عاصمہ جہانگیر سے ملالہ یوسف زئی کے کشمیر تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج آپ کو ایک راز کی بات بتائی جائے۔ درویش کالم لکھنے سے پہلے ہاتھ منہ دھونے کا التزام کرتا ہے۔ یہ ایک علامتی فعل ہے۔ لکھتے ہوئے انسانی زندگی کی غلاظتوں، محرومی کی بے بسی، تشدد کی درندگی، اقتدار کی لغویت، ظلم کے ننگ، جبر کی جہالت اور جہالت کی کم مائیگی سے واسطہ پڑتا ہے۔ لکھنے والے کے لئے ضروری ہے کہ فعل پر توجہ رکھے اور جہاں تک ہو سکے، کمینگی کا ارتکاب کرنے والوں کی ذات کو خیال سے دور رکھا جائے۔

وجہ سادہ ہے۔ ایسے منفی کرداروں سے قبرستان اٹے پڑے ہیں۔ یہ کل بھی خود کو خدا وغیرہ سمجھتے تھے، آج بھی دندنا رہے ہیں اور شاید آئندہ بھی زمین کا بوجھ رہیں گے۔ ایسے افراد پر توجہ دینے سے اندیشہ ہوتا ہے کہ بدصورتی کی تفہیم کہیں پیچھے رہ جائے اور ہماری توانائی ریا کاری کے بے مایہ پتلوں پر صرف ہو جائے۔ کل خبر آئی کہ رابرٹ موگابے آبائی گاؤں میں دفن کر دیے گئے۔ مجھے 10 دسمبر 2006 کی وہ صبح یاد آئی جب اگستو پنوشے کی موت کی خبر آئی تھی۔

لکھنے والے کے لئے کہیں بہتر ہے کہ ان اسفل نمونوں کی بجائے ان نیک دل انسانوں کو یاد رکھا جائے جو بیماری، احتیاج، محرومی، خوف، ظلم، بدصورتی اور نا انصافی سے لڑتے رہے تاکہ ہمارے لئے آسودگی کا کچھ سامان ہو سکے، خوبصورتی کا کوئی نیا رنگ دریافت ہو سکے، ایک مسکراہٹ کسی آنسو کی جگہ لے سکے، بندوق ڈھالنے کے کارخانے کی جگہ ایک کتاب خانہ تعمیر ہو سکے۔ لکھنے والا غصے اور نفرت جیسی انسانی کمزوریوں سے مبرا نہیں ہوتا لیکن لکھنے کے لئے مامتا کا کچھ حصہ درکار ہوتا ہے، کدورت سے خالی اور صلے سے بے نیاز محبت۔

اگست کے پہلے ہفتے میں جب بھارت نے کشمیر میں استبداد کا ایک نیا دروازہ کھولا تو ہمارے ہاں کچھ حلقوں میں یکایک ایک نئی لغت دریافت ہوئی۔ ایک تو ہم پر اچانک یہ راز کھلا کہ فسطائیت واقعی ایک برائی ہے اور اپنے حریف کو ہٹلر اور فسطائی وغیرہ ہونے کا طعنہ دیا جا سکتا ہے۔ دوسرے ہمیں معلوم ہوا کہ ہندوتوا کا فلسفہ بہت برا ہے۔ ہندوتوا یعنی اپنے عقیدے کو دوسرے مذاہب سے بالاتر سمجھنا اور اس کے غلبے کو ایک سیاسی نصب العین میں ڈھالنا۔ تیسرے یہ کہ ہمیں انسانی حقوق یاد آئے۔ اور اس غلغلے میں ڈھنڈیا مچی کہ انسانی حقوق کے کارکن کہاں ہیں؟ انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں ہیں؟ وہ ہمارے منظور شدہ بیانیے کی حاشیہ برادری سے گریزاں کیوں ہیں؟ ایک مکرم ہستی نے تو نام لے کر شرمین عبید چنائے اور ملالہ یوسف زئی پر طعنہ زنی بھی کی۔ چوں کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی۔

عزیزان من، آپ تو ہولوکاسٹ سے انکار کی تلقین کرتے رہے۔ آپ نے مذہب کے نام پر سیاست ہی نہیں، ریاست سازی کی وکالت کی۔ آپ نے مذہب کے نام پر خون بہانے والے طالبان کی عذر خواہی میں دفتر لکھے۔ آپ نے انسانی حقوق کا نام لینے والوں کو غدار، ملک دشمن اور اغیار کا گماشتہ قرار دیا۔ اقتدار کی دہلیز پر ماتھا ٹیکنے والے انسانی حقوق کی اقدار کیا سمجھیں؟ انسانی حقوق کی تہذیب جاہ و منصب کی اردا بیگنیوں اور قلماقنیوں پر اپنے بھید بھاؤ نہیں کھولتی۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کا سوال 80 لاکھ انسانوں کے حق زندگی، حق آزادی اور حق حکمرانی سے تعلق رکھتا ہے اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے لئے کل بھی ایقان کا حصہ تھا اور تب بھی اس کے لئے آواز بلند کی جائے گی جب درباری کارندے کسی اور جلوس شاہی میں کسی نئے آموختے کا ورد کر رہے ہوں گے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے، سرحد کے دونوں طرف، کبھی پنڈت نہرو کی کہہ مکرنیوں کی تائید نہیں کی، بھٹو کی شعلہ بیانی پر اپنے تنقیدی شعور سے دستبردار نہیں ہوئے، بھارتی سینا کی چیرہ دستیوں سے چشم پوشی نہیں کی۔ کشمیر کے نام پر جہاد کی حمایت نہیں کی۔ انسانی حقوق کے کارکن کی وابستگی کسی تنخواہ دار اہل کار کے اشارہ چشم کے تابع نہیں ہوتی اور نہ کسی پیشوا کے فتوے کی محتاج۔ انسانی حقوق کے کارکن نہ اس دنیا میں منصب مانگتے ہیں اور نہ انہیں عاقبت کے بوریے سمیٹنا ہیں۔

وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ ضمیر انسانی کی ذمہ داری صرف صحیح بات کہنا ہی نہیں، درست وقت پر کہنا اور ٹھیک مقام پر کہنا بھی ہے۔ انسانی حقوق کا نصب العین ریاستوں کے ترکش کا ہتھیار نہیں، نہتے انسانوں کے ضمیر کی آواز ہے۔ اس کے لئے ہجوم کے شور بے شعور سے اں حراف کرتے ہوئے اپنے ضمیر کی تنہائی سے روبرو ہونا پڑتا ہے۔ اکثریت کے جبر سے انحراف ایسا ہی آسان ہوتا تو تاریخ انسانی میں عصیبت کا سکہ یوں مقبول نہ ہوتا۔

پاکستان میں عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق کا استعارہ تھیں۔ 3 ستمبر 2016 ءکو بھارتی مقبوضہ کشمیر سے واپسی پر ان کا بیان ریکارڈ کا حصہ ہے۔ جسے پڑھنا ہو پڑھ لے، جسے سننا ہو، سن لے۔ ملالہ یوسف زئی نے 5 اگست کے سانحے کے چند روز بعد اپنا تفصیلی موقف بیان کیا تھا جسے دنیا بھر میں سنجیدگی سے سنا گیا۔ اس لئے کہ یہ ملالہ یوسف زئی کی آواز تھی جس نے اکتوبر 2012 میں تب طالبان سے گولی کھائی جب ’تازہ واردان بساط حقوق‘ ایک اور حکومت کی ترجمانی کیا کرتے تھے۔

سخاروف نے 1967 میں سوویت حکومت کو اپنی عرضداشت روانہ کی تو اسے معلوم تھا کہ اس کا اقدام اسے گورکی کے بندی خانے میں لے جائے گا۔ ویکلاف ہیول جب چارٹر 77 کے نام سے ”اجتماعی جھوٹ“ کا پردہ چاک کر رہا تھا تو وہ قصر صدارت نہیں، جیل خانے کی طرف قدم بڑھا رہا تھا۔ حبیب جالب 1962 کا ”زیر دستخطی“ دستور ماننے سے انکار کرتا تھا تو اسے معلوم تھا کہ گورنر کالاباغ نے خصوصی کارندے پال رکھے ہپیں۔ جب قدرت اللہ شہاب ”نیا ورق“ کے عنوان سے اداریہ لکھتا ہے تو مظہر علی خان ادارت کی پیش کش ٹھکرا کر گوشہ نشینی میں چلا جاتا ہے۔

راشد رحمن نے جنید حفیظ کے دفاع کی ذمہ داری اپنے تحفظ کی ضمانت لے کر نہیں اٹھائی تھی۔ گرامچی اور ناظم حکمت حرف انکار ادا کرتے ہوئے نا انصافی کو ہجوم کے پسندیدہ ٹکڑوں میں بانٹ کر نہیں دیکھتے تھے۔ ہم نے پاکستان میں انسانی حقوق پر زبان طعن دراز کرنے والوں کی ایک طویل قطار دیکھ رکھی ہے۔ شیر افگن، بنیامن رضوی، نصیراللہ بابر، پرویز مشرف اور چوہدری نثار علی سے لے کر حالیہ عہد عبور تک، اجتماعی دیوالیہ پن سے انحراف کی تنہائی کا صحرا دور دور تک پھیلا ہوا ہے۔

کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر ہر ممکن احتجاج انسانی حقوق کے کارکنوں کا فرض بھی ہے اور منصب بھی۔ لیکن اسے کذب و ریا کے ان پتلوں کو دان نہیں کیا جا سکتا جو اپنی زمین کے بحران کو جھٹلاتے ہوئے انسانی حقوق کی دہائی دیتے ہیں تو بے اختیار پابلو نیرودا کی ایک نظم یاد آ جاتی ہے۔ I ’m explaining a few things کے عنوان سے مختصر سی ایک نظم ہے۔ ابتدائی چند سطریں پڑھ لیں :

You are going to ask: and where are the lilacs?

and the poppy۔ petalled metaphysics؟

and the rain repeatedly spattering

its words and drilling them full

of apertures and birds?

I ’ll tell you all the news۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •