میاں، بیوی اور کال گرل (دوسرا حصہ)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”سنو! مسئلہ یہ ہے کہ بیویاں اپنے میاں کے سامنے روکھی پھیکی سی آ جاتی ہیں جب میاں دوسری لڑکیوں کو میک اپ اور مختصر لباس میں دیکھتا ہے تو اسے اپنی بیوی بری لگنے لگتی ہے۔ تم ایسا کرو کہ اپنے میاں سے ذرا نئے انداز میں ملو پھر مجھے بتانا کہ کیا ہوا۔ “

ماہین ڈاکٹر رفعت سے ملنے کے بعد کافی حد تک پر سکون تھی۔ اس نے واپسی پر کچھ شاپنگ بھی کی اور پھر گھر چلی گئی۔ محمود ابھی تک نہیں لوٹا تھا۔
شام کو وہ گھر آیا تو ماہین کافی تیار ہو کر بیٹھی تھی۔

”تم کہیں جا رہی ہو؟ “ محمود نے چونک کر پوچھا۔
”کمال ہے تیار ہونے کا یہ مطلب تو نہیں کہ مجھے کہیں جانا ہے۔ ویسے ہی میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں میک اپ کروں۔ نئے کپڑے پہنوں۔ بتاؤ میں کیسی لگ رہی ہوں؟ “

”ہوں، اچھی لگ رہی ہو۔ “
”صرف اچھی؟ “ ماہین نے منہ بنایا۔

”میرا مطلب ہے، انتہائی خوبصورت لگ رہی ہو۔ “ محمود نے بات ختم کرنے کی کوشش کی۔ محمود محسوس کر رہا تھا کہ ماہین اب اس کے قریب ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے رویے میں یہ تبدیلی آئی تھی۔ لیکن وہ گلوریا جینز والے واقعے کی وجہ سے الجھا ہوا تھا۔ سوچ رہا تھا ماہین نے پوچھا تو کیا جواب دے گا۔

وہ سونے کے لیے لیٹا تو ماہین کمرے میں نہیں تھی۔ پھر وہ کمرے میں داخل ہوئی تو حیرت سے اس کی آنکھیں کھل گئیں۔ ماہین کے بدن پر ایک مختصر سی مہین نائٹی تھی۔

”کیسی لگ رہی ہوں میں؟ “ اس نے پیار بھرے لہجے میں کہا۔ محمود نے بے اختیار بازو پھیلا دیے۔ ماہین اس کے بازوؤں میں سما گئی۔ محمود سب کچھ فراموش کر کے ماہین کے حسن میں کھو گیا۔ ماہین کے ہونٹ اسے جلتے ہوئے انگاروں کی طرح لگ رہے تھے۔ خود اس کا بدن یوں تپ رہا تھا جیسے بخار ہو گیا ہو۔ کافی عرصے بعد وہ اس کیفیت کا شکار ہوا تھا۔ پھر ماہین نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔

”تم رابی کو چھوڑ نہیں سکتے؟ “
محمود چونک اٹھا۔ ”ماہین یہ تم کیا کہہ رہی ہوں۔ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ “

”میں جانتی ہوں۔ تم نے اس سے ابھی تک رابطہ رکھا ہوا ہے۔ کیوں؟ “
ماہین کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ محمود اس کے گرم گرم آنسو اپنے سینے پر محسوس کر رہا تھا۔ اس نے ماہین کو اپنے بازوؤں میں بھینچتے ہوئے کہا۔

”بس اب اپنے آنسو پونچھ لو۔ میں واقعی بھٹک گیا تھا لیکن اب لوٹ آیا ہوں۔ “
ماہین مسکرا اٹھی۔ وہ نہ جانے کتنی دیر اپنی باتیں کرتے رہے۔ بہت سی گرہیں تھیں جنہیں کھولنے کے لیے کافی وقت چاہیے تھا۔

دو بجے کا وقت تھا جب محمود کے موبائل کی رنگ ٹون بجنے لگی۔ محمود نے چونک کر دیکھا۔
”رابی کا فون ہے۔ “ اس نے ماہین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

”تو اٹھاؤ ناں؟ “ ماہین بولی۔
”میں اس سے کیا کہوں گا۔ کاٹ دیتا ہوں۔ “

”اوہو! سنو تو سہی وہ کہتی کیا ہے؟ “ ماہین بولی۔ محمود نے لاؤڈ کر کے کال اٹینڈ کی۔
”ہیلو! کہاں ہو؟ “ رابی کی آواز آئی۔
”میں اس وقت اپنے بیڈ روم میں ہوں۔ “ محمود بولا۔

”اوہ ہاں! تم اور کہاں ہو سکتے تھے۔ سوری اس وقت فون کر رہی ہوں۔ اصل میں ایک کام مل گیا تھا ابھی فارغ ہوئی ہوں۔ وہ میں نے پوچھنا تھا کہ تمہارا ادھار ابھی باقی ہے۔ تو پھر میں کب آ جاؤں۔ کہو تو ابھی آ جاؤں؟ “ رابی نے مخمور لہجے میں کہا۔

”رابی مجھے ایک بار پھر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ میں تمہاری خدمات سے استفادہ نہیں کر سکتا۔ براہِ کرم میرا پیچھا چھوڑ دو۔ “ محمود نے کہا۔
”مجھے تمہاری بالکل سمجھ نہیں آتی۔ پہلے ایک بات کرتے ہو پھر اچانک یو ٹرن لے لیتے ہو۔ تمہارا مسئلہ کیا ہے؟ “ رابی نے بیزاری سے کہا۔

”میں ایسا ہی ہوں۔ سنو میں تمہرا نمبر ڈیلیٹ کر رہا ہوں۔ آئندہ مجھے فون مت کرنا کیوں کہ میں انجان نمبر سے آنے والی کال نہیں اٹھاتا۔ “ محمود نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا۔
ماہین مسکراتے ہوئے اس کے سینے سے لگ گئی۔ محمود نے اس کی پیشانی پر ہونٹ رکھ دیے۔ ماہین کو یوں لگا جیسے اس کا کھویا ہوا خاوند واپس مل گیا ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •