پولیس آپ کی دوست ہے اسے اپنا سمجھیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم کو صرف پولیس کی خامیاں ہی نظر آتی ہیں خوبیاں نہیں۔ ہم نے اپنی خامیاں دیکھنے والی آنکھ کو اتنا کھلا رکھا ہوا ہے کے ہم ہر اچھے کام کو چاہے وہ جو بھی کرے صرف نظر کر جاتے ہیں۔ پولیس بھی ایک ایسا ہی ادارہ ہے جس میں کسی بھی دوسرے ادارے کی طرح اچھے یا برے لوگ موجود ہیں، عموماً پولیس کے اچھے کام کو اتنا سراہا نہیں جاتا جتنے کہ وہ حقدار ہوتے ہیں البتہ ان کی ذرا سی بھی دانستہ یا غیر دانستہ غلطی میڈیا کی بریکنگ نیوز بن جاتی ہے۔ شام کے اخبارات میں مصالحے دارشہ سرخیاں لگائی جاتی ہیں۔ پولیس آپ کی دوست ہے اسے اپنا سمجھیئے، اس پر تعمیری تنقید آپ کا حق ہے، لیکن بلاجواز تنقید سے ایسے بہت سے کاموں کی حوصلہ شکنی ہو گی جو پولیس دن رات کررہی ہے۔

حال ہی میں ایک لڑکے کی موٹر سائیکل پر جاتے ہوئے پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے اور ایک خاتون کی ایک پولیس کے ایک اے ایس آئی کو تھپڑ مارنے کی وڈیو سامنے آئی۔ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح اے ایس آئی چپ کر کے مار کھا رہا ہے حتیٰ کہ اس کے ساتھی بھی اس خاتون کو روک نہیں رہے۔ اس کے پیچھے سوشل میڈیا بریگیڈ کا ڈر ہے۔ سوشل میڈیا نے خاتون کی بتمیزی کو نہیں دکھانا تھا اگر دکھانا تھا تو صرف اپنی مرضی کا مخصوص حصّہ جس میں پولیس والے اس کو روک رہے ہوتے اور اس ک بعد آپ کو پتہ ہے آگے کیا ہونا تھا۔ آپ خود دیکھیں کے آپ کا رویہ پولیس سے کیسا ہے اور آپ امید کس کی رکھتے ہیں۔

اس معاشرے کی بے نیازی دیکھیں کہ 24 گھنٹے مسلسل ڈیوٹی کرنے والے کے لئے کبھی کسی نے شکریہ بھی بولا ہو۔ ایک پوسٹ نہیں ملے گی اور ان کو خود سے سلوک اس طرح کا چاہیے کہ جس معاشرے میں لوگ اپنی دکانوں کے باہر شکریہ پولیس کے بینر آویزاں کرتے ہیں۔

مجھے پولیس میں سروس کرتے ہوئے 2 سَال ہو چکے ہیں ان 2 سالوں میں میری جان پہچان والی اور غیر جان پہچان والی عوام نے اپروچ کر کے مجھ سے آج تک لاتعداد جائز ناجائز سفارشیں اور ڈیمانڈیں کیں ہیں۔ جب تک عوام خود اپنا قبلہ درست نہیں کریں گے تب تک تا قیامت تبدیلی نہیں آئے گی۔ پولیس کو درست کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہماری عوام اپنے گریبان میں جھانکتے ہوئے پہلے اپنے کرتوتوں پہ نظرثانی کریں اور پھر پولیس سے بہتری کی امید رکھیں۔ تب عوام کی غیرت کدھر جاتی ہے جب اپنے ناجائز کاموں کے لئے پولیس کو اپروچ کرتے ہیں۔ پیارے عوام پہلے خود کے کرتوت بدلو تب آپ کو انشاءاللّٰہ پولیس بھی بدلی ہوئی ملے گی ورنہ ایسے عوام کے لئے پولیس نیو یارک جیسی تھوڑی ہوگی۔

میری پولیس کے کئی سینئر، تجربہ کار، مستعد اور اہل افسران سے اس موضوع پر کئی بار بات ہوئی ہے اور کم و بیش سب کے سب اس بات پر متفق نظر آئے کہ اگر پولیس کوڈ کو وطن عزیز کے قیام کے بنیادی اصولوں کے مطابق بنا دیا جائے۔ پولیس کے کام میں سیاسی مداخلت بند ہو جائے، تھانے اور بلدیاتی سطح کے نمائندوں کو مل کر کام کرنے دیا جائے، ملازمین کو وہ تمام سہولتیں مہیا کر دی جائیں جو ان کا قانونی حق ہیں اور قانون شکن افراد کے مقابلے کے لیے انھیں جدید اسلحہ، ٹرانسپورٹ اور ٹریننگ میہا کر دی جائے تو یہ محکمہ اب بھی بیک وقت عوام کی دوستی اور حفاظت کا فرض ادا کرسکتا ہے۔

اپنی کم تنخواہ اور ناکافی سہولتوں کے باوجود جس طرح اپنا فرض نبھاتے ہوئے یہ لوگ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں اس کی مثال کسی اورنوکری مں نہیں ملتی۔ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرتے ہوئے صرف پولیس والے ہی اپنی جان قربان کرنے کا ہنرجانتے ہیں۔ حالات چاہے کتنے ہی مشکل ہوں، ایسے پولیس والے کبھی اپنے فرض سے منہ نہیں موڑتے۔ فرض شناس اور بہادر پولیس والے کو نہ کسی با اثر سیاستدان سے کوئی خوف محسوس ہوتا ہے اور نہ ہی روپے پیسے کا لالچ اس کا ایمان کمزور کرسکتا ہے۔ ایسے ہی اچھے اور بہادر پولیس والوں کی وجہ سے محکمے کی عزت قائم ہے ورنہ گندی مچھلیوں نے تو پورا تالاب ہی گندا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں میڈیا کے ساتھ مل کر ایک ایسے متوازن اور مثبت معاشرے کو پروان چڑھانا ہے جہاں ایک پولیس اہل کار ڈیوٹی پر جاتے ہوئے اور صحیح قدم اٹھاتے ہوئے اس ڈر اور خوف میں مبتلا نہ رہے کہ اس کے اچھے کام کو بھی جعلی، غلط اور گناہ کی نظر سے دیکھا جائے گا۔ اس کی ایمانداری پر سوالیہ نشان نہیں لگایا جائے گا اور اس کی ہر کارکردگی کوصرف قانون کے ترازو میں تولا جائے گا۔ وہ سر فخر سے اٹھا کر اور بغیر کسی ڈر اور خوف کے اپنے فرائض کو انجام دینا چاہتا ہے۔ ہمیں اس بات کو سمجھنا ہو گا کہ پولیس ہماری دوست ہے اسے اپنا سمجھیئے، اس پر تعمیری تنقید آپ کا حق ہے، لیکن بلاجواز تنقید سے ایسے بہت سے کاموں کی حوصلہ شکنی ہو گی جو پولیس دن رات کررہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •