عمران خان کی بے وقت کی راگنی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"irshadوزیراعظم نواز شریف سے اختلاف اپنی جگہ، نون لیگ کے ساتھ عمران خان جو سلوک کرنا چاہتے ہیں وہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ اقتداری سیاست میں کامیابی کا پیمانہ ہی مخالفین کو زچ کرنا ہے۔ خاص کر ان کی ساکھ کو گزند پہنچائی جاتی ہے لیکن دنیا بھر کی جمہوری قوتوں کی روایت ہے کہ ملک کے اندر کچھ قومی مسائل اور ترجیحات پر وہ یکساں نقطہ نظر اور پالیسی اختیار کرتی ہیں اور پھر اس کے تابع جماعتی اور گروہی پالیسیاں تشکیل دیتی ہیں۔ پاکستان میں کشمیر، ملکی سلامتی اور خاص کر جوہری پروگرام جیسے ایشوز پر وسیع پیمانے پر اتفاق رائے پایاجاتا رہا ہے۔

سانحہ مشرقی پاکستان رونما ہوچکا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو شملہ میں بھارتی ہم منصب اندرا گاندھی سے مذاکرات کے لیے گئے تو جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد اور کچھ دوسرے سیاستدانوں نے انہیں لاہور ائیر پورٹ پر رخصت کیا۔

آج پاکستان کی سالمیت کو ایک منفرد اور مشکل نوعیت کا چیلنج درپیش ہے۔ سرحدوں پر توپوں کی گھن گرج سے ملک بھر میں اضطراب اور ہیجان کی سی کیفیت ہے۔ چند دن قبل قومی قیادت سر جوڑ کر اسلام آباد میں بیٹھی کہ اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ حمکت عملی مرتب کی جائے۔ آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ دنیا کو یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ پوری قوم اور اس کی لیڈرشپ ایک صفحے پر ہے۔

عمران خان نے آل پارٹیز کانفرنس میں تشریف لانا مناسب نہ سمجھا۔ شاہ محمود قریشی نے نمائندگی کردی لیکن افسوس کہ انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بھی بائیکاٹ کر دیا جہاں پاک بھارت کشیدگی اور مسئلہ پر سیر حاصل بحث و مباحثہ ہوا۔ پارلیمان ہی وہ واحد فورم ہے جہاں ملکی پالیسیاں طے ہوتی ہیں نہ کہ چوک و چوراہا۔

کشمیر ہی نہیں اب تو مسئلہ خود پاکستان کی اپنی سلامتی کا درپیش ہے۔ اڑی حملے کے بعد بھارت سینگ اڑانے کو بےچین ہے۔ دنیا کی بھی اسے درپردہ حمایت حاصل ہے۔ یہ وقت تھا کہ تحریک انصاف اور اس کے قائد عمران خان ان اجلاسوں میں شریک ہوتے۔ اپنا نقطہ نظر پیش کرتے۔ عسکری لیڈرشپ کو بھی مخاطب کرتے۔ ان کمزوریوں کی نشاندہی کرتے جنہوں نے پاکستان کو دنیا میں تنہا کر دیا ہے۔ تین ماہ گزر چکے کشمیر میں کرفیو ہے۔ نوے کے قریب نوجوان شہید ہوگئے، گیارہ ہزار زخمی ہوئے۔ دو سو کو نابینا کر دیا گیا لیکن دنیا کے دارلحکومتوں میں کشمیر پر مجرمانہ خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ کوئی ایک ملک یا عالمی ادارہ بھی ایسا نہیں جو کھل کر انسانی حقوق کی پامالیوں کی مذمت کرتا ہو۔ کشمیریوں کے حقوق کی بات کرتا ہو۔ قبرستان کی اس خاموشی کو توڑنے کے لیے عمران خان کوئی راستہ تجویز کرتے۔ ان کی آکسفورڈ کی تعلیم اور تربیت کا کچھ تو ملک اور قوم کو فائدہ ہوتا۔ برطانیہ میں ان کے تعلقات کا چرچا بہت ہے کم ازکم وہ کشمیر پر جمائما خان سے کوئی ٹویٹ کرا دیتے۔

کرپشن، کرپشن اور کرپشن کے سلوگن پر اس ملک کی رائے عامہ کو متحرک نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی زندہ مثال یہ ہے کہ نوے کی دہائی سے وہ کون سا الزام ہے جو پی پی پی کی قیادت بالخصوص آصف علی زرداری پر نہ لگایا گیا ہو لیکن پی پی نہ صرف گزشتہ عام الیکشن میں سرخرو ہوئی بلکہ اس وقت بھی ملک کے دوسرے بڑے صوبے میں اس کی حکومت قائم ہے۔ قومی اسمبلی میں دوسری بڑی پارلیمانی سیاسی جماعت ہے۔ کرپشن پر قوم کو متحرک کرنے کے لیے عمر خضر چاہیے۔ عمران خان کو سوچنے ہوگا کہ کچھ اور ایسے ایشوز بھی ہیں جو قوم کے دل کے تاروں کو چھیڑ سکتے ہیں۔ انہیں کچھ نئے سلوگن بھی تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ مجھے نہیں لگتا کہ وہ اگلے عام الیکشن میں کوئی بڑی کامیابی حاصل کرسکیں گے۔

ان کے برعکس بلاول بھٹو نے حالیہ ہفتوں میں ایک قومی لیڈر ہونے کا تاثر گہرا کیا ہے۔ سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شریک ہوئے۔ قبل ازیں آل پارٹیز کانفرنس میں نہ صرف شرکت کی بلکہ بھرپور طریقے سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ بلاول بھٹو گزشتہ چند ماہ کے اندر ایک زیادہ بالغ نظر سیاستدان کے طور پر ابھرے ہیں۔ ایسا نظر آتا ہے کہ وہ پی پی پی کی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے یا کم ازکم اسے مزید تباہی سے بچانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ ان کے اردگرد اعتزاز احسن اور قمر الزمان کائرہ جیسے منجھے ہوئے سیاستدانوں کو دیکھ کر حوصلہ ملتا ہے کہ ابھی اس خاکستر میں چنگارہ موجود ہے۔

قومی سطح پر ہونے والے حالیہ اجلاسوں کا ایک ہی حاصل ہے کہ سیاستدانوں اور فوج کے مابین کھل کر ڈائیلاگ شروع ہوگیا ہے۔ ایک دوسرے کی عدم موجودگی میں غیبت اور ٹانگ کھینچنے کے روایتی کھیل کی بجائے ان مسائل کی کھل کر نشاندہی کی جا رہی ہے جن کی بدولت پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا ہے اور کشمیر پر اسے خاطر خواہ حمایت نہیں مل رہی۔ ان میں سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی یا دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کا الزام ہے۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے نے بڑی جرأت کا مظاہرہ کیا اور عسکری قیادت کے گوش گزار کردیا ہے کہ سویلین ادارے جن لوگوں کو گرفتار کرتے ہیں انہیں اکثر اوقات چھڑا لیا جاتا ہے۔ اس طرح قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس ہوجاتے ہیں۔ ان میں کام کرنے کا جذبہ باقی نہیں رہتا۔ حالات رفتہ رفتہ خراب سے خراب تر ہوجاتے ہیں۔

اچھی بات یہ ہے کہ عسکری لیڈر شپ نے اس نقطہ نظر کو قبول کیا اور اس مسئلہ کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے کچھ نئے اقدامات تجویز کرنے جا رہے ہیں جو جنگ کے خطرے کو ٹالنے میں بھی مددگار ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات میں تیزی آسکتی ہے۔ ممبئی حملے کے حوالے سے زیر التوا مقدمات پر پیش رفت ہوسکتی ہے اور اڑی کے مسئلہ کو بھی اس زاویئے سے دیکھا جاسکتا ہے کہ کہیں اس حملے میں پاکستان کی سرزمین کو استعمال تو نہیں کیا گیا؟ کئی وزیراعظم نوازشریف کے دورہ امریکہ کو سبوتاژ کرنے کی کوشش تو نہیں کی گئی؟ کہیں کشمیر کی تحریک کی شدت توڑنے کی خاطر کسی نے یہ حملہ تو نہیں کرایا؟

جنگ اگر مسلط کر دی گئی تو پھر پوری قوم کو ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے لیکن یہ کوئی ایسا عمل نہیں جس کی تمنا کی جائے۔ تین دن قبل چکوٹھی میں کنٹرول لائن پر پاکستانی فوج کی آخری چوکی پر جانے کا موقع ملا۔ جوانوں اور مقامی آبادی کا حوصلہ دیکھ دنگ رہ گیا کہ توپوں کے سائے تلے یہ لوگ بہادری اور بے جگری سے وطن کا دفاع کرنے کو تیار ہیں۔

کمان پل سے چند سو میٹر پہلے اچانک ایک ادھیڑ عمر عورت ہمارے گاڑی کی طرف لپکی اور چلا چلا کر کہہ رہی تھی کہ چند سو فٹ کی دوری پر بہنے والے دریائے جہلم میں ایک نوجوان کی نعش دیکھی ہے۔ معلوم نہیں یہ کوئی مقامی ہے یا پھر مقبوضہ کشمیر سے کسی کی نعش بہہ کر آئی ہے۔ اللہ کے بندوں اس بچے کو دریا سے نکالو!

 بے بسی سے دریا کی طرف دیکھا اور تیزی سےگزر گئے۔ وہاں رکنے کی اجازت نہ تھی۔ لیکن دل وماغ پر اس عورت کی آواز اور چہرہ نقش ہوچکا ہے۔ وہ ہر روز مجھے کہتی ہے کہ اس بچے کو دریا سے نکالو۔

حقیقت یہ ہے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں بلکہ خود ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان نے ابھی تک محتاط رویہ اختیار کیا ہواہے جسے کمزوری یا بزدلی پر معمول نہیں کیاجانا چاہیے۔ جیسے کہ گزشتہ کالم میں بھی لکھاتھا کہ جنگوں سے کشمیر کا مسئلہ مزید الجھ جاتاہے۔ یہ داخلی تحریک اور عالمی حمایت سے حل ہونے والا مسئلہ ہے۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 168 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood

Leave a Reply