نقشِ طائوس: وہی مورنامے والا سوال


\"asif-farrukhi_1\"مورنامہ پڑھ کر دیکھو، دور سے ایک آواز میرے کان میں آئی اور سرگوشی میں سمجھانے لگی جیسے میری بڑھتی ہوئی پریشانی کے لیے نُسخہ تجویز کر رہی ہو۔ تیر بہدف نسخہ۔

میں جلدی سے الماری کے پٹ کھول کر کتاب نکال لیتا ہوں اور پورے خضوع و خشوع سے پڑھنا شروع کر دیتا ہوں:

’’اللہ جانے یہ بدروح کہاں سے میرے پیچھے لگ گئی۔ سخت حیران اور پریشان ہوں۔ میں تو اصل میں موروں کی مزاج پرسی کے لیے نکلا تھا۔ یہ کب پتا تھا کہ بلا جان کو چمٹ جائے گی۔۔۔‘‘ الفاظ مجھے اپنے اندر کھینچ لیتے ہیں اور میں یہ فراموش کر دیتا ہوں کہ کس زمانے میں ہوں اور کس زمین پر۔ لیکن اگلا ہی جملہ مجھے گھسیٹ کر واپس لے آتا ہے:

’’وہ تو اتفاق سے اس چھوٹی سی خبر پر میری نظر پڑ گئی ورنہ مجھے اس ہنگامے میں مجھے کہاں پتہ چلتا تھا کہ وہاں کیا واردات گزر گئی۔۔۔‘‘ چھوٹی سی خبر، واردات، اچھا۔۔۔ ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ ’’ہندوستان کے ایٹمی دھماکے کی دھماکہ خیز خبروں کے ہجوم میں کہیں ایک کونے میں یہ خبر چھپی ہوئی تھی کہ جب یہ دھماکہ ہوا تو راجستھان کے مور سراسیمگی کے عالم میں جھنکارتے، شور مچاتے اپنے گوشوں سے نکلے اور حواس باختہ فضا میں تتّر بتّر ہوگئے۔۔۔‘‘

مور سراسیمگی کے عالم میں۔۔۔ ایسی خبروں پر کیا غور کرنا؟ ایٹمی دھماکے کی خبر بھی پرانی ہوئی اور اس کی دھمکی آج کل اس زور و شور سے دُہرائی جارہی ہے کہ یہ دھمکی بھی اپنے معنی سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔ زیادہ استعمال ہونے والے سکّوں کی طرح۔

لیکن یہ سرگوشی بھی دب جاتی ہے۔ ’’مورنامہ‘‘ پڑھنے میں شاید دیر ہو گئی۔ شور بڑھتا جا رہا ہے اور اس میں سے طبل کی آواز الگ سنائی دے رہی ہے۔ دونوں طرف فوج کی تیاری مکمل ہے۔ سب مُستعد ہیں کہ پلک جھپکتے میں وار کریں۔ اس آواز کو اور اپنی صورت حال کو میں اچھی طرح پہچان سکتا ہوں۔

ڈنکے پہ چوٹ پڑی ہے۔ سامنے فوج کھڑی ہے۔ کرشن نے کہا، مجھ سے کہا__ اے ارجن! مت پیار جتا دشمن سے__ یُدھ کر!

یُدھ کر!

ان کا حکم دو ٹوک اور واضح ہے۔ لیکن جیسے میرے ہاتھ شل ہو گئے ہیں۔ پائوں اٹھنے سے انکاری ہیں۔ سرچکرا رہا ہے اور دل اتنے زور \"asifزور سے دھڑک رہا ہے کہ جیسے سینے کا پنجرہ توڑ کر باہر نکل آئے گا۔

یُدھ کر! آواز گونجتی ہے اور میں کرشن سے کہتا ہوں:

دوستوں اور رشتہ داروں کو اپنے سامنے صف آرا اور لڑائی پر آمادہ دیکھ کر ہاتھ پائوں کانپ رہے ہیں اور مُنھ خشک ہوا جارہا ہے۔

میرا کلیجہ کانپ رہا ہے۔ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں۔ تیر کمان ہاتھوں سے پھسلے جا رہے ہیں اور میری کھال جیسے جل اٹھی ہے۔

میں اب زیادہ دیر یہاں کھڑا نہیں رہ سکتا۔ میں اپنے ہوش حواس میں نہیں ہوں۔ مجھے ہر طرف برائی ہی برائی نظر آرہی ہے، اے راکھشس کو بھسم کر دینے والے!

اپنے ہی رشتہ داروں کو جنگ کے دوران ہلاک کر دینے سے کیا فائدہ ہوگا اے کرشن! اس کے بعد مجھے مزید کسی فتح، کسی سلطنت اور نہ خوشی کی توقّع رہے گی۔ یہ سب میرے سامنے کھڑے ہیں تو میں ان کو کس لیے ہلاک کر ڈالوں اور خود اپنی جان بچالوں؟ یہ دنیا تو کیا، میں تو تین عالم کے بدلے بھی ان سے نہ لڑوں، اے تمام مخلوق کے پالن ہار!‘‘

پروردگار کے سامنے میں رونے، گڑگڑانے لگتا ہوں۔ آنکھ سے آنسو بہنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو دفعتاً احساس ہوتا ہے__ میں ارجن نہیں ہوں اور نہ ہوسکتا ہوں۔ رتھ پر سوار ہو کر جنگ کے میدان میں کود پڑنا میرے لیے ناممکن ہے۔ بس اتنا ہی کرسکتا ہوں کہ سر پر جنگ تُلی کھڑی ہو اور میں اپنے اوٹ پٹانگ خیالوں میں کھو جائوں۔ ارجن نہیں، میں تو اشوتتھاما ہوں۔ میں اپنا نام کیسے بھول گیا؟ اور اس نام سے بھی زیادہ اپنی مسلسل اذیت جو کتنے ہزار سال سے میرے پیچھے چلی آرہی ہے اور میں بستی بستی، جنگل جنگل بھٹک رہا ہوں۔ ایسی تلاش جس کا انجام جنگ بھی نہیں۔ بھلا جنگ کی آگ میں کوئی بدروح بھی جل سکتی ہے؟ ساحر لُدھیانوی نے کہا تھا اس آگ میں پرچھائیاں بھی جل جائیں گی۔

\"Wild

’’جنگ آدمی کو کیا سے کیا بنا دیتی ہے۔ اشوتتھاما کو دیکھو اورعبرت پکڑو۔۔۔‘‘ مورنامہ میں انتظار حسین نے لکھ دیا تھا۔ میں ’’مورنامہ‘‘ سے مزید رُشد و ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہوں لیکن چاروں طرف شور بڑھتا جارہا ہے۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ ’’ماریں گے۔۔۔ مار گرائیں گے۔۔۔ دشمن دشمن۔۔۔‘‘ یہ آوازیں میرے کمرے میں بھرگئی ہیں۔

ٹی وی سے نظریں ہٹا کر انٹرنیٹ پر دیکھتا ہوں کہ معاملہ کہاں تک آن کر رکا۔ فیس بک پر ایک نیا میسیج ہے۔ میرے دوسرے خدا بخش ابڑو جو معروف مصّور ہیں مگر ادب سے گہری دل چسپی رکھتے ہیں، فارسی کی ایک نظم کا ترجمہ اپنے status کے طور پر لگا دہتے ہیں__

ٹیلی وژن

ہر رات جنگ کو میرے کمرے میں لے آتا ہے

اور میں

ایک بے گناہ بچّے کی طرح

گولی کھاتا ہوں

۔۔۔اور مارا جاتا ہوں

کمرے کی دیوار\"abro\"

جو ابھی تک

عالمی جنگ کے زخموں سے بھری ہے

شیل کھاتی ہے

جنگ کی خبروں سے

اور میں

ہر رات

اپنے کمرے میں

۔۔۔شہید ہوتا ہوں۔

آخر میں شاعر کا نام لکھا ہے، کامران رسول زادہ۔ وہ تو ٹھہرے رسول زادے، شہید بھی ہوسکتے ہیں۔ ارجن اور اشوتتھاما کے زُمرے میں شہادت کہاں سے آسکتی ہے؟ میں بُری طرح گڑبڑا جاتا ہوں، اور تیزی سے مورنامے کے ورق اُلٹنے لگتا ہوں۔

آٹھ دس صفحے کا یہ افسانہ انتظار حسین کے مجموعے ’’شہزاد کے نام‘‘ میں شامل ہے۔ مجھے یاد آتا ہے کہ اس افسانے کو ضمیر نیازی نے جوہری تباہ کاری کے خلاف اپنے ادبی انتخاب ’’زمین کا نوحہ‘‘ میں شامل کیا تھا اور میرے دوست عرفان احمد خان نے اس کا ایک جیبی ایڈیشن تصدّق سہیل کے سرورق کے ساتھ شائع کردیا تھا جو عُنقا تو نہیں ہوا کم یاب ضرور ہوگیا۔ کہیں سے اس کے چند نسخ مل جائیں۔ ایسے ہی تُکے بے تکے سوالوں سے اپنے ذہن کو اٹااٹ بھر لینا چاہتا ہوں کہ سر پر مسلّط خوف کے بارے میں ہمہ وقت سوچنے سے نجات ملے۔ ایسی باتوں سے جنگ کا خطرہ کہاں ٹل سکتا ہے۔

مور کے رنگ بھی موت اور تباہ کاری کے احساس کو دور نہیں کرسکتے۔ انتظار حسین نے بیان کار راوی کا نقاب اُتار کر اپنا چہرہ اوڑھ لیا ہے۔ اب وہ کہانی کا فریم توڑ کر صورت حال کو براہِ راست بیان کررہے ہیں اور بیان کرتے کرتے ایک اور فریم قائم کر ڈالتے ہیں۔ یہ انداز بطور مصنّف ان کی ذاتی، شخصی آواز سے قریب ہے۔ ایک نوع کی بے تکلّفی کہ افسانے کی رسوم کو بھی بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔ یہاں بیانیے کے لیے انھوں نے اپنے افسانوں (’’شہرزاد کی موت‘‘) کے بجائے وہ انداز اختیار کیا ہے جو ان کے مضامین کے قریب ہے۔ ہاں، ان کے مضامین میں بیانیہ بھی تو نمایاں ہے اور سب سے پہلے وہی تو دل موہ لیتا ہے۔ یہی انداز اس افسانے میں بھی قائم ہے جس کا خمیر مضمون کے بہت پاس سے اٹھا ہے۔ وہ موروں کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں۔ کبھی راجستھان جا پہنچتے ہیں، کبھی دلّی نکل جاتے ہیں۔ کسی جگہ قرار نہیں۔ موروں کی تلاش میں، مَیں بھی ان کے پیچھے پیچھے چل پڑتا ہوں۔ دلّی کے نام سے دلّی والے مرزا غالب یاد آتے ہیں جنھوں نے طائوس کو تخیّل کی رنگینی کا استعارہ بنا ڈالا تھا۔

غالب کا شعر مور کی طرح دم چُنور لیتا ہے۔ اب فضا میں رنگ ہی رنگ ہیں۔ تخیّل کی کار فرمائی۔ شعر مور چھل بن گیا ہے۔ لیکن اس کے \"img_1201\"بجائے میرے کان میں جو آواز آتی ہے، انتہائی معمولی ہے، بالکل banal۔

ایک جانور ایسا، جس کی دُم پر پیسہ۔ میرے بچپن سے ایک آواز آتی ہے اور پہیلی پوچھ کر چلی جاتی ہے۔ مجھے یاد ہے مور کے پر بڑی احتیاط اور پوری عقیدت کے ساتھ قرآن شریف کے اوراق کے درمیان رکھتا تھا۔ قرآن شریف پڑھانے کے لیے مولوی صاحب آتے تھے تو ان کے بتائے ہوئے سبق کے مطابق آیتوں پر انگلی رکھ کر دہراتا جاتا تھا جو ایک نیلگوں ہری پٹّی پر الگ سے نظر آتی تھیں۔ ان کے نیچے اردو ترجمہ سفید رنگ کی سطروں میں پر نظر آتا تھا مگر مولوی صاحب کہتے تھے جب تک عربی کے ہجّے پکّے نہ کرلو، اس سفید پٹّی کی طرف نہ دیکھو۔ اُردو حروف والی سفید پٹی کے بجائے میں مور کے پر کی طرف دیکھنے لگتا۔

پھر ایک ایک کرکے تیس پارے ختم ہوگئے۔ مولوی صاحب جب تک آتے رہے پڑھاتے رہے۔ پھر سُنا ان کا انتقال ہوگیا۔ مور کے پر پُرانے ہوگئے، پھیکے اور بے رونق۔

مور کے پر سمٹ گئے۔ میری امّی کی خالہ کلثوم کے گھر میں بھوسا بھرا ہوا مور رکھا تھا جس کی دم ہوا کے ساتھ لہرایا کرتی۔ چڑیا گھر کے بعد سچ مچ کا مور میں نے تھرپارکر میں دیکھا اور بہت بھلا معلوم ہوا۔ ایک گائوں کے باہر درخت کے ساتھ مور یوں بیٹھے ہوئے تھے جیسے کراچی میں کوّے نظر آتے ہیں۔ پھر سُنا کہ کچھ لوگ موروں کا شکار کرنے لگے ہیں۔ میرے نانا کو شکار کا بہت شوق تھا مگر وہ اس کو نہیں مارتے تھے اور نہ اس کا گوشت کھاتے تھے۔ پھر سُنا کہ بہت مرنے لگے ہیں، موروں میں وبا پھیل گئی ہے۔ مور مرنے لگے اور ان کی موت کے بارے میں سیاست دانوں کے بیانات سامنے آنے لگے۔

اصل میں پاکستان صرف سیاست دانوں اور ٹیلی وژن کے کچّے پکّے تجزیہ کاروں کا نہیں ہے۔ میرے لیے پاکستان پر تھرپارکر کے موروں کا بھی اتنا ہی حق ہے۔ وہی حق منگھوپیر کے مگرمچھ کا، دریائے سندھ کی اندھی ڈولفن کا، نتھیا گلی کے جنگل میں رہنے والے بندروں اور اکّا دکّا چیتوں کا، گلگت کے مارخور کا بھی ہے۔ اتنا ہی حق جتنا اسلام آباد کے مضافات کے جنگلی سوروں کا، کراچی کی چیلوں کا اور گدھ کی اس نسل کا جو مٹ جانے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ یہ زمین ہم ان کے ساتھ شیئر کرتے ہیں، اس کے آب و ہوا میں ان کے شریک ہیں۔ ہم ان کا یہ حق کیوں چھین لینا چاہتے ہیں؟ ہم ان کے پیروں تلے سے زمین کیوں کھینچ لینا چاہتے ہیں؟

تھرپارکر کے مور سب سے سوال کرتے ہیں۔ مگر اس نقار خانے میں یہ آواز کون سُنے گا۔ ایسی آوازوں پر کان دھرنے والے انتظار حسین بھی چلے گئے۔

مگر جاتے جاتے اپنا ’’مورنامہ‘‘ چھوڑ گئے۔ اس کے آخر میں انھوں نے اپنے رب سے سوال کیا ہے کہ میں اپنا مورنامہ کب لکھ پائوں گا، اور اس کے لیے اس تین ہزار سال پرانے پریت سے چھٹکارا کب ملے گا۔ وہ آسیب اب ان کے بعد ہمارا پیچھا کررہا ہے لیکن وہ آخری سطر کے آتے آتے مورنامہ مکمل کر گئے۔ ان کی جستجو ہی مورنامہ ہے۔ اس تلاش میں نگر نگر کی گرد ہے اور تخیّل کی رنگینی۔

انتظار حسین کی تلاش سپھل ہوئی۔ ان کی آتما کو شانتی ملے۔ ان کی تصویر نگاہوں میں بسائے رکھتا ہوں اور اسی سے پوچھتا ہوں کہ اے کتھا \"batwara\"کی ودّیا کے جاننے اور ماننے والے گُنی گیانی، یہ کیسے ہوگیا۔

مورنامے کے عین بیچوں بیچ جب کہ آخری اور انتہائی ہتھیار برہم استر چل چکا ہے اور آنے والی نسلیں بھی تباہ ہوچکی ہیں، ایک مردہ بچّہ پیدا ہوتے ہی سوال پوچھ بیٹھتا ہے۔ اس مردہ بچّے کا زندہ سوال یہ تھا:

’’ہے مہاراج، کوروکشیتر میں میرے سب ہی بڑے موجود تھے، ادھر بھی اور اُدھر بھی۔ اور دونوں ہی طرف گُنی گیانی بدّھی مان موجود تھے۔ پھر انھیں یہ سمجھ کیوں نہ آئی کہ یُدھ مہنگا سودا ہے۔ سب کچھ اُجڑ جائے گا، وناش ہو جائے گا۔‘‘

میرے کانوں میں یہ آواز گونجے جارہی ہے__ یُدھ کر! میں کیا کروں، میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔

اشوتتھاما بھٹکتے بھٹکتے یہاں آگیا ہے۔ جہاں جہاں وہ جاتا ہے یہ سوال بھی آس پاس بھٹکتا رہتا ہے۔ اشوتتھاما کوئی اور نہیں میں خود ہوں۔ اپنا سوال میں کس کے سامنے رکھوں، سمجھ کیوں نہ آئی، تمھیں سمجھ کیوں نہ آئی۔

 

Facebook Comments HS