بیاہی بیٹی بوجھ کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ہاں بیٹیاں جب بیاہی جاتیں ہیں تو ایک ہی پیغام ان کو دے کر بھیجا جاتا ہے کہ تم نے یہ شادی قائم ر کھنی ہے۔ اس شادی کے سفر میں تم نے ہی اپنی انا، اپنے خواب، حتی کہ اپنی عزت نفس تک کی قر بانی دینی ہے۔ اس پیغام کے ساتھ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چو نکہ تم بچپن سے لے کر ابھی تک اپنے باپ، بھائی کی عزت کا بو جھ اٹھاتی آرہی ہو۔ اب اس بو جھ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور اب تم اپنے سسرال اور خاص طور پر اپنے خاوند کی عزت کی بھی ٹھیکیداربن جاؤ گی۔

ان سب پیغامات اورتوقعات کے ساتھ ہی اس کو اگلے گھر رخصت کیا جاتاہے۔ شادی کے وقت جب نئی زند گی کے حوالے سے بیٹی کے دل میں پہلے ہی و سوسے اور خد شے اس کا سکون تباہ کر چکے ہو تے ہیں۔ تب اس کو اپنوں کی زیادہ ضرورت ہو تی ہے۔ مگر اپنے اس کو یہاں تک بھی اجازت نہیں دیتے کہ وہ اپنے نکاح نامے میں شامل خلع کا حق لے سکے یا اپنے حق مہر کی رقم خود مقر ر کر سکے۔ یہ سب کچھ اس کے علاوہ باقی سب ر شتے خود طے کر تے ہیں۔

جب اس کو رخصت کیا جاتا ہے تو کو ئی اس کے پاس جا کر یہ نہیں کہتا کہ اگلے گھر اگر کو ئی مسئلہ ہو ا تو چپ نہ ر ہنا ہمیں بتا نا۔ اگر شوہر ہاتھ اُٹھائے تو لا وارثوں کی طر ح مار نہ کھا نا بلکہ تمہارا باپ اور بھائی زند ہ ہیں تم واپس آجا نا۔ بیٹی بیاہ کر والد ین کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی بلکہ ذمہ داری ایک نیا رخ اختیار کر لیتیں ہیں۔ مگر ہمارے ہاں تو واضح الفاظ میں یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ بیٹی شوق سے رہنے آو مگر تمہارا جینا مر نا اب وہاں ہی ہے۔

بلکہ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاتا ہے کہ واپس بس تمہاری لاش ہی آے۔ بیٹیوں کے بارے میں والدین کی سوچ اتنی سخت کیوں ہو جاتی ہے؟ کیوں بیٹیاں ہی والدین اور بھائیوں کی عزت کا بو جھ اپنے کند ہوں پر اٹھائیں۔ عزت کی ٹھیکدار صرف یٹیا ں ہی کیوں بنتی ہیں؟ عزت انسان کے اپنے کر دار سے بنتی ہے نہ کہ بیٹی کے چپ رہ کر ظلم سہنے سے۔ وہ رشتے جو بیٹی کو انگلی پکڑ تک چلنا سیکھا تے ہیں اس کو زمانے کی ہر آزمائش سے بچا کر رکھتے ہیں پھر وہ اس سے اتنے بیگانے کیوں ہو جاتے ہیں؟

شادی ایک مقدس بندھن ہے اس بندھن میں دو لوگ، دو خاندان آپس میں جڑتے ہیں۔ یہ دو لو گوں کے در میان شروع ہو نے والا ر شتہ صد یوں تک دو نسلوں میں قائم ر ہتا ہے۔ بیٹی کو تو بیا ہنے سے پہلے کھا نا پکا نے سے لے کر شو ہر سے مار کھا نے تک کے لئے تیار کر لیا جا تا ہے۔ جبکہ مرد حضرات کو صرف اور صرف حکمرانی سیکھا ئی جا تی ہے۔ ہمارے ہاں یہ سوچ بہت عام ہے کہ لڑکا اگر کچھ نہ کر ے تو شادی کر دو، اگر نشہ کرنے لگ جاے تو شادی کر دو، اگر کردار کا ڈھیلا نکل آئے تو شادی کر دو۔

مطلب کے ہر مسئلے کا حل صرف اور صرف شادی۔ گھر والوں کی سوچ ہو تی ہے کہ اُنکے نکمے، معذور، نشئی، بھنگی، جواری لڑکے کو صرف اور صرف ایک بیگا نی لڑکی بیو ی بن کر ہی درست کر سکتی ہے۔ بند ہ پو چھے آپ والد ین، بہن بھائی اس کو درست نہ کر پاے تو ایک بے چاری لڑکی کیسے اس کو سید ہی راہ پر لے کر آسکتی ہے۔ بلکہ ایسی شادیوں میں صرف بُرا حال ایک لڑکی کا ہی ہو تا ہے۔ بچوں کی فو ج پیدا کر دی جاتی ہے تا کہ عورت اتنی مجبور ہو جائے کہ کبھی بھی اپنے شوہر کو چھوڑ نہ سکے۔

عورت بھی کیا کر ے اس کو ہر ہال میں یہ زند گی جینی پڑ تی ہے کیو نکہ اُس کے میکے والوں کو ایک مر ی بیٹی تو منظور ہو تی ہے مگر طلاق یافتہ نہیں۔ یہ سب اس لئے ہو تا ہے کہ ر شتہ شروع کر نے سے پہلے سچ کا سہارا نہیں لیا جاتا۔ اپنے بیٹے کی زند گی بنانے کے چکر میں بیگانی بیٹی کی زند گی تباہ کی جاتی ہے۔

اس حوالے سے میں آپ کو ایک دلچسب واقعہ بتا تی چلوں کہ ہمارے گاؤں میں ایک تا نگہ والے چا چا اس لئے بہت مشہور تھے کہ وہ لو گوں کے ر شتے نہیں ہو نے دیتے تھے۔

چونکہ اُس وقت صرف ایک ان کا ہی تا نگہ تھا جو مہمانوں کو اسٹیشن سے گاؤں لے کر آتا تھا۔ تو وہ مہمانوں کو گاؤں لاتے وقت پو چھ لیتے تھے کہ کس کے گھر ر شتہ دیکھنے جا رہے ہو۔ اور وہ اُس لڑکے کے بارے میں سب کچھ سچ سچ بتا دیتے تھے اور اُن کو یہ بھی بتاتے تھے کہ لڑ کے والے مزید کون سے جھوٹ بو ل سکتے ہیں۔ جب وہ لوگ ر شتہ دیکھنے جاتے تھے تو وہی جھوٹ ان سے بو لے جاتے تھے جو چاچا تانگہ والا نے بتا ئے ہو تے تھے۔

مہمان ر شتہ جھوڑے بغیر ہی واپس چلے جاتے تھے۔ جب گاؤں والوں کو معلوم ہوا کہ ر شتہ نہ جڑنے میں ایک بہت بڑا ہاتھ ”چا چا تانگے والے“ کا تھا تو سب چا چا تانگہ والا سے نفر ت کر نے لگے اور بول چال بھی بند کر دی گئی۔ پنچایت بٹھائی گئی اور چا چا سے پو چھا گیا کہ انھوں نے یہ سب کیوں کیا۔ تو انھوں نے کہا کہ ”میں کسی کی بھی بہن بیٹی کی زند گی بر باد ہو تے نہیں دیکھ سکتا تھا اگر میں سچ جان کر بھی چُپ ر ہتا تو محشر کے دن میں بھی اس ظلم میں شامل سمجھا جا تا۔

انھوں نے کہا کہ جو سچ پر مبنی ر شتے تھے اس میں وہ ر کاوٹ نہیں بنے۔ مگر جو رشتے جھوٹ کی بنیاد پر تھے وہ اُنھوں نے ہو نے نہیں دیے۔ اس واقعہ سے سیکھنے والی بات یہ ہے کہ ہم سب کو بھی اپنی اپنی جگہ کو شش کر نی چاہیے کہ کسی دوسرے کی بیٹی کی زند گی تباہ نہ ہو۔ اس لئے بیٹے میں جو بھی مسئلہ ہو وہ بیٹی والوں کو ضرور بتائیں۔ والد ین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی کو یہ اعتماد دے کر بھیجیں کہ اگر وہ خوش اور ذہنی طور پر مطمئن نہیں ہے تو ر شتہ توڑ سکتی ہے۔

طلاق کے بعد رشتہ ختم ہو تاہے نہ کہ زند گی۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اگر بیٹی ذہنی معذور شو ہر، لالچی سسرال کے ظلم، میکے کی بے ر خی، کی و جہ سے جان دے دیتی ہے، یاخو د کشی کرتی ہے تو یہ سید ہا سادھا قتل ہے اور اس کے ذمہ دار وہ تمام رشتے ہو تے ہیں جن پر اسے مان ہو تا ہے۔ شادی جیسے ر شتے کو نبھانے کی جتنی ذمہ داری لڑکی پر ہو تی ہے اُتنی ہی لڑکے پر بھی عائد ہو تی ہے۔ لیکن اگر دونوں میں سے کوئی ایک خوش نہ ہو تو گُھٹ گُھٹ کر زند گی گزانے سے بہتر ہے کہ عزت کے ساتھ الگ ہو لیا جائے والد ین اور معاشرے کو ان کا ساتھ دینا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •