میاں، بیوی اور کال گرل (دوسرا حصہ)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”جی نہیں ڈاکٹر صاحبہ۔ وہ کافی شاپ کا نمبر کیوں رکھیں گے۔ کبھی کبھار ہی وہ کافی پیتے ہیں وہ بھی باہر جاکر۔ اور پھر میں نے جہاں فون کیا تھا اس نے فون کیوں کاٹا؟ آپ پلیز میری مدد کریں۔ “
” او کے لیکن مجھے آپ کے میاں سے بھی ملنا ہو گا لیکن خفیہ طریقے سے۔ اسے یہ شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ میں ڈاکٹر ہوں۔ “

”تو کوئی پلان بنا لیتے ہیں۔ “
”ایسا ہے کہ تم اپنے میاں کو کسی ریسٹورانٹ میں لے آؤ یا پھر کافی شاپ میں۔ میرے خیال میں یہ بہتر رہے گا۔ تم اسے گلوریا جینز میں لے آؤ۔ “

”ٹھیک ہے ڈاکٹر صاحبہ، ان کی چھٹی چار بجے ہوتی ہے۔ میں انہیں وہیں لے آؤں گی۔ “
”زبردست۔ میں اچانک وہاں آؤں گی اور تم اپنی کالج فیلو کی حیثیت سے میرا تعارف کر دینا باقی میں سنبھال لوں گی۔ “

ڈاکٹر سے بات چیت کے بعد ماہین نے محمود کا نمبر ملایا مگر فون بند تھا۔ اس نے آفس کا نمبر ملایا۔ محمود کی سیکرٹری نے فون اٹھایا۔
”محمود صاحب کہاں ہیں؟ “ اس نے پوچھا۔

”وہ باس کے ساتھ میٹنگ میں ہیں۔ “ سیکرٹری نے بتایا۔
”اچھا ان سے کہنا کہ جب فری ہوں تو مجھ سے بات کر لیں۔ “ اس نے کہا۔ پھر اس نے میسیج کیا کہ آفس کے بعد چار بجے وہ آفس میں ٹھہرے۔ ”

ماہین نے سوچا تھا کہ وہ اس کے آفس آئے گی اور اسے ساتھ لے کر ”گلوریا جینز“ جائے گی۔ مگر جو سوچا جائے سب کچھ ویسا نہیں ہوتا۔ وہ گھر سے نکلی اور ایک ٹیکسی لے کر آفس کی طرف روانہ ہوئی۔ راستے میں کسی مسئلے کی وجہ سے ٹریفک جام تھا۔ گاڑی رش میں پھنس گئی۔ اب نہ وہ آگے جا سکتے تھے نہ پیچھے۔ وقت تیزی سے گزرتا جا رہا تھا۔

ڈاکٹر رفعت تقریباً چار بجے ’گلوریا جینز‘ پہنچی تو اسے ایک کونے میں ایک مرد اور لڑکی بیٹھے دکھائی دیے۔ ماہین نے کہا تھا کہ وہ گرین کلر کے کپڑے پہنے ہوئے ہے جبکہ اس کے میاں بلیک پینٹ اور وائٹ شرٹ میں ہوں گے۔ ان دونوں نے اسی رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر رفعت مسکراتے ہوئے آگے بڑھی۔

”ہیلو ماہین! “ اس نے قریب پہنچ کر چہکتے ہوئے کہا۔ وہ دونوں چونک اٹھے۔
”آپ کون؟ “ مرد نے حیرت سے پوچھا۔

”حیران کر دیا ناں۔ میں آپ کی مسز کی دوست ہوں۔ “ ڈاکٹر رفعت نے ہنستے ہوئے کہا۔
”بولو ناں ماہین۔ “

لڑکی بڑی حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ ڈاکٹر رفعت کو دل ہی دل میں غصہ آ رہا تھا کہ کتنی بری اداکاری کر رہی ہے۔ اسے چاہیے تھا کہ وہ بھی چہک اٹھتی اور کہتی۔ ”ہائے رفعت کہاں تھیں تم؟ “ مگر وہ تو کچھ بول ہی نہیں رہی تھی۔

”دیکھیے محترمہ آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ “ مرد نے کہا۔
”تو کیا آپ مسٹر محمود نہیں ہیں؟ “

”میں تو محمود ہی ہوں۔ “ اس نے چونک کر کہا۔
”تو کیا آپ ماہین نہیں ہیں؟ “ ڈاکٹر رفعت لڑکی کی طرف مڑی۔

”اگر آپ کہتی ہیں تو میں مان لیتی ہوں۔ چلیے اب بتائیے کیا کام ہے؟ “ لڑکی نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
”سوری! شاید مجھے غلط فہمی ہوئی ہے۔ “ ڈاکٹر رفعت نے کہا اور تیزی سے آگے بڑھ گئی۔ باہر آ کر وہ اپنی کار میں بیٹھی سوچ رہی تھی کہ ماہین کہاں ہے۔ ایک خیال آتے ہی اس نے ماہین کا نمبر ملایا۔

”جی ڈاکٹر صاحبہ میں ٹریفک جام میں پھنس گئی تھی بس تھوڑی دیر میں ہی آفس سے اپنے میاں کو لے کر گلوریا جینز لے کر آتی ہوں۔ “

”ماہین آپ کو تھوڑی نہیں زیادہ دیر ہو گئی ہے۔ آپ کے میاں کسی لڑکی کے ساتھ اس وقت گلوریا جینز میں ہی کافی پی رہے ہیں۔ اور ابھی فوراً شاید سیکنڈ کپ پینا پسند نہ کریں۔ آپ میرے کلینک میں ہی آ جائیں۔ میں وہیں جا رہی ہوں۔ “ ڈاکٹر رفعت نے کہا۔

ماہین غصے میں کھولتی ہوئی جب ڈاکٹررفعت کے پاس پہنچی تو وہ ایک بوڑھے مریض کو چیک کر رہی تھی۔ ماہین نے اپنا تعارف کرایا۔ ماہین کو دیکھ کر اس نے بوڑھے کو فارغ کیا اور ماہین کی طرف متوجہ ہوئی۔

”ماہین واقعی وہ لڑکی تمہارے میاں پر ڈورے ڈال رہی ہے اور کم بخت کافی خوبصورت ہے۔ “
”ڈاکٹر صاحبہ پلیز۔ میں اس کے حسن کے بارے میں ایک لفظ نہیں سننا چاہتی۔ “ ماہین نے تڑپ کر کہا۔

”سوری لیکن میں نے جو دیکھا بتا دیا۔
”تو اب تم چاہتی کیا ہو؟ َ“

”کمال ہے ڈاکٹر صاحبہ میں نے ساری کہانی تو بتا دی ہے۔ میرا گھر ٹوٹ رہا ہے۔ میرے اور میرے میاں کے بیچ ایک کال گرل آ گئی ہے۔ میں اپنے میاں کو اس سے بچانا چاہتی ہوں۔ “ ماہین نے کہا۔
”آپ ایسے میاں کو چھوڑ کیوں نہیں دیتیں جو آپ کی قدر نہیں جانتا۔ “ ڈاکٹر رفعت کا لہجہ کچھ تلخ تھا۔

”نہیں ڈاکٹر صاحبہ میں اسے چھوڑ نہیں سکتی۔ مجھے وہ برا نہیں لگتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ منحوس بیچ میں آئی ہے۔ اور پھر ہم پانچ بہنیں ہیں۔ میں سب سے بڑی ہوں اتنی مشکل سے یہ رشتہ ہوا تھا۔ میرے ماں باپ طلاق کا صدمہ برداشت نہیں کر سکیں گے اور میری بہنوں کی شادیاں بھی کھٹائی میں پڑ جائیں گی۔ لوگ کہیں گے ان کی بڑی بہن طلاق لے کر بیٹھ گئی ہے تو یہ نہ جانے کیا کریں گی۔ کوئی اور حل بتائیں؟ “ ماہین نے کہا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •