ہے۔ جب کسی سیاسی جماعت کا جلاد، فرعون یا نفسیاتی نامی لونڈا بھتہ لیتا تھا تو یہ تسلی رہتی تھی کہ کچھ مہینے دکان محفوظ رہے گی، محلے میں چوڑے ہو کر چل سکتے تھے بلکہ بھاؤ تاؤ کی گنجائش بھی موجود رہتی تھی۔

ایک دوست کی دکان پر طالبان نے چھ لاکھ روپے کی پرچی بھیجی (ہم کراچی والے اتنے ڈھیٹ ہیں کہ طالبان کو بھتہ دیا، انھیں راؤ انور سے مروایا پھر راؤ انور کو بھتہ دیا لیکن کبھی بھی مان کے نہ دیے کہ کراچی میں طالبان موجود ہیں)۔ ابھی یار دوست طالبان سے بات کرنے کے لیے کوئی سفارش ہی ڈھونڈ رہے تھے کہ دوست کا فون آ گیا کہ فکر نہ کریں معاملہ 20 ہزار میں طے ہو گیا ہے۔

بھتہ خوروں کو اپنا دھندا چلانے کے لیے موٹی آسامی کی ضرورت ہوتی ہے جو کبھی اپنی جان بچانے کے لیے اور کبھی محض جان چھڑانے کے لیے فوراً جیب ڈھیلی کرنے پر تیار رہتی ہے۔

ڈیفینس میں کتنے بھی ٹرانسفارمر جل جائیں، جینریٹر خودبخود آن ہو جاتے ہیں، سرجن جتنے لاکھ بھی مانگے کیش جیب میں موجود رہتا ہے، ذیلی اداروں کے ذیلی پانی کے ٹینکر کا ریٹ جو بھی مقرر کردیں سوئمنگ پول تو پانی مانگتا ہے۔

پاک فوج کو ہم یونہی سلام نہیں کرتے، اس لیے کرتے ہیں کہ جب بھی کوئی کام سیویلین اداروں کے بس سے باہر ہو جاتا ہے تو وہ کام فوج خود سنبھال لیتی ہے۔ سیلاب، زلزلے، عمدہ گوشت کی سپلائی، جاسوسی کتوں کی فراہمی، سمندر میں بجری ڈال کر نئی آبادیاں بنانے کا کام، سب پاک فوج کو خود کرنے پڑتے ہیں۔

اب تو کراچی کے شہرہ آفاق کے کچرے کی صفائی کا کام بھی ایک ذیلی ادارے نے سنبھال لیا ہے۔ اب اس ٹھکرائے ہوئے شہر کے لوگ ایک دفعہ پھر عسکری اداروں کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ جس طرح ہماری جان فرعون جلاد اور نفسیاتی سے چھڑوائی تھی، ان نئے بھتہ خوروں کا بھی کچھ کریں یا پھر یہ کام ذیلی اداروں سے کروانے کی بجائے براہِ راست خود سنبھال لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •