نائی کی چالاک بیوی اور سات چوروں کی کہانی


چور واپس آئے۔ انہوں نے سوچا کہ سونا ضرور نائی کی بیوی کے پاس ہے، تو اسے ہی اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ وہ دبے قدموں آگے بڑھے اور اس کی چارپائی اپنے کندھوں پر اٹھا کر جنگل میں اپنے ٹھکانے کی طرف چل پڑے۔

کچھ دیر بعد نائی کی بیوی کی آنکھ جھکولے کھانے سے کھل گئی اور یہ جان کر وہ دھک سے رہ گئی کہ چور اس کی چارپائی اٹھا کر جنگل کی طرف جا رہے ہیں۔ وہ سوچنے لگی کہ اب میں کیسے بچوں۔

کچھ دیر بعد چور تھک گئے۔ وہ ایک گھنے برگد کے نیچے رکے اور مشورہ کرنے لگے کہ کچھ دیر یہاں رکتے ہیں اور چارپائی نیچے رکھ کر کمر سیدھی کر لیتے ہیں۔ نائی کی بیوی نے موقع غنیمت جانا۔ اس نے تکیوں کے اوپر چادر ایسے ڈالی کہ لگتا تھا کہ وہ بستر پر لیٹی ہے اور برگد کی ایک لٹکتی جٹا کو پکڑ کر اوپر چڑھ گئی اور شاخوں میں چھپ گئی۔

چوروں نے چارپائی کاندھوں سے اتار کر نیچے زمین پر رکھ دی اور فیصلہ کرنے لگے کہ پہرے کی پہلی باری کس کی ہو گی۔ سردار کے نام کا قرعہ نکلا کیونکہ باقی سب ابھی تک ناک کے زخموں کی وجہ سے تکلیف میں تھے۔ سب چور سو گئے اور سردار پہرہ دینے لگا۔

نائی کی بیوی کو اچانک ایک خیال سوجھا۔ اس نے اپنا سفید دوپٹہ چہرے اور سر کے گرد لپیٹا اور آہستہ آواز میں محبت بھرے گانے گانے لگی۔ چوروں کے سردار نے اوپر دیکھا تو اسے چاندنی میں ایک خوبصورت عورت درخت پر بیٹھی دکھائی دی۔

اس نے سوچا کہ یہ ضرور درخت کی پری ہے جو مجھ جیسے خوش شکل اور ہینڈسم مرد پر عاشق ہو گئی ہے۔ اس نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیا اور پوچھا ”کون ہو تم؟ حسینہ نیچے زمین پر اترو، مجھ سے خوف مت کھاؤ“

پری نے جواب نہیں دیا اور عاشقانہ گانے دھیمے سروں میں گاتی رہی۔ سردار نے یہ دیکھا تو خود درخت پر چڑھنے لگا۔ جب وہ پری کے قریب پہنچا تو پری نے ایک سرد آہ بھری اور منہ دوسری طرف پھیر لیا۔

”اتنا اداس ہونے کی کیا بات ہے اے پری؟ “ سردار نے بے تاب ہو کر پوچھا۔
نائی کی بیوی نے اداس لہجے میں کہا ”مجھے لگتا ہے کہ تم ایک ہرجائی ہو اور مجھ سے محبت نہیں کرتے۔ لمبی ناک والے مرد ہمیشہ ہرجائی ہوتے ہیں“۔

سردار نے اسے اپنی وفا کا یقین دلانے کی بہت کوشش کی مگر وہ نہ مانی۔ آخر نائی کی بیوی نے کہا ”ایسا کرو کہ اپنی زبان کو لمبا سا باہر نکالو۔ میں اسے اپنی زبان سے چھو کر جان لوں گی کہ یہ زبان سچ بول رہی ہے یا جھوٹ“۔

چوروں کے سردار نے مخمور ہو کر اپنی زبان خوب باہر نکالی، پری اس کے قریب ہوئی اور اس کی زبان کو زور سے اپنے دانتوں سے کاٹ کر دو ٹکڑے کر دیا۔ سردار تکلیف کی شدت سے زور سے چیخا اور درخت سے نیچے جا گرا۔

”کیا ہوا؟ کیا ہوا؟ “ دوسرے چور جاگ گئے۔ ”بل بل بل۔ ۔ ۔“ سردار نے اوپر درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ وہ زبان کٹنے کی وجہ سے بولنے سے قاصر ہو چکا تھا۔
”سردار پر جادو ہو گیا ہے۔ درخت پر ضرور کوئی آسیب ہے“ چور گھبرا کر بولے۔

اسی وقت نائی کی بیوی نے اپنی سفید چادر لہرانی شروع کر دی اور منہ سے خوفناک آوازیں نکالنے لگی۔
چوروں کی خوف سے جان نکل گئی۔ انہوں نے بدحواس ہو کر اپنے سردار کو کندھوں پر اٹھایا اور اپنے گھر کی طرف بھاگنے لگے۔
وہ دور نکل گئے تو نائی کی بیوی نے اپنی چارپائی سر پر اٹھائی اور اپنے گھر کی طرف واپس چل پڑی۔

سردار کی زبان کا زخم کچھ ٹھیک ہوا تو اس نے تتلا تتلا کر اور اشارے کر کے بتایا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ چور اب اپنی ناکیں اور زبان کٹوا کر اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ نائی کی چالاک بیوی سے مقابلہ کرنا ان کے بس میں نہیں ہے۔

وہ بادشاہ کے پاس چلے گئے اور اس سے انصاف طلب کیا کہ وہ نائی سے انہیں ان کی محنت کا معاوضہ دلوا دے۔ لیکن نائی کی بیوی نے اپنا مقدمہ پیش کیا اور ثبوت کے طور پر چوروں کی ناکیں پیش کیں۔

بادشاہ نے چوروں کو جیل میں ڈال دیا اور نائی کو اپنا وزیراعظم بنا دیا۔ اس نے کہا کہ ”جب تک اس نائی کے سر پر اس کی عقلمند بیوی کا سایہ سلامت ہے، یہ کوئی احمقانہ کام نہیں کر سکتا اور ہمیں اس سے بہتر وزیراعظم نہیں ملے گا“۔
نتیجہ: بادشاہ ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔

ایک قدیم دیسی حکایت، جسے اپنے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور متن یا پلاٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ شروع سے آخر تک کہانی یہی ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar