ٹوٹتے جڑتے خواب


مقام مسرور بیس کراچی، 9 بجے صبح، تاریخ شاید 7 ستمبر تھی۔ زمانہ تھا 1998 کا۔ ایک چھوٹی سی بچی گیلی ریت پے بیٹھی گھروندہ بنا رہی تھی۔ اچانک 3 طیارے فضا میں بلند ہوئے ان کے دھویں رنگ برنگے تھے۔ کچھ دیر وہ اکٹھے فارمشن بنا کر کچھ شکلیں بناتے رہے پھر اکیلے اکیلے دل اور طرح طرح کی شکلیں بنا کر پھر اکٹھے ہو گئے۔ بچی نے ان چنگھاڑتی بلاؤں کو تادیبی نظروں سے گھورا۔ صبح کی سیر میں اس کی سب سے بڑی بہن اس کے ابو کو بتا رہی تھی کہ آج وہ لنچ کے بعد ڈیفنس ڈے ایگزیبیشن پر ہی آ جائیں کہ اسکول اور کالج کے سب بچے اسمبلی کے بعد فوری وہیں جائیں گے۔

پریپ میں پڑھتی بچی کے دماغ نے صرف یہی مطلب اخذ کیا، آج چھٹی۔ اور سیر سے واپس آ کر اس کا باغ کے کونے پر پڑے بڑے سے ملائم گول پتھر پر بیٹھنا اس بات کا اعلان تھا کہ آج اسنے اسکول نہیں جانا اسے ڈسٹرب نہ کیا جائے۔ اور اب ریت کا گھر بناتے ان شور مچاتے طیاروں کے دخل در معقولات کرنے پر وہ ناخوش نظر آ رہی تھی۔ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ آنے والی ایک دہائی میں انہی آوازوں اور ایگزیبیشنز کو ترسے گی۔

2003 تک کی عیدیں، شبراتیں، قومی تہوار یونہی ہنستے کھیلتے بھرپور موج میلے میں گزرے۔ جشن اور چراغاں جیسے الفاظ بھی ان لمحات اور احساسات کا احاطہ نہیں کر سکتے۔ آہستہ آہستہ معلوم نہیں کیوں یہ رونقیں معدوم ہوتی گئیں۔ بس پھر یہ کہا جاتا کہ رش والی جگہ پر نہیں جانا۔ پارک کی طرف رخ کرتے تو ویرانی منہ چڑاتی۔ بازاروں کی رونقیں مانند پڑتی گئیں۔ زندگی میں کوئی کمی تھی پر معلوم نہ تھا کہ وہ کمی کیا ہے۔ دن میں کئی کئی بم دھماکوں کی خبریں معمول بن گئیں تھیں۔

کچھ مسجدوں میں ہوتے، کچھ مزاروں میں اور کچھ بازاروں میں۔ کچھ چیتھڑے مارکیٹ میں بکھرتے کچھ ہسپتالوں میں۔ کچھ خواب اسکولوں میں ٹوٹتے کچھ پارکوں میں۔ کالی، خاکی وردیاں لہو رنگ ہوتیں کہیں مقامی لباس۔ کبھی خبر آتی فلانے کرائے کے گھر میں بارودی مواد بناتے ہوئے دھماکہ کبھی خبر چلی کہ وقت کے بادشاہ کی فیکٹری میں دشمن ملک کے جاسوس پائے جاتے ہیں۔ دشمن تو نہی جلا فیکٹری کا ریکارڈ جل گیا۔ ملک جل گیا۔ عزت، وقار، معاشیات، سماجیات، کھیل، شوبز سب زوال پزیر تھے۔ خواب دیکھنا عجیب لگنے لگا تھا اور امن کی خواہش کرنا عجیب ترہو گیا۔ سبکو اس ماحول میں رہنے کی عادت ہو گئی۔ اوراب ان سب باتوں کو َتھاَ لکھنا عجیب سی خوشی دے رہا ہے۔

پھر کسی سپرمین کو خیال آیا کہ ملک کو اس بے رونق طلسم سے آزاد کرووانا ہے تو ملک کو سب سپرمینز کہ ملکر اس عفریت کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ اسمبلیوں والے سپرمین نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے متعدد قوانین بنائے۔ باقی سب سپرمینز کے ساتھ ملکر نیشنل ایکشن پلان بنایا۔ انتظامیہ اور اسٹیبلیشمنٹ نامی سپرمین نے ملکر اس پلان کو نافذ کرنے کی تقریباؔ کامیاب کوشش کی اور عدالت میں بیٹھے سپرمین نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو سزائیں دیں۔

ماؤں نے شہید پیدا کیے۔ عوام نامی سپر پاور نے حکومت کا ساتھ دیا۔ عالمی طاقت کو پیغام پہنچا دیا گیا کہ آپ کے ڈرونز کی مزید خدمات نہیں چاہیے۔ آہستہ آہستہ عیدوں کی خوشیاں واپس آنے لگیں، قومی دن اور تہوار منائے جانے لگے، پارکوں اور بازاروں کی روونق واپس آ گئی۔ وقت کی شریانوں میں جما خون بہنے لگا۔ اسمبلی نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے جو قوانین بنائے تھے ان میں مکان یا کمرہ کرائے پر دینے کے متعلق فوجداری اور دیوانی قوانین بھی شامل تھے۔

دہشت گرد کہاں سے آتے ہیں؟ کہاں رہتے ہیں؟ بارودی مواد کہاں رکھتے یا بناتے ہیں؟ یہ معلوم نہ ہو پاتا۔ جن کو سہولت کار کے طور پر گرفتار کیا جاتا وہ یہ کہہ کر چھوٹ جاتے کہ انہوں نے کرایہ ادا کیا اور ہم نے انہیں مکان یا کمرہ یا سواری کرائے پر دے دی۔ بہت سے افغان بھائیوں کے پاس شناختی کارڈ بھی نہ ہوتا۔ معمول سے زیادہ کرایہ دے کر وہ پھر بھی مکان حاصل کر لیتے۔ 2009 میں قانون آیا کہ مالک مکان اور کرایہ دار آپس میں کرایہ داری کا رجسٹرڈ معاہدہ کر کے رہیں گے۔

جو کرایہ داریاں پہلے سے چل رہے ہیں وہ 2011 تک معاہدہ کرلیں اور رجسٹرڈ کروا لیں۔ اگر ایسا نہ کریں گے تو کرایہ داری کے متعلق کوئی بھی دعویٰ تب تک نہ سنا جائے گا جب تک مدعی بتایا گیا جرمانہ نہیں ادا کر دے گا۔ یہ قانون بھی بنا کہ ہوسٹلوں میں رہنے والوں کا مکمل ریکارڈ قریبی تھانوں میں جائے گا۔ ۔ اس کے بعد کرایہ داری کے قانون کو مزید مؤثر بنانے ک لئے 2015 میں فوجداری قانون بنایا گیا جس کے تحت کسی بھی مالک مکان کا کرایہ دار سے فوری اس کے شناختی کارڈ کی کاپی اور مناسب ریکارڈ لینا ضروری قرار پایا اور 15 دن کے اندر متعلقہ تھانہ میں اس بابت اطلاع دینا بھی ضروری بنا دیا گیا۔

جس کا اندراج تھانے کے کرایہ داری والے ریکارڈ رجسٹر میں کیا جاتا ہے۔ بصورت دیگر 6 ماہ تک کی قید اور 10000 سے 100000 روپے تک جرمانہ ہو گا۔ اس قانون کے اطلاق کے پہلے ہی ماہ 1000 تک گرفتاریاں ہوئیں اور دہشت گردی کے واقعات میں بدتریج کمی واقع ہوتی گئی۔ یہ قوانین بہت مؤثر ثابت ہوئے مگر ہمارے معاشرتی شعور کہ ابھی بالغ ہونے میں وقت لگے گا۔ ٍ

کچھ عرصہ قبل محترم عرفان صدیقی صاحب کی گرفتاری کی خبر کانوں میں پڑی۔ پہلا آنے والا خیال تھا کہ لو جی نواز شریف کے بعد اب مشیروں کی باری آ گئی مگر عرفان صدیقی کا ریکارڈ تو کلین ہے یار۔ بچپن میں قائداعظم کے متعلق ان کے کالمز پڑھے جن میں غالبا انہوں نے قائداعظم کو سیکولر کہنے والوں کو دلائل دے کر منوایا تھا کہ قائداعظم ایک سچے مسلمان تھے۔ ان کالمز نے مجھے ان کا فین بنا دیا تھا۔ پھر خبر سنی وہ نواز شریف کے مشیر بنے۔

تنقید کرنے والوں نے تنقید کی کہ سیاست کے خارزار میں صدیقی صاحب بھٹک جائیں گے مگر میرا تب بھی یہی خیال تھا کہ پڑھے لکھے باشور لوگوں کو مشیروں میں ضرور ہونا چاہیے۔ مگر کرپشن کیسز میں گرفتاری۔ دل نہیں مانتا۔ کورٹ انشا اللہ ثبوتوں کی روشنی میں درست فیصلہ کرے گی۔ ذرا تفصیل دیکھنی چاہیے، یہ کیا یہ تو کرایہ داری ایکٹ کے انڈر گرفتار کیے گئے ہیں۔ پھر ایک طوفان اٹھا ہمت کیسے ہوئی ایک قلم کار کو گرفتار کرنے کی۔ ان پر شک کرنے کا مطلب ہے کہ پوری قلم کار برادری پر شک کرنا۔

کیا واقعی؟ پھر قانون کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی جاتی ہیں اور چھٹی والے دن ضمانت ہو جاتی ہے۔ ہمارے اجتماعی شعور میں پرسنیلیٹیز کی پوجا بیٹھ چکی ہے۔ قانون سے نفرت ہمارے لا شعور میں بیٹھ گئی ہے اور ہمیں احساس بھی نہیں۔ کسی نے یہ پوچھا کہ صدیقی صاحب نے اپنے مہمان کے متعلق کوائف قریبی تھانے میں جمع نہ کروا کر قانون کو نظر انداز کیا ہے َ؟ وہ قانون جو اسلام اور ہر مہزب معاشرے میں انسانوں سے بالاتر ہے۔ اگر ان کا بیٹا بھی ذمہ دار تھا تو قانون ضروری تفتیش کے بعد ان کو چھوڑ دیتی۔

قانونی معاملات کو قانون والوں کو سلجھانے دیں۔ ان پر اعتبار کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ ان کو بھی ان کے کام کرنے کی عادت اور ذمہ داری اٹھانے کی عادت ڈالنے پڑے گی۔ ہاں جب فیصلے آ جائیں اور عوام ان فیصلوں سے مطمئن نہ ہوں تو ثبوت اور استدلال مانگنا ہمارا حق ہے۔ پر یہ کیا کہ ابھی تو کیس شروع بھی نہیں ہوا اور قانون جذبات سے لبریزعوام کے ہاتھ میں۔ اتحاد اچھی چیز ہے پر کیا ہی اچھا ہو کہ یہ اتحاد قانون کی پاسداری ک لیے ہو۔ ورنہ پھر ملک چلانے والوں کی ملوں سے را کے ایجنٹ پکڑے جاتے رہیں گے۔ پاکستان سے خون رس رس کر ختم ہو جائے گا۔

قدرت کا قانون ہے وہ قومیں مٹ جاتی ہیں جس کا قانون کمزوروں کے لئے اور ہے اور طاقتوروں کے لئے اور۔ طاقت قلم کی طاقت بھی ہوتی ہے۔ فیصلے قرائن کے مطابق ہوتے ہیں جذبات کے مطابق نہیں ورنہ گلیاں بازار سنسان ہو جاتے ہیں۔ اور اس ڈراؤنے خواب میں کم از کم میں واپس نہیں جانا چاہتی۔

Facebook Comments HS