اکادمی ادبیات لاہور ۔ گر تو برا نہ مانے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"ghafferاکادمی ادبیات لاہور ایک ایسا بے یارومددگاراور لاوارث ادارہ ہے کہ جس کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ڈاکٹرمحمد قاسم بگھیو نے دو سال پہلے اکادمی ادبیات اسلام آباد کے چیئرمین کے عہدے کا چارج سنبھالا تو امید تھی کہ وہ اپنی انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے اور دیگر شہروں میں اکادمی ادبیات کی شاخوں کو منظم کریں گے،” سہ ماہی ادبیات“ نام کا ادبی مجلہ بھی باقاعدگی سے شایع ہونے لگے گا اور ادیبوں شاعروں کے مسائل پر بھی توجہ دی جائے گی۔ ان کا دعویٰ کم از کم اس اجلاس میں یہی تھا کہ جس میں انہوں نے لاہور کے کچھ ادیبوں شاعروں کو بلایا اور ان سے پچھلے سال گفتگو کی۔ مگر اس سلسلے میں اس کے بعد کوئی اور پیش رفت نہیں ہو سکی۔ گذشتہ سال انہوں نے اقربا پروری کی انتہا کرتے ہوئے، اپنے ہم دم دیرینہ امداد حسینی کے شعری مجموعہ کو اس سال کی شاعری کی کتابوں میں اول انعام کا حق دار ٹھہرایا اور اس برس اپنے آپ کو بھی صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ اس میں ان کا کوئی ایسا قصور نہیں ہے ، ان کا تعلق سندھ سے ہے ۔چند سال پہلے جب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو اس وقت کی بیوروکریسی میں نرگس سیٹھی سمیت رحمان ملک کو بھی صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی دیا گیا تھا۔ ڈاکٹرمحمد قاسم بگھیو اس کمیٹی کے خود سرکردہ رکن ہیں جو ادیبوں شاعروں کو ان کے بہترین تخلیقی ادب پر ایوارڈ کے لیے ناموں کی ہر سال سفارش کرتی ہے۔یہ تو چیئرمین صاحب خود ہی بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے کیا ادب تخلیق کیا ہے اور ان دوبرسوں میں فروغِ ادب میں کون سی خدمات سر انجام دی ہیں کہ جن کی بدولت ان کو صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔

پچھلی کئی دہائیوں سے اکادمی ادبیات لاہور کا ادارہ کرائے کی مختلف کوٹھیوں میں گھوم پھر رہا ہے۔ہر تین سال بعد جب کرائے کی مد میں اضافہ کا وقت آتا ہے تو نئی جگہ تلاش کر لی جاتی ہے۔ جب قاضی جاوید صاحب ڈائریکٹر تھے تب اس ادارے کا دفتر اقبال ٹاﺅن میں ایک بالائی منزل پر تھا۔ اس کے بعد الطاف قریشی کے زمانے میں اس کا دفتر گارڈن ٹاﺅن کی ایک کوٹھی میں رہا جہاں کسی بھی تقریب کے لیے مناسب جگہ نہ تھی۔ اس کے بعد چائنہ چوک کے قریب ریس کورس پارک کی ہمسائیگی میں ایک کوٹھی کی بالائی منزل کہ جس کی آنے والوں کو سیڑھیاں تلاش کرنا پڑتی تھیں، وہاں رہا۔ اس کے بعد گذشتہ دو برسوں سے اس کا دفتر پھر اقبال ٹاﺅن میں ایک گھر کی بالائی منزل پر کرایہ دار کی حیثیت سے قائم رہا۔ اب جب کہ اس کے کرائے میں اضافہ کا وقت آیا تو اس کا دفتر ایک بار پھر تبدیل کر دیا گیا ہے۔اب کی بار اکادمی ادبیات کے دفتر کو مستنصر حسین تارڑ کے سابقہ گھر میں منتقل کیا گیا ہے جہاں کرائے کی مد میں ماہانہ ساٹھ ہزار روپے ادا کیے جا رہے ہیں۔موجودہ جگہ اگر چہ کئی حوالوں سے پہلے دفاتر کی جگہ سے بہتر ہے مگر اس میں بھی چند باتیں توجہ طلب ہیں۔ بنیادی طور پر یہ بھی ایک گھر ہے جہاں مستنصر حسین تارڑ نے اپنے کئی ناول تخلیق کیے۔ یہاں کی پر سکون فضا، بے شک تخلیقی کام کے لیے نہایت موزوں ہے۔مگر مسائل یہاں بھی وہی ہیں۔ تقریبات کے لیے کوئی بھی مناسب جگہ نہیں ہے۔ جس ٹیلی ویژن لاﺅنج میں مستنصر حسین تارڑ کی فیملی نے عمر کا ایک بڑا حصہ گزارا ،وہ گھر کے لیے تو مناسب جگہ ہو سکتی ہے مگر ادیبوں شاعروں کے ساتھ تقریبات کے لیے کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔ جس طرح ایک ٹوٹی ہوئی میز پچھلے صحن میں رکھ کر،ایک سفید چادر کی صورت میں اس کے عیبوں پر پردہ ڈال کر تقریبات میں چائے پلائی جاتی ہے وہ اپنی غربت کی داستان خود کہہ رہی ہے۔گھر یا دفتر جب بھی کرائے پر چڑھایا جاتا ہے، اس کی رنگ سفیدی، مرمت اور چھوٹے موٹے کام کروا ئے جاتے ہےں مگر ابھی تک تو یہاں لٹکے ہوئے بلب، کئی دہائیاں پرانے پنکھے اور اکھڑے ہوئے سوئچ بورڈ حالت زار بیان کر رہے ہیں۔ ایسی ہی صور ت حال غسل خانوںکی ہے۔ اکادمی ادبیات لاہور کا بنیادی کام ادیبوں شاعروں کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جہاں تقریبات ہوں سکیں اور اگر ادیب شاعر کسی وقت وہاں آ کر بیٹھیں تو بغیر کسی دفتری ضرورت کے اُن کے بیٹھنے کے لیے مناسب جگہ موجود ہو۔ اگر کسی دوسرے ضلع یا صوبہ سے کوئی ادیب یا شاعر آئیں تو ان کے رہنے کے لیے گیسٹ ہاﺅ س ہو۔ ایک مناسب لائبریری ہو جہاں کتابیں موجود ہوں۔ اگر ادیب شاعر وہاں آ کر مطالعہ کرنا چاہیں تو مناسب جگہ اور ماحول میسر ہو۔

اس سلسلے میں اگر اکادمی ادبیات لاہور کے ڈائریکٹر یا ڈپٹی ڈائریکٹر سے بات کریں تووہ اپنے آپ کو لاجواب پاتے ہیں۔ پچھلے ایک دو سالوں سے اکادمی ادبیات کے تعاون سے کئی ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ تقریبات کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔یہ سلسلہ تو خوب ہے مگر بڑے اور سینیئر شاعروں کے ساتھ تقریبات میں اگر پندرہ بیس یا اگر تیس لوگ بھی ایسے بیٹھے ہوں کہ جن میں بمشکل ایک تہائی ادیب شاعر ہوں اورباقی کے بارے میں اگر پوچھا جائے کہ یہ کون لوگ ہیں، تو اکادمی ادبیات کے ذمہ داران محض مسکرا کر دکھا دیں تو ایسی صورت حال میں کیا کسی سے گلہ کرے کوئی۔ اگر مناسب جگہ ہو، علمی و ادبی ماحول ہو، ایک لائبریری اور چائے خانے کا بندوبست ہو تو ادیب شاعر یہاں بیٹھنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ مگر موجودہ صورت حال میں تو یوں لگتا ہے جیسے اکادمی ادبیات خودبھی نہیں چاہتی کہ ادیب شاعر یہاں آ کربیٹھیں۔موجودہ صورت حال میں تو کہیں بہتر ہے کہ اکادمی ادبیات کی موجودہ شاخ کو بند کر دیا جائے۔ اس کا کردار گذشتہ کچھ سالوں سے نہایت منفی رہا ہے۔ حقیقی ادیبوں اور شاعروں کے بجائے اس پلیٹ فارم پر سامعین کے نام سے غیر شاعروں اور غیر ادیبوں کی ایک کھیپ تیار کی گئی ہے جو اس وقت ادب اور شاعری پرقابض ہونے جا رہی ہے۔ یہاں سے ایسے ادیبوں اور شاعروں کو ماہانہ مالی امداد دی جا رہی ہے جو کہیں اور بھی ملازمتیں کر رہے ہیں اور اپنی گاڑیوں میں پٹرول ڈلوانے کے لیے ماہانہ رقم یہاں سے مالی امداد کے نام پر بٹور رہے ہیں۔مالی امداد کا یہ طریقہ کار شفاف اور سب کے سامنے ہونا چاہیے۔ اگر ان ناموں کو عزت نفس کے مجروح ہونے کی دلیل پر عام کرنا مناسب نہیں ہے تو کم از کم دفتر میں تو یہ سہولت ہونا چاہیے کہ جو ادیب شاعر یہ معلومات لینا چاہے تو اسے ان ناموں کی فہرست اور ان کو وظیفے کو حقدار قرار دیے جانے کی وجوہات سے آگاہی حاصل کی جاسکے۔ پھر اگر ان کے ناموں کا فیصلہ کوئی کمیٹی کرے تو زیادہ بہتر ہو گا۔

اکادمی ادبیات لاہور سے نمائندگی کے لیے ایک خاص گروپ کے لوگوں کو کانفرنسز، مشاعروں اور سیمینار میں شرکت کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ مشاعرے بھی وہی پڑھتے ہیں، سیمینار پر پیپر بھی وہی پڑھتے ہیں اور ایوارڈز کے لیے امیدوار بھی وہی اہل قرار پاتے ہیں۔ کسی دوسرے ملک میں ادیبوں شاعروں کو نمائندگی کے لیے بھیجنا ہو تو ڈاکٹرمحمد قاسم بگھیوصاحب اپنے دوستوں کے ساتھ خود چلے جاتے ہیں۔ان دو برسوں میں ڈاکٹرمحمد قاسم بگھیو نے کوئی ایک بھی قابل ذکر تقریب ایسی نہیں کروائی کہ جس کو ان کے کریڈٹ میں ڈال کر حسن کارکردگی کا ایوارڈ دیا جائے۔ انہیں 23مارچ 2017ءکو یہ ایوارڈ وصول کرنے سے پہلے کوئی تو ایسا کارنامہ سر انجام دینا چاہئے کہ انہیں یہ ایوارڈ لیتے ہوئے شرمندگی محسوس نہ ہو۔ ان کا ضمیر ان کو ملامت نہ کرے۔

ایس ہی صورت حال کتابوں پر دیے جانے والے انعامات کی ہے۔ کہیں سال کے دوران میں اخبار میں کوئی اشتہار دے کر مصنف سے کتاب کے چھ نسخے بلاقیمت طلب کیے جاتے ہیں۔اگر کسی کو اس بات کی اطلاع نہیں مل سکی تو اکادمی ادبیات کا اس میںکیا قصور؟ ہاں یہ الگ بات ہے کہ دفتر کے ملازمین اپنے جاننے والوں کو فون کر کر کے کتابیں منگواتے ہیں اور انعام کے لیے بھجواتے ہیں۔

جیسے کسی کو ایک بار سول ایوارڈ ملنے کے بعد پانچ سال تک دوسرا ایوارڈ نہیں مل سکتا ،ایسے ہی کسی ایک کتاب پر انعام لینے کے پانچ سال بعد تک اسی شاعر ادیب کو دوسرا انعام نہیں ملنا چاہیے تا کہ زیادہ لوگوں تک اکادمی ادبیات کا یہ کتابوں پر انعام پہنچ سکے۔اسی طرح اکادمی ادبیات ان تمام شاعروں ادیبوں کے ناموں کی ایک فہرست اپنے اسلام آباد دفتر بھیج دیتی ہے کہ جن کی عمر ساٹھ سال ہو چکی ہے، تعداد میں یہ پچاس سے زائد ادیب شاعر ہیں۔ پچھلے دونوں سالوں میں ایسے شاعروں ادیبوں کو بھی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے کہ جو ابھی ساٹھ سال کے نہیں ہوئے، تو پھر معیار کیا ہے؟ انعامات اور سول ایوارڈز کی نامزدگی کے لیے صوبائی سطح پر حتمی فیصلہ کسی ایسی کمیٹی کے ذریعے ہونا چاہیے کہ جس میں ادیب شاعر خود شامل ہوں کہ جن کو یہ ایوارڈ مل چکا ہے۔اس طرح وہ اپنے نام خود ہی نامزد کر کے نہیں بھیج سکیں گے۔صوبائی سطح پر انعامات کے لیے نامزدگی زیادہ درست انداز میں ہو سکتی ہے۔ مگر حقیقت میں یہ ہوتا ہے کہ کیبنٹ ڈویژن اور وزیر اعظم ہاﺅس میں آخری رات تک نام ڈالے اور نکالے جاتے ہیں جس کا معیار سوائے ذاتی پسند اور نا پسند کے کچھ نہیں ہوتا۔ ایک زمانہ تھا کہ صوبائی سطح پر مختلف اداروں کے سربراہان کے توسط سے ناموں کی نامزدگی کر کے صوبائی سطح کی ایک کمیٹی کے سامنے پیش کیا جاتا تھا جس کی صدارت ایڈیشنل چیف سیکرٹری کرتے تھے اور اس کے ارکان میں اداروں کے سربراہ موجود ہوتے تھے جنہوں نے ناموں کی نامزدگی کی ہوتی تھی اور وہی نام حتمی ہوتے تھے مگر اب ایسا کچھ نہیں ہے۔

چیئر مین اکادمی ادبیات محمد قاسم بگھیو نے اپنے ارد گرد چاپلوسوں کا ایک ٹولہ اکٹھا کر رکھا ہے اور وہ وہی کہتے ہیں جو بگھیو صاحب سننا چاہتے ہیں، انہوں نے خود زبانوں کے کسی موضوع پر ڈاکٹریٹ کر رکھی ہے، خود شاعر ادیب بھی نہیں، اور نہ ہی اچھے ادب کی اُن کو پہچان ہے۔یار باش آدمی ہیں۔ دوستوں کو نوازتے ہیں۔ اب وہ اکتوبر کے آخری دنوں میں چار روزہ ایک عالمی کانفرنس کرنے جا رہے ہیں جس میں مقالہ پڑھنے کی انہوں نے فیس مقرر کر رکھی ہے۔ یہ تعلیمی اداروں میں ترقیوں کی دوڑ میں مصروف پروفیسر صاحبان کے لیے تو قابل قبول ہو سکتا ہے کہ انہیں ان کا تعلیمی ادارہ مالی معاونت شرکت کے لیے دے گا اور ان کو ایک گریڈ آگے ترقی مل جائے گی مگر خالص ادیب شاعر نہ تو اپنی جیب سے پیسے دے کر کوئی مضمون یا مقالہ پیش کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی جیب سے کرایہ اور رہائش کا بل ادا کر سکتے ہیں۔تو پھر یہ عالمی کانفرنس کن لوگوں کے لیے ہے؟ اور اس کے سامعین اور مقالہ نگار کون لوگ ہوں گے؟ کیا اکادمی ادبیات کا قیام اس لیے عمل میں لایا گیا تھا کہ اس پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر چئیرمین صاحب اپنا قد اونچا کریں، سول ایوارڈحاصل کریں؟ کیا اس سوال کا کوئی جواب ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *