وزیر اعظم عمران خان کا کمال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان نے حقیقی معنوں میں خود کو عالمی سطح پر ایک بڑے سیاسی مدبراور فہم وفراست پر مبنی راہنما کے طور پر پیش کرکے ایک بڑی عالمی پزیرائی حاصل کی ہے۔ ان کے بقول وہ خود کو کشمیر کے تناظر میں داخلی او رخارجی دونوں محاذوں پر ایک بڑے سیاسی سفیر کے طو رپر پیش کریں گے، واقعی سچ کردکھایا۔ بطوروزیر اعظم اس قدر متحرک اور فعال کردار ماضی میں ہمیں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی او ریہ ہی وجہ ہے کہ دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم کی کشمیر پر مضبوط سیاسی کمٹمنٹ نے اس وقت اس مسئلہ کشمیر کی بین الا اقوامی حیثیت کو اس حد تک متحرک کردیا ہے کہ عالمی دنیا کایہ ایک بڑا ایجنڈا نظر آتا ہے۔ اگرچہ ہمیں فوری طور پر کشمیر کے تناظر میں کوئی بڑے نتائج نہ مل سکیں، مگر اب عالمی دنیا بڑ ی آسانی سے اس مسئلہ کو نظر انداز نہیں کرسکے گی۔

وزیر اعظم عمران خان کا یو این او کے اجلاس سے تاریخی خطاب، مختلف ملکوں کے سربراہان اور وزرائے خارجہ سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کے سربراہان سے ملاقاتیں، مختلف فورمز پر مدلل اور دوٹوک انداز گفتگونے مسئلہ کشمیر کے مسئلہ کو نہ صرف پرجوش بنادیا ہے بلکہ بھارت کو عملی طور پر ایک بڑی دفاعی پوزیشن پر کھڑا کردیا ہے۔ اس دورہ امریکہ میں عالمی دنیا، میڈیا او رمختلف پالیسی ساز تھنک ٹینک کی توجہ کا مرکز مودی نہیں بلکہ خو د وزیر اعظم عمران خان کی شخصیت تھی۔

بنیادی طور پر پاکستان کا مسئلہ ہی سفارت کاری اور ڈپلومیسی کا محاذ تھا۔ یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ ماضی میں سفارت کاری اور ڈپلومیسی کا محاذ وہ نتائج نہیں دے سکا جو ہمیں درکار تھی۔ لیکن عمران خان نے بطور وزیر اعظم خود کو ایک بڑے سفارت کار یا قائد کے طو رپر پیش کرکے پوری سفارت کاری کے شعبہ کو متحرک کردیا ہے۔

پچاس منٹ تک ان کے بے لاگ خطاب نے ان کے سیاسی مخالفین کو بھی بڑا حیران کیا ہے جو ان کو نہ تو سیاست دان مانتی ہے اور نہ ہی ان کو منتخب وزیر اعظم۔ لیکن اس کے باوجود جو عالمی پزیرائی عمران خان کو ملی ہے اس نے واقعی پاکستان کی ایک نئی تصویر دنیا کے سامنے اجاگر کی ہے کہ ہم درست سمت میں کھڑے ہیں۔ اگرچہ بھارت عالمی دنیا کی توجہ کا مرکز ہے اور عالمی دنیا کے ساتھ اس کے بہتر او رموثر تعلقات بھی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس وقت ایک بڑے دباؤ کی سیاست داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر بھارت پر ہے اور عملی طو رپر نریندر مودی ایک دفاعی پوزیشن پر کھڑے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان جانتے ہیں کہ بھارت پر دباؤ ہے او راس دباؤ کو اور زیادہ بڑھانا ہے او ریہ دباؤ کیسے بڑھایا جائے گا اس کی حکمت عملی بھی ان کے ذہن میں ہے۔

جو لوگ بڑی سیاسی ڈھٹائی سے کہہ رہے تھے کہ مودی نے آئین کی شق 370 اور 35۔ Aکو ختم کرکے بڑی برتری حاصل کرلی ہے او راب کچھ نہیں ہوسکے گا۔ اول یہ سمجھنا کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک محض ان شقوں کی بنیاد پر کھڑی ہے تو اس سے زیادہ مضحکہ خیز تجزیہ نہیں ہوسکتا۔ عملی طور پر ہمیں تو نریندر مودی کو داد دینی ہوگی کہ اس کے انتہا پسند اقدامات نے مسئلہ کشمیر کی حیثیت کو ایک نئے او رمضبوط انداز میں عالمی دنیا کی نظروں کے سامنے پیش کیا ہے جو کشمیر کی آزادی کے حق میں جاتا ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ جس انداز سے مسئلہ کشمیر دنیا کی سیاست کی بڑی توجہ کا مرکز بنا اس کی ماضی میں کوئی بڑی نظیر دیکھنے کو نہیں ملتی۔ یہ عمل پاکستان کے او رکشمیر کے حق میں جاتا ہے، لیکن یہ کامیابی کی ابتدا ہے، ہمیں ابھی سیاسی، سفارتی محاذ پر بہت کچھ کرنا ہے اور یہ کام تسلسل او رکسی بڑی سیاسی حکمت عملی کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔

بنیادی طور پر وزیر اعظم عمران خان نے کامیاب سفارت کاری کی مدد سے مسئلہ کشمیر کے مسئلہ کے حل کو اقوام متحدہ، امریکہ سمیت عالمی دنیا، حکمران طبقات، میڈیا اور پالیسی ساز یا تھنک ٹینک اداروں کی کورٹ میں ڈال دی ہے۔ ان کے بقو ل عالمی دنیا او رحکمران طبقات کوطے کرنا ہوگا کہ اسے عالمی معیشت یا منافع کی سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہے یا اس کے سامنے انسانیت کا ایجنڈا سرفہرست ہوگا او ران کا یہ کہنا اہم ہے کہ کشمیر میں انصاف یا سو ارب انسانی مارکیٹ ’دنیا ایک کا انتخاب کرے، اہم تھا۔

عمرا ن خان نے مطالبہ کیا کہ فوری کرفیو کا خاتمہ، تمام قیدی رہا اور عالمی برادری کو کشمیریوں کا حق خود ارادیت دینا ہوگا۔ اسی طرح انہوں نے مودی او رآر ایس ایس کا باہمی گٹھ جوڑ کو بھی خوب اجاگر کیا او رکہا کہ مودی آر ایس ایس کا رکن ہے جو کہ ہٹلر او رمسولینی کے نظریے پر چلتی ہے، یہ نظریہ مسلمانوں اور عیسائیوں سے نفرت انگیز برتاؤ کرتا ہے۔ پہلی بار دنیا میں جس انداز سے عمران خان نے آر ایس ایس اور بھارتی حکومت کا باہمی گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا وہ بہت سے لوگوں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ مودی کی سیاسی ذہبیت کیا ہے اور وہ کسی تکبر کا شکار ہیں۔

اسی طرح انہوں نے عالمی دنیا کے سامنے اسلام کا مقدمہ بھی خوب لڑا او ربنیادی نکتہ یہ اٹھایا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا او راس کو عالمی دنیا ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت اسلام کے ساتھ جوڑ کر اسلامی دنیا میں ایک سخت ردعمل کی سیاست کو پیدا کررہا ہے۔ اگرچہ عمران خان کوئی عالم دین نہیں لیکن ان کا مذہب پر فکر کسی عالم دین سے کم نہیں تھی۔ ان کی یہ بات بجا ہے کہ مغرب کی بہت سی پالیسیوں او رطرز عمل نے مسلمانوں میں ردعمل کی سیاست کو تقویت دی او ریہ ہی عمل انتہا پسندی اور دہشت گردی کا سبب بھی بنا ہے۔ اسی طرح ان کے بقول مغربی راہنماؤں کی متضاد باتوں سے مسلم دنیا میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں او راسی طرح اگر دنیا میں خونریزی ہوگی تو اس کی وجہ اسلام پسندی نہیں بلکہ عدم انصا ف کی سیاست ہوگی۔

عمران خان نے درست عالمی دنیا کو انتباہ کیا کہ اگر دو ایٹمی ملکوں میں جنگ ہوگی تو یہ محض دو بارڈر تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس کے اثرات عالمی دنیا او رخطہ کی سیاست پر بھی پڑیں گے۔ ان کے بقول وہ کوئی دنیا کو دھمکی نہیں دے رہے بلکہ جو دنیا میں خوف ہے اس کو اجاگر کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ اس جنگ کو ہر سطح پر روکا جاسکے۔ انہوں نے ان تمام کوششوں کا بھی عالمی دنیا کے سامنے پیش کیا جو وہ بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کے حوالے سے اٹھائے گئے تھے، مگر ان کے بقول ان کی امن پسندی مودی حکومت نے کمزوری سمجھا اور خطہ کو جنگی ماحول میں بدلا ہے او راگر واقعی جنگ ہوگئی تو اس کے نتائج پوری دنیا بھگتے گی۔

جو لوگ یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ اقوام متحدہ کے اجلاس اور وزیر اعظم کی تقریر سے دنیا کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، ایسا نہیں ہے۔ اس سفارتی کامیابی کو ہمیں چار تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ اول مسئلہ کشمیر کی عالمی حیثیت کی بحالی، دوئم مودی حکومت پر عالمی دنیا او ربالخصوص میڈیا او رتھنک ٹینک سمیت انسانی حقوق کے اداروں کا کشمیر کے تناظر میں دباو، سوئم عالمی دنیا میں پاکستان کے موقف کی پزیرائی۔ چہارم خود بھارت کے اندر سے مودی کشمیر پالیسی کی مخالفت بالخصوص وہ لوگ کل تک کشمیر میں بھارت نواز پالیسی کا حصہ تھے وہ اب مخالف کیمپ کا حصہ ہیں۔ اس لیے جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ مودی حکومت کشمیر پر موجود ہ پالیسی کو لمبے عرصے تک برقرار رکھ سکے وہ غلطی پر ہیں او ر اب مودی سرکار کو کوئی متبادل راستہ تلاش کرنا ہوگا جو کشمیریوں کے لیے قابل قبول ہو۔

بعض لوگوں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا بنیادی نکتہ کشمیر نہیں تھا بلکہ وہ اور موضوعات میں بھی الجھے رہے ہیں۔ جب کہ اگر ان کے پورے دورہ امریکہ کا تجزیہ کیا جائے تو اس میں مسئلہ کشمیر سرفہرست تھا او رپھر انہوں نے جو دیگر موضوعات بھی اٹھائے ہیں ان کی اپنی اہمیت ہے کیونکہ عالمی دنیا میں ہمیں جس منفی انداز سے پیش کیا جارہا تھا اس کا جواب دینا بھی ضروری تھا۔ برحال عمران خان کے خطاب نے پاکستان کو مجموعی طو رپر ایک بڑی امید بھی دی ہے او رپاکستان کے مثبت تشخص کو بھی بحال کیا ہے۔ ان کی اقوا م متحدہ کے اجلاس سے کی گئی تقریر کی گونج کافی دنوں تک عالمی دنیا میں زیر بحث رہے گی اور یہ ہی ہماری بڑ ی سفارتی کامیابی ہے کہ ہم نے دنیا کے ضمیر کو جنجھوڑا بھی ہے او رچیلنج بھی کیا ہے او راسی بنیاد پر ہم سرخرو ہوسکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •