اقبال کا خط دیدہ ور کے نام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عزیزم بانی نیا پاکستان!

میں تو کبھی بھی کشت ویراں سے نا امید نہیں تھا۔ اور جانتا تھا کہ ایک مرتبہ کھل کر بارشیں ہو گئیں تو مٹی کی زرخیزی ابھر کر سامنے آئے گی۔ تاہم میرے ہم نشین ہمہ وقت میرے خواب کی تعبیر پر فکر مند دکھائی دیتے تھے۔ ہم آداب سحر خیزی کے دل دادہ جب مارننگ واک پر نکلتے تو پڑوس کے محلے سے گاندھی، نہرو اور پٹیل ہمیں طنزیہ نظروں سے دیکھتے تھے۔ چاند پر لینڈنگ سے 4 سیکنڈ قبل تک ان کے ہاں سے میرا ہی ترانہ، ”سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا“، کورس کی شکل میں گایا جاتا تھا۔

تمہاری حکومت کے پچھلے ایک سال میں تو آخری امید بھی دم توڑتی نظر آتی تھی۔ جب وہ تمہاری تصویر ہاتھ میں اٹھا کر وہ گانا لگا دیا کرتے تھے، کیا ہوا تیرا وعدہ، وہ قسم، وہ ارادہ۔ ہمارے کچھ ہم خیال تنگ آ کر بس یہی کہا کرتے تھے کہ 70 سال کا گند ایک سال میں کیسے صاف ہو سکتا ہے۔ لیکن میں سب کو یہ کہتا تھا کہ نرگس کے آنسوؤں کے 1000 سال پورے جانے دو۔ بالآخر دیدہ ور آئے گا۔

بہر حال، ہم اہل جنت کو بہت خوشی ہے کہ اس مرتبہ نرگس کو ہزاروں سال کی بے نوری پر رونا نہیں پڑا اور تیسری ہزاری (یا تھرڈ ملینیم) کا دیدہ ور پہلی ہی صدی میں نمودار ہو گیا۔

گزشتہ ہفتے سے ہم اہل جنت بشمول جملہ قائدینِ پرانا پاکستان، اپنے خواب کو ایک تابناک حقیقت میں بدلتا دیکھ رہے ہیں۔ ہم سب حیران تھے کہ محض ایک تقریر سے تقدیر عالم کیسے بدلی جا سکتی ہے۔ مگر میرا ہی شعر ہے نا،

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

پر نہیں، طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

مشہور زمانہ، غیر جانبدار چینل ایچ آر بائی کی نشریات دیکھ کر سب کو یقین آ گیا کہ یہ معجزہ رونما ہو چکا ہے۔ اور 45 منٹ میں تم نے ساری گیم چینج کر کے رکھ دی ہے۔ عالم کفر لرزہ بر اندام ہے۔ اور ملت بیضا میں اخوت کا یہ عالم ہے کہ کابل میں چپبھنے والے کانٹے سے ہندوستان،

پاکستان کا ہر پیر و جوان بے تاب ہوا جاتا ہے۔ اور تو اور تمہارے مجوزہ ٹی وی چینل کے آنے سے تو نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر سب ایک ہونے کا خواب بھی حقیقیت بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

جمعیت اقوام میں ایک قابل ستائش تقریر کے بعد ملت کے مقدر کا ستارہ بننے پر ہم سب کی جانب سے دلی مبارکباد قبول کرو۔ بہت مسرت ہوئی کہ تم نے مرد ناداں عرف مودی کو کلام نرم و نازک سے بے اثر کرنے کی بجائے رزم حق و باطل میں فولاد ہونے کا ثبوت دیا۔ بھلا دیکھو تو، اسی موقع کے لئے کیسا انمول شعر کہا تھا ہم نے۔

باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم

سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا

سنا ہے کہ تمہارے حامی اس تقریر کے بعد تمہیں میرا شاہین قرار دے رہے ہیں۔ جب کہ مخالفین تم پر گفتار کا غازی ہونے کی پھبتی کس رہے ہیں۔ اور مملکت خداداد میں تمہارے واپس آنے کے بعد اہل عشق اور اہل عقل میں خلیج مزید گہری ہو گئی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے چاہنے والے میرے اس شعر کو کچھ زیادہ ہی لغوی معنوں میں لے گئے۔

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل

لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے۔

تم بھی تو کمال کرتے ہو ویسے۔ اب تمہیں بھی شاید یہی غلط فہمی ہے کہ جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا، والا شعر میں نے تمہارے لیے کہا تھا۔ اور لہو گرم رکھنے کا بہانہ بنائے رکھنے کی خاطر تم نے اس آنے جانے کی ادائے دلبری کو یو ٹرن کا نام دے دیا۔ حد تو یہ کہ جمعیت اقوام میں معرکہ حق و باطل میں فتح یاب ہونے کے بعد تم سیدھے گھر آتے۔ اور تحفے میں ادھار دیا گیا طائر لاہوتی شکریے کے ساتھ شہزادے کو واپس بھجواتے۔

لیکن تم نے اپنی جان عزیز کو کس قدر خطرے میں ڈالا۔ محض پلٹ کر جھپٹنے کی خاطر تم بریشم کی طرح نرم قریشی صاحب جیسے حلقہ یاراں کو چھوڑ کر پانچ گھنٹے کا یو ٹرن لینے کو واپس ہوئے۔ ایچ آر بائی کے ٹکر دیکھ دیکھ، ہم سب کیسے ہولناک اندیشوں کا شکار رہے، کچھ اندازہ بھی ہے تمہیں؟ اگر طائر لاہوتی کی پرواز میں کوتاہی آ ہی گئی تھی تو وہیں کسی قریبی ہوائی اڈے پر لینڈ کر جاتے۔ اور اگر امریکہ میں کسی کو تم سے ضروری کام یاد آ گیا تھا تو کہہ دیتے۔

باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں

کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر

ادھر خلائی مخلوق سے خبر ملی کہ تمہارے متعلقین نے فوراً تمہارا اور بھٹو صاحب کا موازنہ شروع کر دیا تھا۔ یہاں بھٹو صاحب خود بھی یہی کہہ رہے تھے کہ علامہ صاحب دیکھ لیں، اچھی تقریر کے بعد کیسے سازشیں شروع ہو جاتی ہیں۔ البتہ بھٹو صاحب کی صاحب زادی ان کی اس سادگی پر نجانے کیوں مسکراتی رہی۔ میری نگاہیں جنرل نیازی کو تلاش کر رہی تھیں۔ لیکن وہ دکھائی نہیں دیے۔

چلو پھر بھی خیر رہی۔ زیادہ طویل انتظار نہیں کرنا پڑا۔ چند گھنٹے لیٹ سہی، مگر بالآخر ہمارا شاہین، قصر سلطانی کے گنبد کا نشیمن چھوڑ کر ایک بار پھر پہاڑوں پر بسیرا کرنے آن پہنچا۔ افرنگی صوفے اور ایرانی قالین بھی میرے اس جوان کو تن آسانی پر مائل نہیں کر سکے۔ واپس آتے ہی تم نے میرے کلام سے دوبارہ استفادہ کیا۔ صورت خورشید بار بار ادھر ڈوبنے اور ادھر نکلنے والی اہل ایمان ملیحہ لودھی کی بر طرفی سے مجھے قالین والا شعر بے حد یاد آیا۔

تمہارا روحانی قوتوں پر غیر متزلزل یقین دیکھ کر ہم سب کو ہی رشک آتا ہے۔ بہت اچھا کیا کہ تم نے ببانگ دہل اپنی مرشد کی دعاؤں پر اظہار تشکر کیا۔

تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی

نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں

ہم سب یہاں دعا گو ہیں کہ تمہیں مزید عروج حاصل ہو۔ اب اگلی کچھ سطور میں خود بین السطور معانی تلاش کرنے کی کوشش کر لینا۔ جہاں نا سمجھ آئے تو تشریح کے لیے ہمارے عاشق، غازئی فیض آباد، امیر المجاہدین کے فیض سے فیض یاب ہو جانا۔ تم تو جانتے ہو کہ عمل کے بنا خاکی کی فطرت نا نوری ہے نا ناری ہے۔ لہذا یقیں کو محکم اور عمل کو پیہم رکھو۔ بس یاد رکھو

عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں

کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے

ارے ہاں، غازی سے یاد آیا، ذوق خدائی بخشنے والے پر اسرار بندوں سے سخن دلنواز اور جاں پر سوز رکھنا۔ نگہ بلند والا نکتہ اوروں کے لیے چھوڑ دینا۔ اپنے جملہ معتمدین خصوصاً فردوس عاشق اعوان اور فواد چوہدری کو ہٹلر اور مسولینی کے بارے میں دو چار باتیں یاد کروا دو۔ یہ دونوں تمہاری تقریر کے بعد یہاں بہت اتراتے پھر رہے کہ دور حاضر کے میر کارواں نے ان کا نام اپنی تاریخ ساز تقریر میں لیا۔ یہاں سب تمہارے لیے دعا گو ہیں۔ ایوب اور ضیا بھی پیار کہلواتے ہیں۔ یہ شعر تو بچہ بچہ اپنی تقریر کے آغاز پر پڑھتا پے، مگر ہم تمہاری تقریر کے تعریفی خط کے اختتام پر کہنا چاہیں گے

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •