تھوہر کی کاشت

حجاج بن یوسف جب کوفہ کا گورنر بنا تو اپنے پہلے خطبے کا آغاز ان الفاظ میں کیا۔ واللہ یا اہل العراق انی لارى رؤوساً قد اینعت وحان قطافھا، ترجمہ ( خدا کی قسم! اے عراق والو! میں دیکھ رہا ہوں کہ سروں کی فصل پک چکی ہے اور اس کے کٹنے کا وقت آ گیا ہے ) ۔ اہل کوفہ کے رنگ فق ہو گئے۔ چہروں پہ زردیاں کھنڈ گئیں اور مجمعے کو سانپ سونگھ گیا۔ وہی لوگ جو

Read more

سوہنی مہینوال کا قصہ

ویکھ چھلاں پیندیاں نا چھڈیں دل وے، ( اے میرے مانجھی دریا کے اچھلتے بہاؤ کو دیکھ کر دل مت چھوڑو) ہاں لے کے ٹھل وے ( ہاں کشتی کو لے کر آ گے چلو) اج مہینوال نوں میں جانا مل وے۔ ( آ ج میں اپنے مہینوال کو مل کے رہوں گی) ہاں ایہہ ای دل وے ( میرا دل یہی کہتا ہے ) یار نوں ملے گی اج لاش یار دی ( محبوب کو آ ج اپنے محبوب

Read more

لنگی بردار اوگھڑ سادھو اور عورت

بزرگوں سے سنا ہے کہ کسی محلے میں ایک ہندو سیٹھ اور ایک مسلمان ساتھ ساتھ رہا کرتے تھے۔ مسلمانوں کے گھر گوشت پکتا تو سیٹھانی کا بھی من کھانے کو کرتا۔ آخر سیٹھانی نے مسلمان بی بی کے ساتھ دوستی گانٹھی اور گاہے گاہے بھنا ہوا گوشت چکھ لیا کرتی، اس دوران رازداری شرط تھی کہ سیٹھ کو اس حرکت کا پتا نہ چلے، ایک دن جانے کس بات پہ دونوں عورتوں میں ٹھن گئی۔ اب مسلمان خاتون ہاتھ

Read more

پنجاب کالج اور پروفیسر کی موت

اب انسانی جان کا مول بھی مارکیٹ کا بھاؤ تاؤ دیکھ کر لگایا جاتا ہے۔ کسی کمشنر کا کتا گم ہو جائے تو خبر مین سٹریم میڈیا میں آجاتی ہے اور کئی کئی بار دہرائی جاتی ہے اور کہیں مجبور پروفیسر، ظالم پرنسپل کے ستم کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار جاتا ہے تو کوئی خبر ہی نہیں بنتی۔ میں نے کچھ عرصہ قبل بھی عوام کی آنکھوں سے پرائیویٹ مافیا کی باندھی ہوئی کالی پٹی ہٹائی تھی

Read more

کہانی ایک دیسی گورے کی

وہ آیا۔ اس کے ہاتھ میں چھڑی تھی اگرچہ اسے اس کی ضرورت نہیں تھی، مگر پھر بھی چھڑی ایک علامت تو ہے۔ آپ جانتے ہیں نا وہ ایک کہاوت ہے ”جس کی لاٹھی۔“ ۔ سر کے بال بہت اچھے طریقے سے جیل لگا کر بنائے ہوئے، تازہ شیو کیا چہرہ اور لباس ایسا کہ بے شکن پتلون کی کریز صلاح الدین ایوبی کی تلوار کی دھار کی طرح تیکھی، قمیص بھی بالکل اچھی طرح استری کی ہوئی کہ شکن

Read more

نور مقدم کیا ایک تاریک رات کا آ غاز ہے؟

ہمارے آس پاس جب بھی کوئی لڑکی موت کے گھاٹ اتاری جاتی ہے تھوڑے دن کے لیے شور مچتا ہے۔ دو تین اطراف سے ایک آوازیں اٹھتی ہیں۔ ہمیشہ ایک جیسی باتیں دہرائی جاتی ہیں اور پھر لوگ اپنی ذاتی پروموشن میں لگ جاتے ہیں۔ ہمیشہ بات مردوں کو گالیاں اور کوسنے دینے سے لے کر ملک کے ناقص قانون تک جاتی ہے اور ختم ہوجاتی ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے ہمارے دانش مند طبقے اور مخصوص اذہان نے لڑکیوں کو کوئی مت ( نصیحت) نہ دینے کی قسم اٹھا رکھی ہے کہ اس اندھیر نگری میں آدھا نہ سہی پچیس فیصد قصور تو ان کا بھی ہے۔

یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے بچیوں کے تحفظ کے اقدامات کی کھچ اڑا اڑا کے لڑکیوں کو اب بہت آسان اور سہل رسائی بنا دیا ہے۔ اب سے چند دہائیاں پہلے تک لڑکی کی کوئی حیثیت کوئی وقار ہوتا تھا۔ منگنی کے بعد بھی منگیتر کی رسائی اتنی آسان نہیں تھی۔ لڑکی خاصے کی چیز ہوا کرتی تھی۔ اب تو یہ حالت ہے کہ ادھر رابطہ ہوا نہیں ادھر لڑکی لڑکے کے بستر میں پہنچ جاتی ہے۔ اپنی لذت اندوزی کا حق وصول کرنے کے لیے۔ جب یہ صورتحال ہوگی تو استعمال کرنے والا مولی گاجر کی طرح کاٹے گا بھی۔

Read more

سرکاری اساتذہ اور تلخ حقائق

میرے پچھلے کالم پہ کچھ احباب نے اعتراض کیے تھے کہ میں خواہ مخواہ ہی نجی تعلیمی اداروں کی ’واٹ‘ لگا رہی ہوں۔ اگر یہ نہ ہوں تو قوم کا تعلیمی مستقبل تاریک ہو جائے۔ ان میں سے ہمارے ایک دوست نے کچھ سوال اٹھائے ہیں۔ میں من و عن ان کے سوال یہاں درج کر رہی ہوں۔

1۔ آج اگر پرائیویٹ تعلیمی ادارے بند کر دیے جائیں تو کیا سرکاری اداروں میں اتنی گنجائش ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر سے آنے والے بچوں کو سنبھال لیں گے؟
2۔ آپ اپنے اردگرد نگاہ ڈالیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ کیا سرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے؟
3۔ پری سکول یعنی پلے گروپ پریپ نرسری کی تعلیم دینے والے سرکاری ادارے کتنے ہیں؟
4۔ سرکاری اداروں میں استاد بننے کے لئے جس طرح کے امتحانات سے گزارا جاتا ہے، ان میں پڑھانے والی خوبیوں کو کس حد تک جانچا جاتا ہے؟ اس کے برعکس پرائیویٹ سیکٹر متعلقہ ڈگری کے بعد باقاعدہ ڈیمو لے کر جاب عنایت کرتے ہیں۔

Read more

پرائیویٹ تعلیمی مافیا کے ہتھکنڈے اور سرکاری ادارے

میری چھوٹی بہن میرے کالج میں یعنی ایک سرکاری ڈگری کالج میں اے ڈی پی کر رہی ہے۔ اس کی وجہ سے میری طالبات کی نظروں میں میرا وہ رعب نہیں جو ایک ایسے پرنسپل کا ہو سکتا ہے جس کے بہن بھائی یا بچے مہنگے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہوں۔ میری بہن اکثر مجھے بتاتی ہے کہ لڑکیاں اسے کہتی ہیں کہ ایک پرنسپل کی بہن ہونے کے باوجود وہ کوئی بدمعاشی وغیرہ کیوں نہیں کرتی، کوئی رعب شعب کوئی غنڈہ گردی کیوں نہیں کرتی۔ ان میں سے بیشتر اس کی سادگی اور معصومیت کا مذاق اڑاتی ہیں۔

Read more

ڈرامہ ”گھسی پٹی محبت“ اور ایک روشن خیال باپ

انہیں دنوں اے آ ر وائی چینل سے ”فصیح باری خان“ کا لکھا ڈرامہ گھسی پٹی محبت اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔ میں عموماً ڈرامے دیکھتی ہوں نہ ان پہ کبھی کچھ لکھتی ہوں مگر زیر تبصرہ ڈرامے کی بات ذرا مختلف ہے۔ اس کی پہلی اس ڈرامے کے رائٹر فصیح باری خان ہیں جنہوں نے پاکستان کے ٹی وی ناظرین کو ”قدوسی صاحب کی بیوہ“ جیسا ڈرامہ لکھ کے ایک مختلف پہلو سے متعارف کروایا۔ دوسری وجہ ڈرامے کا موضوع ہے۔ اس ڈرامے میں گھر سے باہر نکل کر کام کرنے والی لڑکیوں کی مشکلات کو موضوع بنایا گیا ہے ( سامعہ کے ذریعے ) تو دوسری طرف یہ بھی بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر لڑکی کو سازگار ماحول ملے تو وہ لڑکوں سے بہتر ذہانت کا مظاہرہ کر سکتی ہے ( تاشی کے ذریعے ) ۔ ڈرامے پہ یوں تو بہت سے ناقدین کی رائے پڑھنے کو ملی وہاں سب لوگوں نے ایک اہم کردار کو تقریباً نظر انداز کر دیا ہے اور وہ اہم کردار ہے ”انوار صاحب“ یعنی سامعہ کے والد کا۔

Read more

رابی پیرزادہ اور ذوق جمالیات

حیف ہے اس قوم پر جس کا ذوق جمالیات ہی بگڑ جائے اور اسے اس زیاں کا احساس بھی نہ ہو۔جب سے ہم نے خوب صورتی کو سیرت اور کردار سے ہٹ کر فقط جسم کی سطح پہ دیکھنا شروع کیا ہے عجیب عجیب واقعات سے واسطہ ہے۔ کبھی "میرا” فخر سے اپنے جسم کے نشیب و فراز دکھاتی نظر آ تی ہے تو کبھی "وینا ملک” دھڑلے سے کہتی ہے کہ یہ میرا خوب صورت جسم ہے اور اس

Read more

شمائلہ عثمان کیسے مری

چوبیس ستمبر دو ہزار انیس شام سات بج کر پینتالیس منٹ پہ سوشل میڈیا گروپ جس کا نام میں نے ”شہزادیاں“ رکھا تھا کیونکہ اس میں میری کالج کی کلاس فیلوز ہیں۔ اس گروپ میں نویدہ اکرم کا یک سطری پیغام آ تا ہے۔ ” شمائلہ کی ڈیٹھ ہوگئی“ اوہ میرے خدا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ کیا ہوا اسے؟ میں ایک دم یہ سارے سوال کرتی ہوں۔ ایک ایک کرکے باقی شہزادیاں بھی بیدار ہوتی ہیں۔ حادثہ ہوا ہے۔ نویدہ

Read more

زلیخا کے دیس میں

دنیا کو دیکھنے کا آ غاز تھا یہ۔ بہت سے دوستوں نے مجھ سے سوال کیا آ خر تم اپنی سیاحت کا آ غاز ”مصر“ سے ہی کیوں کررہی ہو؟ کسی اور طرف نکلو لیکن میرا مسئلہ یہ ہے کہ مصر مجھے کھینچتا ہے کیونکہ وہ صحراؤں، پہاڑوں، سمندروں سے مملو اللہ کے اوالعزم پیغمبروں کی سرزمین ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، ہارون علیہ السلام اسی دھرتی سے ہو گزرے ہیں۔ اور پھر وہ زلیخا اور قلوپطرہ کی سرزمین بھی تو ہے۔

Read more

کرپشن صرف مالی نہیں اخلاقی بھی ہوتی ہے

کرپشن انگریزی کا لفظ ہے جسے ہم نے اردو کا ایک بڑا اچھا لفظ عطا کیا ہوا ہے ”بدعنوانی“۔ جس کی مزید تشریح کی جائے تو مطلب بنتا ہے کہ کوئی ایسا کام کرنا جس سے ہمارا لقب برا پڑ جائے، جیسے چور، جیسے ڈاکو، قاتل، بے ایمان، وغیرہ وغیرہ۔

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہ صدیوں سے اپنی ایک خاص ثقافت اور اخلاقی قدروں کا حامل رہا ہے۔ ابھی بھی ہے یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے۔ اسلام اس خطے میں کچھ زیادہ عرصہ پہلے نہیں تھا۔ اسلام دین ہے اور ایک مینی فیسٹو ہے۔ جسے آ پ زندگی گزارنے کے لیے ایک مکمل اور جامع دستاویز کہہ لیں۔

Read more

تم ورکنگ وومن ہو یہ کرلو، تم ورکنگ وومن ہو وہ بھی کرلو

پہلی بات یہ کہ تعلیم یافتہ اور خودمختار ہونے کا یہ مطلب کہاں سے آ گیا ہے کہ اب اس عورت کو زندگی کے کسی بھی معاملے میں کسی دوسرے کی مدد کی ضرورت ہی نہیں۔ وہ اپنی میت پہ ماتم بھی خود ہی کرے۔ وہ بیمار ہو تو خود ہسپتا ل جائے، خواہ درد اور تکلیف کی حالت میں گاڑی کسی گاڑی میں مار دے اور سیدھی خدا کے پاس پہنچے۔ پہاڑ سے نیچے گر کے ہڈیاں تڑوا بیٹھی ہے تو اپنی ہڈیاں بھی خود ہی جوڑے۔ بم دھماکے میں پھٹ کے بکھر گئی ہے تو اپنے گوشت کی گٹھڑی بھی خود باندھے۔

Read more

کباڑن کا خط، ڈیزائنر بے بی کے نام

میری بچی!

میں جانتی ہوں تم کبھی پیدا نہیں ہو سکو گی۔ پھر بھی میرے پاس تمہارے لیے کچھ خواہشیں ہیں۔ کچھ ایسی تاویلیں جو تمہارے ہی جیسے ناموجود اور ان دیکھے خدا کے سامنے میری زندگی کی کڑی مشقت کا جواز ہوسکتی ہیں۔ میں کباڑن ہوں۔ میں زندگی کے اس کاٹھ کباڑ سے بھرے پنڈال کے نیچے بیٹھی اچھی بری چیزوں کی چھانٹی کرتی رہتی ہوں۔ اس کاٹھ کباڑ میں اچھی چیزیں ملنے کا امکان کم ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ اچھی چیزیں اس کباڑ خانے کے تنبووں کی دیوار سے بنے احاطے میں بھلا کیسے آ سکتی ہیں۔ انہیں ذوق یافتہ ذہن اور تربیت یافتہ ہاتھ گھروں کے اندر ہی روک لیتے ہیں۔ لہذا اس کاٹھ کباڑ کی دنیا میں ٹوٹی پھوٹی، پھٹی پرانی، ادھڑی اکھڑی ہوئی، بھدی اور میلی چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ پھر بھی میری آنکھیں اچھی چیزوں کو پالینے کی گنجائش سے خالی نہیں ہوتیں۔

Read more