ہمارے آس پاس جب بھی کوئی لڑکی موت کے گھاٹ اتاری جاتی ہے تھوڑے دن کے لیے شور مچتا ہے۔ دو تین اطراف سے ایک آوازیں اٹھتی ہیں۔ ہمیشہ ایک جیسی باتیں دہرائی جاتی ہیں اور پھر لوگ اپنی ذاتی پروموشن میں لگ جاتے ہیں۔ ہمیشہ بات مردوں کو گالیاں اور کوسنے دینے سے لے کر ملک کے ناقص قانون تک جاتی ہے اور ختم ہوجاتی ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے ہمارے دانش مند طبقے اور مخصوص اذہان نے لڑکیوں کو کوئی مت ( نصیحت) نہ دینے کی قسم اٹھا رکھی ہے کہ اس اندھیر نگری میں آدھا نہ سہی پچیس فیصد قصور تو ان کا بھی ہے۔
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے بچیوں کے تحفظ کے اقدامات کی کھچ اڑا اڑا کے لڑکیوں کو اب بہت آسان اور سہل رسائی بنا دیا ہے۔ اب سے چند دہائیاں پہلے تک لڑکی کی کوئی حیثیت کوئی وقار ہوتا تھا۔ منگنی کے بعد بھی منگیتر کی رسائی اتنی آسان نہیں تھی۔ لڑکی خاصے کی چیز ہوا کرتی تھی۔ اب تو یہ حالت ہے کہ ادھر رابطہ ہوا نہیں ادھر لڑکی لڑکے کے بستر میں پہنچ جاتی ہے۔ اپنی لذت اندوزی کا حق وصول کرنے کے لیے۔ جب یہ صورتحال ہوگی تو استعمال کرنے والا مولی گاجر کی طرح کاٹے گا بھی۔
Read more