اویغور مسلمانوں پر ظلم کا جواز اسلامی ممالک نے دیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ کا دامن انسان پر بیتنے والے ہزاروں سالوں پر محیط وقائع و حوادث سے پُر ہے انسانی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ گروہی زندگی کے آغاز کے ساتھ ہی ظلم نے بھی جنم لیا انسانی بستی میں جب باہمی مفادات ٹکرانے لگے تو طاقتوروں نے اپنے وجود کو برقرار رکھنے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے مد مقابل پر ہر طرح کا ظلم و ستم روا رکھا انسانی قافلہ لڑتے جھگڑتے، مارتے مرتے، گرتے سنبھلتے آج موجودہ صورت حال تک پہنچا ہے اس طویل سفر میں انسانی قافلے کو ہر ہر موڑ پر ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا ہے انسانی قافلے کی ڈوبتی ہوئی ناؤ کو سب سے زیادہ سہار ان لوگوں نے دیا جنہوں نے ظلم کو مسترد کرتے ہوئے ہر حال میں حق گوئی سے کام لیا اور انسانی بستی میں ہونے والے سیاسی اور معاشی ظلم کا پردہ چاک کرتے ہوئے لوگوں کی رہنمائی علم و دانش کی طرف کی نتیجتا انسانی بستی کے مکینوں نے آہستہ آہستہ علم و دانش کے دروازے پر دستک دینا شروع کر دی جس کے اثرات مختلف تہذیبوں کے پھلنے پھولنے کی صورت میں ظاہر ہوئے، گویا موجودہ دنیا کی تہذیبی وتمدنی ترقی میں ظالم کے مقابل سینہ تان کر کھڑے ہونے دلاوروں کا اہم کردار ہے۔

اس لئے کہ انہوں نے ظالم کی طرف سے انسانوں کو ہانکنے کے لئے تراشے گئے جھوٹے جوازوں سے آگاہ کر کے عوام کو ظالموں کے مقابل کھڑا کر دیا یہی وجہ ہے کہ آج بڑے سے بڑے ظالم کو لاکھوں لوگوں پر ظلم کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی بہانہ اور جواز تراشنا پڑتا ہے کبھی خطرناک اور مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کا جواز تراش کر ایک قوم پر حملہ کیا جاتا ہے اور لاکھوں لوگوں سے زندگی چھین لی جاتی ہے ؛تو کبھی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کمزور ملک پر چڑھائی کر کے اسے کھنڈر وں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کو پس پشت ڈالتے ہوئے، بے ہودہ جوا زتراش کر مختلف خطوں کی قوموں اور لوگوں پر ظلم و ستم کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے گو کہ تہذیب یافتہ ممالک میں بغیر کسی امتیاز کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف بھرپور آوازیں اٹھتی ہیں جن کے اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں لیکن ظلم کی رسیا بڑی مچھلیاں پروپیگنڈے کے ذریعے اپنے عوام کو اندھیرے میں رکھ کر ظلم و ستم کی مرتکب ہوتی ہیں، ان کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ چھوٹی مچھلیوں پر لپکنے کے لئے تراشے گئے ایک دوسرے کے جھوٹے جوازوں کی تائیدکرتی ہیں جس کے نتیجے میں ایک ایسا معیار قائم ہوتا ہے جس کے مطابق کسی مخالف ملک کی طرف سے کیا گیا ظلم تو ظلم ہی کہلاتا ہے لیکن کسی دوست ملک کی طرف سے کسی قوم پر ڈھایا جانے والا ظلم دوست ملک کا داخلی معاملہ قرار پاتا ہے۔

مثال کے طور پر انڈیا کی طرف سے کشمیری مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر چشم پوشی کی جاتی ہے جبکہ کسی مخالف ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ہائی لائٹ کر کے انسانی حقوق کا چیمپین بننے کا ڈرامہ کیا جاتا ہے افسوس تو اس بات کاہے کہ مسلمان حکمران بھی ایسی ہی منافقت کا شکار ہیں جس میں انہیں مخالف ملکوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تو نظر آجاتی ہیں جن کے خلاف اپنے سیاسی فائدے کے لئے آواز اٹھائی جاتی ہے لیکن دوست ملکوں میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی بھی نظر نہیں آتی۔

اس حوالے سے بدترین مثال چین کی طرف سے اویغور مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے بدترین مظالم پر اسلامی ممالک کی مجرمانہ خاموشی ہے سعودی عرب، پاکستان، ملائشیا، انڈونیشیا سمیت تمام بڑے اسلامی ممالک کی اویغور مسلمانوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی یہی ظاہر کر رہی ہے کہ چین کے پاس ایک کروڑ سے زائد اویغور مسلمان شہریوں کو کیمپوں میں رکھ کر بدترین تشدد کرنے، جبری طور پر مذہب تبدیل کروانے، بچوں کو والدین سے علیحدہ کرنے، ثقافتی نسل کشی کرنے، زندہ حالت میں جسموں سے گردے، دل جگر، پھیپھڑے، آنکھوں کے پردے اور ان کی جلد کو نکال کرصنعتی پیمانے پر فروخت کرنے کا جواز موجود ہے اگر چین کے پاس یہ سب کچھ کرنے کا کوئی جوا ز موجود نہ ہوتا تو یقینا بڑے مسلمان ممالک مسلمانوں پر مذکورہ بدترین ظلم پر جواب ضرور طلب کرتے لیکن ایسا نہیں ہو سکا ابھی تک کسی بھی اسلامی ملک نے مذمت اور احتجاج تو دور کی بات اویغور مسلمانوں کے حوالے سے دو بول بولنے سے بھی احتراز برتا ہے۔

بلکہ خادم الحرمین شریفین کہلانے والوں اور اقوام متحدہ میں تقریر کے ذریعے پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند کرنے والے عالم اسلام کے ابھرتے ہوئے رہنما ؤں! نے اویغور مسلمانوں کے متعلق چین کے موقف کی حمایت کی ہے اس حمایت کا پس منظر یہ ہے کہ رواں سال برطانیہ، فرانس، جرمنی، کینیڈا جاپان اور آسٹریلیا سمیت اقوام متحدہ کے 22 رکن ممالک کے سفیروں نے چین کو خط لکھا جس میں اویغور مسلمانوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورز ی کی مذمت کی گئی اور چین سے مطالبہ کیا گیا کہ بین الاقوامی اور ملکی قوانین پر عمل کرتے ہوئے اویغور مسلمانوں کے حراستی مراکز کو ختم کیا جائے اور انسانی حقوق کے ماہرین کو چینی صوبہ سنکیانگ تک رسائی دی جائے 22 ممالک کی طرف سے حراستی مراکز کی مذمت کے تین ہفتوں بعد چین نے یہ جواز تراشا کہ حراستی مراکز در حقیقت تربیتی مراکز ہیں جن میں لوگوں کو شدت پسند رجحانات سے محفوظ رکھنے کے لئے تربیت دی جاتی ہے۔

شاید چینی حکومت کی اپنی نظر میں بھی تراشا گیا مذکورہ جواز کافی کمزور تھا اس لئے اس جواز میں وزن پیدا کرنے کے لئے پاکستان اور سعودی عرب سمیت 37 ممالک آگے بڑھے اور اقوام متحدہ کو خط لکھا جس میں کہا گیا کہ انسانی حقوق کے حوالے سے چین کی کوششیں قابل تعریف ہیں گویا چین صوبہ سنکیانگ میں جو کچھ بھی کر رہا ہے وہ ٹھیک کر رہا ہے اورچین کو خط لکھنے والے یورپی یونین کے اکثریتی ممالک چین میں انسانی حقوق کی پامالی کا جھوٹا رو نا رو رہے ہیں ویسے بھی جن 22 ممالک میں کوئی ایک بھی اسلامی ملک شامل نہ ہو ان کی بات پر کیسے یقین کیا جا سکتا ہے! اس لئے ہمیں چار و ناچار یہ ماننا چاہیے کہ چین سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں پر جو ظلم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے اسے اس کا جواز حاصل ہے۔ !

یقین نہیں آتا تو اقوام متحدہ کو لکھے گئے 37 ممالک کے خط کو پڑھ لیجیے جس میں چین کی طرف سے لاکھوں مسلمانوں کو حراستی مراکز (عقوبت خانوں ) میں رکھنے کے جوازپر مہر تائید ثبت کی گئی ہے۔ !

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •