اقتصادی مفاد و حاکمیت کے لئے مذہبی عناد کا استعمال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا اور آخرت کے تصورات کے حوالے سے انسانی تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف مذاہب سامنے آتے رہے۔ آج اکیسویں صدی میں انسانی ترقی مافوق الفطرت انداز میں برق رفتاری سے جاری ہے۔ مختلف شعبوں میں غیر معمولی پیش رفت، ترقی نے انسان کو ایک جادوئی مخلوق کی طرح غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل بنا دیا ہے۔

لیکن دوسری طرف تمام تر انسانی ترقی کے باوجود دنیا کے مختلف خطوں میں انسانوں کے لئے ہر شعبے اور ہر سطح پر مختلف معیار رکھے گئے ہیں اور اسی تقسیم کو قائم رکھنے کے لئے ہر قسم کے حربے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ یعنی دنیا آج بھی خواص، عام اور نچلے درجے کے انسانوں میں تقسیم دکھائی دیتی ہے۔

انسان جن باتوں پر عشروں، صدیوں عمل کرتا ہے، وہ ان کے وجود کا ایک خاصہ بن جاتے ہیں۔ اس حوالے سے مذہبی تصورات بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ دنیا بھر میں بسنے والے انسان یہودیت، عیسائیت، اسلام کے علاوہ بدھ مت، ہندو مت، مذہب کو نہ ماننے والوں اور دیگر عقائدمیں محدود اور تقسیم ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر بھی مذہب، عقیدے کو اقتصادی اور حاکمیت کے مفادات کے لئے بھر پور طور پر استعمال کیا جانا نظر آتا ہے۔

آج کے ترقی یافتہ ممالک دنیا کے کسی بھی خطے کو منٹوں میں تباہ و برباد کرنے کی ہر طرح کی صلاحیتوں کو مزید بہتر سے بہتر بنانے کو یقینی تو بنائے ہوئے ہیں، اقتصادی مفادات و بالادستی کے لئے انسانی آبادیوں اور انسانوں کی بے دریغ ہلاکتوں کی بھی پروا نہیں کی جاتی لیکن ہر خطے کے عوام کو قابل اطمینان سطح کی زندگی گزارنے کی سہولیات و مواقع نہیں دیے جاتے۔ دنیا میں تباہی اور بربادی کے اقتصادی اور جنگی ظلم عظیم کو تقویت پہنچانے کے لئے اسے طاقتور ممالک کا حق قرار دیا جاتا ہے۔

مذہب، عقیدے کو انسانوں میں نفرت برقرار رکھنے اور اقتصادی و حاکمیت کے مفادات کے لئے ”آلہ کار“ کے طور پر استعمال کیا جانا بھی نمایاں ہے۔ انسانوں کے درمیان مذہبی تقسیم کو اتنا گہرا اور قوی کردیا گیا ہے کہ عمومی طور پر ایک مذہب، عقیدے سے تعلق رکھنے والا کسی دوسرے مذہب اور عقیدے سے متعلق علم ہوتے ہی اس سے دلی نفرت، عناد اور بیزاری محسوس کرنے لگتا ہے۔

اب دنیا میں شعوری سطح پہ ایسے انسانوں کی تعداد نمایاں نظر آنے لگی ہے جو ہر بات کا تجزیہ عقل و شعور اور ظاہری عوامل کے حوالے سے کرتے ہیں اور اسی کے مطابق اپنے یقین اور عمل کا تعین کرتے ہیں۔ ایسے لوگ تمام انسانوں کے لئے مساوی حقوق، یکساں مواقع اور انسانی احترام و فلاح و بہبود کو مرکزی اہمیت دیے جانے کا مطالبہ رکھتے ہیں۔ وہ اس بات پہ یقین نہیں رکھتے کہ انسان کو رنگ و نسل، مذہب، علاقے یا کسی بھی بنیاد پر امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جائے۔ آج کی غیر معمولی ترقی یافتہ دنیا میں بھی قدیم ادوار کی طرح اقتصادی اور حاکمیت کے مفادات کے لئے بعض انسانوں کو تقدیس کی انتہاؤں اور انسانوں کو ہی ذلت کی پاتال کی نصیب قرار دیا جانا انسانی ارتقائی ترقی کے ایک سیاہ باب کی حیثیت رکھتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •