کیا انسان اتنے گندے ہیں؟


کچھ موضوعات ایسے ہوتے ہیں جن پر انسان سوچتا بہت کچھ ہے مگر جب قلم ہاتھ میں ہو تو ایسا لگتاہے ذہن بالکل خالی ہے۔ الفاظ کی ترتیب بناتے ہیں وہ بکھر بکھر جاتے ہیں۔ یہ نہیں، یہ کہو۔ ایسے نہیں، ایسے کہا جائے تو بات موثر ہوگی۔ پھر اپنی ہی دی ہوئی دلیل کے جواب میں ایک اور دلیل ذہن پیش کرتا ہے۔ عجیب گتھیاں ہیں جو سلجھتی ہی نہیں۔

دراصل یہ بھی فطرت انسانی کا ایک عکس ہے جو انسان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ازخود سوال اور ازخود جواب کا عمل انجام دے۔ کچرا اور اس کو ٹھکانے لگانے کے معاملات جب بھی نظر سے گزرتے ہیں تو بہت سارے خیال ذہن میں آ تے ہیں۔ کچرا سار ے ملک کا مسئلہ ہے۔

پاکستان کے ہر شہر خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا وہاں ہمیں یہ روایت عام ملتی ہے کہ علاقے کے مختلف مقامات پر کچرا کنڈیاں بنی ہوئی ہیں جہاں صرف کچرا پھینکا جاتا ہے۔ اسے وہاں سے اٹھا کر ٹھکانے لگانے کے کام کو غالباً غیر سنجیدہ عمل سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

لیکن یہ غیر سنجیدگی صرف میونسپلٹی یا متعلقہ اداروں میں ہی نہیں ہمارے گھروں میں بھی پائی جاتی ہے۔ یعنی آفرین ہے، من حیث القوم ہم کتنے گندے ہیں۔ شاید لفظ تھوڑا سخت ہے اس کی پیشگی معذرت قبول کر لیجیے۔ جس کچرے کے ڈھیر اور تعفن زدہ معاشرے میں ہم بتدریح داخل ہوگئے وہاں اس سے ہلکا لفظ ہمارا ذہن دریافت نہیں کر پا رہا۔

چلیں سب سے پہلے گلی محلوں کی صفائی کی بات کرلیں۔ ہم اپنے مکان کو صاف ستھرا رکھنے کا عمل تو انجام دیتے ہیں لیکن گھر کا کچرا کھلے عام گلیوں میں پھینکنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے اورگلی یا سڑک کی صفائی سے خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں۔ راہ چلتے یا دوران سفر پارکس، میدان، کھلے ہوئے مقامات غرض جہاں موقع ملا کچرا اچھال دیا یہ سوچے بغیر کہ ہوا کا رخ اگر آپ کی طرف ہو تو وہ کچرا آپ کے منہ پر واپس آتا ہے۔ سرکاری ونیم سرکاری اداروں، ہسپتالوں، اسکولوں ہر جگہ جہاں انسان ہے وہاں کئی ایسے منہ چڑاتے مناظر دیکھنے کو مل جاتے ہیں کہ صفائی نصف ایمان ہے جیسے الفاظ انجان، اجنبی، پرائے محسوس ہوتے ہیں۔

چلیں جی یہ تو وہ ظاہری کوڑا کرکٹ کے قصے ہیں جو دنیا ختم ہونے تک قائم رہیں گے۔ لیکن گندگی کی اقسام اور بھی ہیں جو زبان وبیان سے ماورا نہیں تو مشکل ضرور ہیں۔ مثلاً آج کل سب سے زیادہ جس گندگی کا پھیلاؤ تیزی سے عام ہوا ہے وہ ہے لفظی گندگی اور اس میں حضرت انسان نے وہ جوہر دکھائے ہیں کہ سنتے جائیں اور سر دھنتے جائیں۔

اس گندگی کی سب سے بڑی کچرا کنڈیاں ہے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا۔

دلچسپ امر یہ ہے سوکالڈ کچرے سے گھن کھانے والے اس والی گندگی کو انجوائے کرتے ہیں۔ بس آپ کسی کی مخالفت یا حمایت میں کچھ کہہ دیں، کچھ لکھ دیں پھر تماشا دیکھیں۔ ایسے شجرہ بکھان کر رکھ دیں یہ جانباز کہ عقل حیراں ہو جائے۔ اور اس میں مزیداری یہ ہے کہ کسی کی عزت کا کچرا کر کے رکھ دیں مجال ہے شرمندگی یا ندامت کا ہلکا سا تاثر بھی مل جائے۔

اور اس معرکے میں یہ بھی ضروری نہیں کہ اگر آپ تعلیم یافتہ ہیں یا نا م نہاد خاندانی ہیں تو آپ کو اپنے اس اسٹیٹس کا لحاظ رکھنا ہے۔ نہیں ایسی کوئی شرط نہیں بس مخالف کو گالیاں دینی ہیں ایسی فصاحت و بلاغت کے ساتھ کہ اس کے چودہ طبق روشن ہو جائیں اور قبروں میں پڑے اس کے اجداد تک کی ہڈیاں کڑکڑا اٹھیں۔

گندے الزام، گندی گالیاں، گندے القابات اور ان کا کھلم کھلا اظہار وہ بھی تحریر کی صورت میں پھر چاہے آپ کے الفاظ سے دل کیا روح تک زخمی ہوجائے۔ بس اپنے دل کے کچرے کو کہیں پھینکنا ہے الفاظ کی صورت میں پھینکتے جائیے گندگی کا ڈھیر لگاتے جائیے۔ بس یہ سوچ لیں اس صفائی نصف ایمان ہے کہ الفاظ میں آپ کا حصہ کتنا بچے گا۔

ٹھہریے ابھی گندگی کے مراحل طے نہیں ہوئے۔ ایک کچرا کنڈی ایسی بھی ہے جس پر نظر ڈالیں تو گھن کے ساتھ ساتھ خوف اور موت کی سردی ہڈیوں میں سرایت کر جاتی ہے۔ وہ گندگی ہے اکثر کچرے کے ڈھیر سے ملی معصوم بچوں کی لاشیں۔ سب سے پہلے قصور کی ایک کچرا کنڈی سے ملنے والی زینب کی لاش کے ذریعے ہم پہلی بار اس گندگی سے روشناس ہوئے۔ چند ایک واقعات تو اخبارات کے ذریعے ضرور نظر سے گزرے لیکن یہ سب کیا ہے۔ ایک سیریل کلر کو پھانسی دیے جانے کی خبر نے وقتی تسلی دی تھی لیکن اس کے بعد سامنے آنے والے واقعات اور معصوم پھولوں کی لاشیں۔

یا اللہ یہ کون سی گندگی ہے۔ بچوں کی عمریں سنیں تو دماغ میں زلزلہ پیدا ہوجاتاہے۔ باہر کی دنیا میں کیا ہوتا ہے؟ یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری اپنی قوم میں یہ کیسے گندے، کوڑھ زدہ ناسور ہیں۔ کیا انسان اتنے گندے ہو سکتے ہیں۔

بس یہ ایک گندگی ہے جو برداشت نہیں ہورہی۔ سہی نہیں جارہی۔ سارے دلاسے، تسلیاں، دلیلیں بے معنی ہو گئیں ہیں۔ بس ایک کچرے کا ڈھیر ہے۔ جس پر تعفن زدہ زندگی محو رقص ہے۔

رجعت پسند ہوں کہ ترقی پسند ہوں
اس بحث کو فضول وعبث جانتا ہوں میں

آئینہ حوادث ہستی ہیں میرے شعر
جو دیکھتا رہا ہوں وہ کہتا رہا ہوں میں

تاروں کی انجمن سے مجھے واسطہ نہیں
انسانیت پہ اشک بہاتا رہا ہوں میں

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں

Facebook Comments HS