شمائلہ عثمان کیسے مری

چوبیس ستمبر دو ہزار انیس شام سات بج کر پینتالیس منٹ پہ سوشل میڈیا گروپ جس کا نام میں نے ”شہزادیاں“ رکھا تھا کیونکہ اس میں میری کالج کی کلاس فیلوز ہیں۔ اس گروپ میں نویدہ اکرم کا یک سطری پیغام آ تا ہے۔ ” شمائلہ کی ڈیٹھ ہوگئی“ اوہ میرے خدا۔ اناللہ وانا الیہ…

Read more

زلیخا کے دیس میں

دنیا کو دیکھنے کا آ غاز تھا یہ۔ بہت سے دوستوں نے مجھ سے سوال کیا آ خر تم اپنی سیاحت کا آ غاز ”مصر“ سے ہی کیوں کررہی ہو؟ کسی اور طرف نکلو لیکن میرا مسئلہ یہ ہے کہ مصر مجھے کھینچتا ہے کیونکہ وہ صحراؤں، پہاڑوں، سمندروں سے مملو اللہ کے اوالعزم پیغمبروں کی سرزمین ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، ہارون علیہ السلام اسی دھرتی سے ہو گزرے ہیں۔ اور پھر وہ زلیخا اور قلوپطرہ کی سرزمین بھی تو ہے۔

Read more

کرپشن صرف مالی نہیں اخلاقی بھی ہوتی ہے

کرپشن انگریزی کا لفظ ہے جسے ہم نے اردو کا ایک بڑا اچھا لفظ عطا کیا ہوا ہے ”بدعنوانی“۔ جس کی مزید تشریح کی جائے تو مطلب بنتا ہے کہ کوئی ایسا کام کرنا جس سے ہمارا لقب برا پڑ جائے، جیسے چور، جیسے ڈاکو، قاتل، بے ایمان، وغیرہ وغیرہ۔

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہ صدیوں سے اپنی ایک خاص ثقافت اور اخلاقی قدروں کا حامل رہا ہے۔ ابھی بھی ہے یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے۔ اسلام اس خطے میں کچھ زیادہ عرصہ پہلے نہیں تھا۔ اسلام دین ہے اور ایک مینی فیسٹو ہے۔ جسے آ پ زندگی گزارنے کے لیے ایک مکمل اور جامع دستاویز کہہ لیں۔

Read more

تم ورکنگ وومن ہو یہ کرلو، تم ورکنگ وومن ہو وہ بھی کرلو

پہلی بات یہ کہ تعلیم یافتہ اور خودمختار ہونے کا یہ مطلب کہاں سے آ گیا ہے کہ اب اس عورت کو زندگی کے کسی بھی معاملے میں کسی دوسرے کی مدد کی ضرورت ہی نہیں۔ وہ اپنی میت پہ ماتم بھی خود ہی کرے۔ وہ بیمار ہو تو خود ہسپتا ل جائے، خواہ درد اور تکلیف کی حالت میں گاڑی کسی گاڑی میں مار دے اور سیدھی خدا کے پاس پہنچے۔ پہاڑ سے نیچے گر کے ہڈیاں تڑوا بیٹھی ہے تو اپنی ہڈیاں بھی خود ہی جوڑے۔ بم دھماکے میں پھٹ کے بکھر گئی ہے تو اپنے گوشت کی گٹھڑی بھی خود باندھے۔

Read more

کباڑن کا خط، ڈیزائنر بے بی کے نام

میری بچی!

میں جانتی ہوں تم کبھی پیدا نہیں ہو سکو گی۔ پھر بھی میرے پاس تمہارے لیے کچھ خواہشیں ہیں۔ کچھ ایسی تاویلیں جو تمہارے ہی جیسے ناموجود اور ان دیکھے خدا کے سامنے میری زندگی کی کڑی مشقت کا جواز ہوسکتی ہیں۔ میں کباڑن ہوں۔ میں زندگی کے اس کاٹھ کباڑ سے بھرے پنڈال کے نیچے بیٹھی اچھی بری چیزوں کی چھانٹی کرتی رہتی ہوں۔ اس کاٹھ کباڑ میں اچھی چیزیں ملنے کا امکان کم ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ اچھی چیزیں اس کباڑ خانے کے تنبووں کی دیوار سے بنے احاطے میں بھلا کیسے آ سکتی ہیں۔ انہیں ذوق یافتہ ذہن اور تربیت یافتہ ہاتھ گھروں کے اندر ہی روک لیتے ہیں۔ لہذا اس کاٹھ کباڑ کی دنیا میں ٹوٹی پھوٹی، پھٹی پرانی، ادھڑی اکھڑی ہوئی، بھدی اور میلی چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ پھر بھی میری آنکھیں اچھی چیزوں کو پالینے کی گنجائش سے خالی نہیں ہوتیں۔

Read more

لنگی برداراوگھڑ سادھو اور عورت

بزرگوں سے سنا ہے کہ کسی محلے میں ایک ہندو سیٹھ اور ایک مسلمان ساتھ ساتھ رہا کرتے تھے۔ مسلمانوں کے گھر گوشت پکتا تو سیٹھانی کا بھی من کھانے کو کرتا۔ آخر سیٹھانی نے مسلمان بی بی کے ساتھ دوستی گانٹھی اور گاہے گاہے بھنا ہوا گوشت چکھ لیا کرتی، اس دوران رازداری شرط…

Read more