اسلامی چینل۔ چند سوالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقوام متحدہ میں کی جانے والی تقاریر دلپذیر کی پٹاری سے اب تک جو برآمد ہوا ہے وہ ایک اسلامی چینل کے قیام کا فیصلہ ہے جو پاکستان، ترکی اور ملائشیا ملکر قائم کریں گے۔ اس چینل کے مقاصد ہمارے وزیر اعظم نے اپنی ایک ٹویٹ میں اس طرح بیان کیے ہیں۔

’صدر ارگان، وزیر اعظم مہاتیر محمد اور میں نے آج ملاقات کی اور فیصلہ کیا کہ ہم تیں وں ممالک ملکر ایک ایسا انگریزی چینل شروع کریں گے جو‘ اسلاموفوبیا ’سے جنم لینے والے چیلنجز کے مقابلے اور ہمارے عظیم مذہب‘ اسلام ’کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے مختص ہو گا۔ ایسی تمام غلط فہمیوں، جو لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف یکجا کرتی ہیں کا ازالہ کیا جائے گا؛ توہین رسالت کے معاملے کا سیاق و سباق درست کیا جائے گا؛ اپنے لوگوں کے ساتھ دنیا کی تاریخ اسلام سے آگہی و واقفیت کے لئے سیریز و فلمیں تیار کی جائیں گی اور میڈیا میں مسلمانوں کے وقف حصے کا اہتمام کیا جائے گا۔ ‘

اب دینی حمیت اور حب الوطنی کا تقاضا تو شاید یہ تھا کہ اس ٹویٹ کو پڑھ کر دل سے بے اختیار ’تیری آواز مکے اور مدینے‘ کی صدا نکلتی لیکن راقم ٹویٹر پر ہی عطا کردہ القابات کے مطابق چونکہ بیک وقت جیالا، پٹواری، لبرل، سٹیٹس کو کا حامی وغیرہ وغیرہ ہے اس لئے دل میں ایمان کی حرارت کی بجائے ذہن میں کچھ سوالات سے کھلبلانے لگے۔

’اسلاموفوبیا‘ یا اسلام دشمنی کی جو ظاہری اشکال مغربی دنیا میں پائی جاتی ہیں ان میں مساجد پر حملے، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مظاہرے، میڈیا پر اسلامی عقائد پر تنقید، مسلمان شہریوں خصوصاً باپردہ خواتین پر جملے کسنا یا ان کا نقاب کھینچنا شامل ہے۔ پوشیدہ تعصّب کی مثال مسلمانوں پر حصول تعلیم یا ملازمت میں امتیازی سلوک کے ذریعے ترقًی کے مواقع محدود کرنا ہے۔ اسلام دشمنی خواہ ظاہری ہو یا پوشیدہ اس کا سدّباب ضروری ہے اور اس کے لئے جو بھی کوشش کرے اس کو سراہنا چاہیے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ جس ملک میں پچھلے چند سالوں میں مسیحیوں کی بستی کو آگ لگا دی گئی ہو، مندر پر حملہ کیا گیا ہو، شہریوں کو ان کے مذہبی عقائد کی بنا پر قتل کیا گیا ہو اور ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی ہو اس ملک کا سربراہ حکومت، خواہ وہ عمران خان ہو یا کوئی اور، اگر مغرب میں ملسمانوں کے حقوق کی تحفّظ کی بات کرے گا تو اس میں کتنا وزن ہو گا؟

جس ملک میں خاکروبی قانوناً میسحیوں کا مقدر ہو، غیر مسلم شہریوں کا مکان کرائے پر حاصل کرنا مسلمان شہریوں کی نسبت مشکل ہو، دکانوں پر بورڈ لگے ہوں کہ ’دکان میں داخل ہونے سے پہلے قادیانی اسلام میں داخل ہوں‘ اس ملک کا سربراہ حکومت اگر مغربی دنیا کو اقلیتوں کے حقوق پر لیکچر دے تو کون سنجیدگی سے لے گا؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک عام مسلمان، خواہ وہ کتنا ہی بے عمل کیوں نہ ہو، ناموس رسالتﷺ کے باب میں بے حد حساس ہے۔ اہل مغرب کا اس معاملے کو آزادی اظہار کے حق سے جوڑنا منافقت کے زمرے میں آتا ہے۔ جرمنی اور آسڑیا میں دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودیوں کی نسل کشی کو جھٹلانا قانوناً جرم ہے اور اگر کوئی حق آزادی اظہار کا سہارا لے کر اس پر سوال اٹھائے تو اسے جیل و جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لہذا مغرب میں بھی آزادی اظہار کا حق لامحدود نہیں۔ لیکن سوال یہاں پھر ہمارے اپنے کردار کا اٹھتا ہے۔

مثال کے طور پر ’ہندو ذہنیت‘ اور مرزا غلام احمد کا تحقیرآمیز انداز میں ذکر ہمارے ذرائع ابلاغ میں عام ہے اور اس بات کو بظاہر کوئی اہمیت نہیں دی جاتی کہ پاکستانی شہریوں میں ہندو اور مرزا غلام احمد کے پیروکار بھی شامل ہیں جن کے مذہبی جذبات اس قسم کے اظہار خیال سے مجروح ہو سکتے ہیں۔ یہاں اگر ہم یہ مؤقف اپناتے ہیں کہ ہماری دینی غیرت کے تقاضے دیگر تمام معاشرتی تقاضوں پر حاوی ہیں اور ہمیں اپنے عقیدے سے متصادم عقائد پر کسی بھی طریق سے تنقید کا حق حاصل ہے خواہ ان عقائد کے حامل ہمارے ہموطن ہی کیوں نہ ہوں تو پھر ہم غیر مسلم معاشروں سے یہ کیسے توقع رکھیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان معاشروں میں موجود مسلمان اقلیتوں کے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں؟

راقم کو یہ بھی سمجھ نہیں آئی کہ اسلام کے جس حقیقی تشخص کو یہ سربراہان اجاگر کرنا چاہتے ہیں وہ کیا ہے اور اس تشخص کی کوئی جھلک ہمیں آج کی اسلامی دنیا میں کہیں ملتی ہے جسے ہم بطور عملی نمونہ دنیا کے سامنے انگریزی کمنٹری کے ساتھ پیش کر سکیں؟

اگر ہم ایک اسلامی چینل قائم کر بھی لیں تو اس بات کو کیسے یقینی بنائیں گے کہ اس کی نشریات کو مغربی دنیا نہ صرف دیھکے گی بلکہ ان کا اعتبار بھی کرے گی؟ ہمارے ہمسائے میں قطر نے الجزیرہ کے نام سے ایک بڑا اور کافی حد تک مؤثر چینل قائم کر رکھا ہے جس کی انگریزی نشریات دنیا کے کئی حصوں میں دیکھی جاتی ہیں۔ برطانیہ اور امریکہ سے چند بڑے صحافتی نام اس سے جڑے ہیں اور بی بی سی جیسے اداورں نے اس کے ساتھ معاہدے کر رکھیں ہیں۔ لیکن جہاں قطر کی جانب سے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کے لئے بڑے پیمانے پر رشوت دینے یا تارکین وطن مزدورں سے غیر مناسب سلوک کے بارے میں سوال اٹھیں گے تو کیا قطر کی جانب سے الجزیرہ کی گواہی معتبر سمجھی جائے گی؟

پراپیگینڈے کا جواب پراپیگینڈے سے دینے کہ منصوبے بنانے سے کہیں بہتر ہے کہ ہم اپنی توانائیاں اپنے گھر کو سدھارنے پر صرف کریں تا کہ جب ہمارا وزیر اعظم کسی عالمی فورم پر کھڑا ہو کر مغرب کو اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے تلقین کرے تو اسے جواباً ’تجھ کو پرائی کیا پڑی، اپنی نبیڑ تو‘ سننے کا خطرہ نہ ہو اور نہ ہی اسلام کے ’حقیقی تشخص‘ کی مثال پیش کرنے کے لئے چودہ سو سال پیچھے جانا پڑے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •