عقیدہ، روحانیت، یقین اور حقیقت۔ ایک دلچسپ ڈائیلاگ


ظفر محمود وانی۔ جناب جیسے کہ کہا جاتا ہے کہ کوئی حادثہ، ایسے واقعات کا ایک تسلسل ہوتا ہے جو ہم سے پوشیدہ رونما ہو رہے ہوتے ہیں جیسے کوئی وہیکل ایکسیڈنٹ ہمارے لئے ایک ناگہانی حادثہ ہوتا ہے لیکن دراصل ہماری نظروں سے اوجھل کوئی پرزہ گھس رہا ہوتا ہے، یا کوئی بولٹ ڈھیلا ہو کر کھل رہا ہوتا ہے لیکن کیونکہ ہمیں اس خرابی کے۔ بارے میں معلوم نہیں ہوتا تو جب یہ پرزہ ٹوٹ کر کسی حادثے کا باعث بنتا ہے تو ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ اچانک حادثہ ہو گیا۔

اسی طرح ہماری تجزیہ کرنے اور اس سے نتیجہ نکالنے کی صلاحیت ہی ہمیں انسان بناتی ہے۔ مشتاق احمد یوسفی نے لکھا ہے کہ ”انسان واحد جانور ہے جو مصیبت پڑنے سے پہلے ہی مایوس ہو جاتا ہے“ ایسا اسی ذہن کے تجزیہ کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے ہوتا ہے جیسے ہمیں مہینے کے۔ شروع میں تنخواہ نہ ملے تو ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ آئندہ ماہ مشکل گزرے گا حالانکہ یہ سب ابھی ہونا باقی ہوتا ہے۔ اسی طرح زہین ترین انسان بھی اپنے ذہن کو کچھ فی صد ہی استعمال کر سکتا ہے باقی حصے میں کیا کچھ پوشیدہ ہے یہ ابھی معلوم نہیں، مشاہدے میں آیا ہے کہ کوئی مجزوب اچانک کوئی بات کہہ دیتا ہے اور وہ اسی طرح ہو جاتا ہے یہاں شاید اس کے دماغ کے نارمل سرکٹ متاثر ہونے کی وجہ سیسپارک کی طرح کوئی دور دراز اور استعمال میں نہ آنے والا سرکٹ چارج ہو جاتا ہے تو وہ بات اس کے منہ سے نکلتی ہے اور پوری ہو جاتی ہے جو ہمارے لئے جو چند ہی روایتی سرکٹس کی مدد سے زندگی گزارنے والوں کے لئے حیرت انگیز ہوتی ہے، مثال کے طور پر آج سے دو تین سو سال پہلے کا کوئی شخص اگر زندہ ہو کر آ جائے تو اس کے لئے یہ آج کی دنیا ایک جادو نگری ہو گی کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ یہ جو روشنی دینے والے آلہ جات لگے ہیں ان کے پیچھے کیا سورس ہے اور کس سرکٹ کے ذریعے یہ قوت یہاں پہنچ کر روشنی میں بدل رہی ہے۔

وہ جہاز دیکھے تو حیرت سے دوبارہ فوت ہو جائے کہ اس کو ائیرو ڈائنمکس کا کچھ معلوم نہیں ہے بس کچھ ایسی ہی حالت ہم لوگوں کی بھی ہے بہت کچھ ابھی نامعلوم ہے جو کہ ابھی ہم نے دریافت کرنا ہے اس لئے کوئی حتمی راے قائم کرنے کوذرا موخر کر دینا ہی بہتر ہے۔ ویسے بھی شاید ”حتمی“ کچھ بھی نہیں یہ صرف ہمارا گمان ہی ہوتا ہے۔

احتشام الحق شامی۔ جناب آپ تو ماہر روحانیات بھی ہیں

ظفر محمود وانی۔ آپ کی یہ بات کہ کیا یہ دنیا حقیقی بھی ہے یا یہ بھی خواب و خیال ہے تو میری ناچیز رائے میں یہ بات ایک لحاظ سے درست بھی ہے کیونکہ انسان اپنے مادی وجود میں ایک آرگینک ( نامیاتی ) شے ہے جس کو دوام نہیں ہے چاہے کتنی ہی کوشش کر لی جائے لیکن انسان نے لاکھوں سال کے ارتقائی عمل سے یہ ذہن حاصل کیا ہے یہ ذہن آج وہ کچھ کر رہا ہے کہ ہمارے لئے تصور کرنا بھی مشکل ہے، آئندہ یہ ذہن کچھ سو سال تک اس قابل ہو جائے گا کہ جس طرح ہم کسی ہارڈ ڈرائیو کی کاپیاں بنا لیتے ہیں اسی طرح ذہن کی کاپی بھی بنا لی جائے گی اور اس کو ڈیٹا سمیت محفوظ کر لیا جا سکے گا اب چاہے جسم نامیاتی طور پر فنا بھی ہو جائے لیکن ہماری شخصیت کی کمانڈنگ اور ڈرائیونگ فورس ہمارا ذہن ہوتا ہے تو یہ برقرار رہے گا۔

باقی جانوروں کی نسبت ہمارے تیز اور بہتر ارتقا کی وجہ بھی یہی ذہن کی خصوصیت ہے جو ہم اپنا علم، تجربات، مشاہدات اپنی اگلی نسل کے ذہن میں منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ابھی تک تو یہ کام قدرتی طریقہ کار کے تحت ہو رہا ہے آ ئندہ مستقبل میں یہی کام نامیاتی برقی سرکٹس کے ذریعے کیا جا سکے گا آج سے چند سال پہلے اسرائیل میں نامیاتی برقی کمپیوٹر سسٹم پر کام ہو رہا تھا لیکن بعد میں اس کام کو بوجوہ انتہائی خفیہ زمرے میں شمار کرتے ہوے پوشیدہ کر لیا گیا۔

اب نہ معلوم کتنی پراگریس ہے اور یہ کام کہاں پہنچا مختصرا یہ ہمارے دماغی سگنلز کے ذریعے کسی کمپیوٹر جو سپر کمپیوٹر بھی ہو سکتا ہے، کو کنٹرول اور آپریٹ کرنا ہے۔ ۔ باقی کرہ ارض پر زندگی کا براہ راست تعلق سورج کے ساتھ ہے ہماری گلیکسی ملکی وے میں دس ارب سے زیادہ سورج موجود ہیں کچھ پیدا ہو رہے ہیں کچھ ہمارے سورج کی طرح درمیانی عمر میں ہیں اور کچھ ختم ہو رہے ہیں ہمارا سورج اپنی عمر کے درمیان میں ہے اور اسے وجود میں آئے تقریبا سات ارب سال ہو چکے ہیں اور اگر باقی حالات ٹھیک رہے تو ابھی اسے ریڈ جائنٹ اور پھر وائٹ ڈرافٹ بننے میں مزید سات ارب سال باقی ہیں یہ دونوں صورتیں کسی سورج میں ایندھن کے ختم ہونے پر رونما ہوتی ہیں پہلے وہ بہت پھیل کر ریڈ جائنٹ بن جاتا ہے پھر سکڑ کر چھوٹا سا چاند نما وائٹ ڈرافٹ بن جاتا ہے۔ اس لئے نہ کسی کو ٹینشن دیں نہ ٹینشن لیں۔ اور اپنی مختصر زندگی ہنسی خوشی، سب پیاروں کے ساتھ گزاریں۔

ظفر محمود وانی۔ شامی صاحب اصل میں میں بالکل کچھ نہیں ہوں صرف ایک تجسس سے بھرا ہوا بچہ جو کچھ نہیں جانتا لیکن ہر سوال کرتا ہے۔

احتشام الحق شامی۔ واہ، بہت خوب۔

احتشام الحق شامی۔ ایک عورت مولوی سے دم کروانے گئی اور کہنے لگی مولوی صاحب میرے شوہر راتوں کو دیر سے گھر آتے ہیں۔ مولوی صاحب زیرِ لب مسکراتے ہوئے بولے بی بی یہ شکایت ہے یا دعوت۔

اظہر سید۔ شامی صاحب کے پاس تو خواتین آنا شروع ہو چکی ہے پتہ نہیں دم کے لئے آتی ہیں یا دعوت دینے لیکن فانی صاحب نے حادثہ کی وجہ پرزہ گھسنا بیان کی ہے ہمارا کہا یہ ہے اگر کوئی حادثہ ہوا ہے تو کوئی شخص چند ماہ پہلے اس کو اگر خواب میں یا تصور میں دیکھ لیتا ہے تو وہ کیا چیز کہلائے گی۔

ظفر محمود وانی۔ بصیرت، ایک انجینئیر کا جواب۔ مرفی لا بھی یہی ہے مرفی برٹش ائیر فورس میں ائیرو ناٹیکل انجینئیر تھا اس سے منسوب یہ لا ہے ”If any thing can go wrong it will ترجمہ اگر کسی بھی چیز یا مشین میں بگڑنے یا خراب ہونے کا امکان یا صلاحیت موجود ہو تو یقین رکھیں کہ ایسا ضرور ہو گا“۔

احتشام الحق شامی۔ لاشعور، چھٹی حس۔

اظہر سید۔ لاشعور اور چھٹی یا ساتویں حس لیکن حادثہ تو مستقبل میں ہونا ہے جو مرضی حس کہہ لیں لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ یہ دنیا شاید ہر وقت میں زندہ ہے آپ کبھی وقت پر قابو پا لیں تو ہمیشہ زندہ رہ سکتے ہیں زمان و مکان یا ٹائم اینڈ سپیس ایک حقیقت ہے۔

ظفر محمود وانی۔ کسی ٹینک میں جب تک کچھ بھر نہ جائے تو اس کے آوٹ لیٹ سے۔ کچھ حاصل کرنا ناممکن ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لاشعور اور تحت شعور کا فلنگ سورس کیا ہے؟ ان میں ڈیٹا کہاں سے آتا ہے اور یہ ڈیٹا عام حالات میں یا ذہنی بیداری کے عالم میں نا قابلِ مطالعہ کیوں ہوتا ہے۔

احتشام الحق شامی۔ اس بات پر تو متفق ہوں۔ لیکن کیا جنم جنم والی تھیوری کو آپ کی بات سے لنک کیا جا سکتا ہے؟

ظفر محمود وانی۔ سر آئزک نیوٹن کی تھیوری کے مطابق اگر کوئی جسم روشنی کی رفتار حاصل کر لے تو اس کے لئے وقت رک جاتا ہے یا ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن عملی طور پر موجودہ انونٹری کے بل پر کسی مادی جسم اور وہ نامیاتی بھی ہو روشنی کی رفتار حاصل کر لینا ناممکن ہے۔

ظفر محمود وانی۔ قدیم ہندو فلسفہ دانوں اور اہل علم نے شاید ہماری اسی ”تہ دار“ شخصیت کی تشریح کے لئے جنم جنم کی تھیوری تشکیل دی ہو۔

اظہر سید۔ سفر معراج پر یقین کر لیں تو روشنی کی رفتار سے سفر کرنے پر بھی عمل ممکن ہے۔ حضرت سلمان کے دربار میں ایک جن کو پلک چھپکتے ملکہ سبا کا تخت دربار میں لے آصنا بھی روشنی کی رفتار سے سفر ہی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3