کافروں اور غداروں کی رائے صحیح کیوں نکلتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال کا ایک شعرمجھے بہت پسند ہے۔

 ہے وہی تیرے زمانے کا امام بَرحق

 جو تجھے حاضرو موجود سے بیزار کرے

 کیا اچھا شعر ہے۔ مسلسل سوال اٹھانے پر، غورکرنے پر، تنقیدی نظر رکھنے پر، خوب سے خوب ترکی تلاش پراْکساتا ہے۔ انسانی سماج ابھی فکری اور اخلاقی ارتقا کے مراحل میں ہے۔ کچھ لوگ ہر سماج اور ہر زمانے میں ایسے ہوتے ہیں جنہیں فیض صاحب کی زبان میں ہمتِ کفراور جرآتِ تحقیق مل جاتی ہے۔ تازہ حقائق اور جدید فکر سامنے آنے کے بعد پہلے سے طے شدہ نظریات پرقائم رہنے کا نام کفر اور جہل ہے۔ تبھی اسلام سے پہلے کا دور، دورِجاہلیّہ کہلاتا ہے اور سچ پر ایمان نہ لانے والے کافر۔

  مگر ہمارے ہاں معاملہ الٹا ہے۔ جو سوال اٹھائے، حاضر و موجود سے بیزار کرے، من حیث القوم کنویں میں چھلانگ لگانے سے روکے، نئے مسائل کے حل تجویز کرے، وہی کافر اور مملکت کا غدارٹھہرتا ہے۔ مگریہ کیا بوالعجبی ہے کہ چوٹ کھانے کے بعد اور وقت گزرنے کے ساتھ ماضی کے وہی کافر اور غدار ہر بار ٹھیک ثابت ہو جاتے ہیں۔ ان کے اپنے وقت کے مخالفین کی اولادیں ان کے خیالات کی تعظیم کرتی ہیں۔ مگریہاں ایک طبقاتی مسئلہ بھی درپیش ہوتا ہے۔  یہ اولادیں اشرافیہ سے تعلّق رکھنے والے اپنے پُرکھوں کی سنّت بھی زندہ رکھتی ہیں۔ ہم عصرسوال اٹھانے والوں، ٹوکنے والوں اور مستقبل کے ممکنہ خدشات سے خبردارکرنے والوں کو کافر اور غدار قراردینے میں تامل سے کام نہیں لیتیں۔ بلکہ اس گروہ پر ہر نوع کا جبرآزماتی ہیں۔ سو جو گزرگئے وہ لائق تعظیم اور جو موجود، وہ لائق تعزیر۔

 مملکتِ خدا داد کی سیاسی تاریخ پرایک اچَٹتی نظر ڈالتے ہیں۔ دیکھتے ہیں، کس وقت کیا ہو رہا تھا اور یہ کافروں اور غدّاروں کا گروہ کیا کہہ رہا تھا۔ جب قا‏ئداعظم نے کراچی کو سندھ سے انتظامی طورپرعلاحدہ کیا تو اس گروہ نے کہا کہ انتظامی تقسیم، سیاسی تقسیم کو جنم دے گی۔ یہی ہوا۔ آج کراچی سندھ میں شامل ہے مگرسیاسی اور لسانی تقسیم سندھ میں محکم ترہے۔

 جب قراردادِ مقاصد تیارکی گئی تو اس گروہ نے کہا کہ ملک میں مذہبی اور فرقہ وارانہ عدم رواداری رواج پائے گی۔ نہ تو نواب زادہ لیاقت علی خان کے کان پر جوں رینگی نہ مجلس ِقانون ساز کی اکثریت نے کان دھرا۔ نواب زادہ بھی شہید ہوئے اور ملک اور معاشرہ بھی مذہبی بنیادوں پر بٹ گیا۔

 جب اکتوبر 1955 میں اسکندر مرزا کی قیادت اور جنرل ایوب خان کی درپردہ سرپرستی میں مغربی پاکستان کی وفاقی اکائیوں کو جبراً ضم کر کے ون یونٹ بنایا گیا تو اس گروہ نے کہا کہ اس عمل سے صوبائی منافرت بڑھے گی اور شناخت سے محرومی کا احساس جنم لے گا۔ یہی ہوا۔ ون یونٹ رہا نہ متحدہ پاکستان مگرباقی ماندہ پاکستان میں آباد قوموں اور قومیّتوں کے مابین تعلق اب ایک مستقل شک کی بنیاد پرقائم ہے۔

 جب سردار نوروزخان سے جنرل ایوب نے عہد شکنی کی تو اس آمادہ بر خروج ”غدار وطن گروہ“ نے کہا کہ اب بلوچستان کا مسئلہ آسانی سے حل نہیں ہوگا۔ تب سے اب تک مزید تین عسکری مہّمات اور عساکرکی مستقل موجودگی سے بھی مسئلہ حل نہیں ہوا۔

 جب متحدہ پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن کی انتخابات میں اکثریتی کامیابی کو ریاست کے مقتدرافراد اور اداروں نے تسلیم نہیں کیا تو اس گروہ نے کہا کہ یہ بنگالی ہم وطنوں کی حق تلفی ہے اور ملک نہیں بچے گا۔ سو فوجی آپریشن سے بھی ملک نہیں بچا اور دو ٹکڑے ہو گیا۔

 اس عاقبت نا اندیش گروہ نے سرکاری عتاب مول لے کر ذوالفقارعلی بھٹو کو سمجھایا کہ اپنے سیاسی مخالفین پر عرصہ حیات تنگ نہ کریں مگر وہ نہیں مانے۔ بالآخر اسی فوج کے سپہ سالارنے انہیں پھانسی پر چڑھایا جس فوج کو انہوں نے بلوچستان بھیجا تھا۔

 جب جنرل ضیاءالحق نے قوانین کو اپنے رنگ میں اسلامیانہ شروع کیا، درسی نصاب تبدیل کیا اور امریکہ کی مدد سے افغانستان میں جنگ شروع کی تو اس ”شرپسند“ گروہ نے کہا کہ پاکستان تنگ نظری، بدامنی اور بدحالی کے چُنگل میں بری طرح پھنس جائے گا۔ یہی ہوا۔ پھر یوں ہوا کہ پاکستان میں جہادی تنظیمیں بنیں اور ان تنظیموں نے مخصوص مذہبی نظریے کو ترویج دی، دیگرممالک میں متشدد کارروائیاں شروع کیں، کم علم نوجوانوں کو جنت کے خواب دکھائے اور مسجدوں کو تقسیم کیا تو اس گروہ نے انتباہ کیا کہ گھر کے چراغ سے گھر کو ہی آگ لگ جائے گی۔ دیگرممالک بھی چین سے نہیں بیٹھیں گے اور ایسی ہی کارروائیاں کریں گے۔ ایسا انتشار پھیلے گا کہ سنبھالے نہیں سنبھلے گا۔ یہی ہوا۔ جو خونِ ناحق ہمارے ملک میں بہا وہ کتنا الم ناک ہے۔ عالمی تنہائی جو ہمارا مقدر بنی، وہ اس سے سوا۔

 جب جنرل پرویزمشرف نے نوزائیدہ جمہوریت کو پالنے سے نکال کر زمین پر ڈال دیا تو اس جرات آزما اور ہمت کفر سے لبریز گروہ نے کہا کہ ایک مشمولہ اور ہمہ گیر سیاسی عمل کے بغیرایک متنوع ریاست نہیں چلائی جا سکتی، کمزور ہو جاتی ہے۔ مشرف نہیں مانے۔ اور پھر یہی ہوا۔ آج ہم ایک کمزورریاست کے شہری ہیں۔

 پچھلے عشرے میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (نواز) کی حکومتوں پر نا اہلی اور بدعنوانی کے الزام لگے تو اس گروہ نے انہیں بھی سمجھانے کی کوشش کی کہ اپنی کارکردگی پر دھیان دیں۔ جمہوری اصولوں پر خود بھی اعتبار کرنا سیکھیں، پارلیمان کی بالاستی کو سنجیدہ لیں اور سب فیصلے وہیں کرائیں۔ دونوں حکومتیں یقیناً دباؤ کا شکار رہیں مگر وہ کام بھی پورے نہ کر سکیں جو باآسانی ہو سکتے تھے۔ سو وہی ہوا۔ اعلی ٰمتوسط طبقے کا ایک حصہ اور ریاست کے عسکری اور عدالتی ادارے مل کرعمران خان کو جیسے تیسے انتخاب جتوا لائے۔ تب اس گروہ نے جتوانے والوں کو سمجھایا کہ یوں نہ کریں۔ ایمان داری کے نعرے پر بدعنوانی سے انتخاب جیتنا اچھا نہیں۔ تین صوبے پہلے ہی وفاق سے خفا رہتے ہیں اب پنجاب میں بھی بے چینی پھیلے گی۔ اس سے ریاست مزید کمزورہوگی۔ یہی ہوا۔

 ان گنت مثالیں ابھی باقی ہیں مگر آج کی خبر لیتے ہیں۔ آج یہ گروہ کہہ رہا ہے کہ ملک کو کامیابی سے چلانے، صحت مند معاشرہ تشکیل دینے، ترقی کے اہداف حاصل کرنے اور معاشی خوش حالی کے حصول کے لیے یہ آخری موقع ہے کہ آئین، قانون، جمہوری حکومت اور مساوی شہریت کے آئینی اصولوں سے انحراف نہ کیا جائے۔ بنیادی انسانی حقوق اور اظہارِرائے کی آزادی کو پامال نہ کیا جائے۔ بھارت کی مودی سرکارہمارے اندرونی انتشار اور معاشی بدحالی سے فا‏ئدہ اٹھاتے ہوئے کشمیرکی حیثیت بدل چکی ہے۔

 ہم عملاً کچھ بھی کرنے سے قاصر رہے۔ ہم اپنے ملک میں اور بیرون ملک مقیم سیاست اور تاریخ کے شعورسے ناآشنا پاکستانیوں کی تالیوں پر محظوظ ہونے کے بجائے سنجیدگی سے اپنی ناگفتہ بہ بین الاقوامی حیثیت پرنظرڈالیں۔ اندرونی طورپرعوام کا حقِّ حکمرانی تسلیم کریں، آئین کی پاسداری کریں، اداروں کے مابین توازن قائم کریں، امن اور رواداری کو فروغ دیں اور معیشت کو نئے خطوط پراستوارکریں۔ اگریہ سب نہ کیا تو جو حبس موجودہ عمران خان حکومت نے طاری کیا ہے اس میں لوگ لُو کی دعا مانگنے لگیں گے۔

  خاکم بدہن، یہ گرم ہوا کہیں باہر سے نہ چل پڑے۔ مگر یہ گروہ آج پھر کافر اور غدّارکہلایا جا رہا ہے۔ اس کی کوئی شنوائی نہیں مگر کل یہ پھرصحیح ثابت ہوجائے گا۔ سو اس بار کیوں نہ ارباب اختیار اس ”کفر پیشہ“ گروہ کی بات سن لیں۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ سب کچھ کر کے بھی بچنے کا معاملہ ”شاید“ تک آ گیا ہے۔ بقول مصطفی زیدی،

 شاید تمہیں نصیب ہو اے کشتگانِ شب

روئے افق پہ صبح کے آثار دیکھنا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حارث خلیق کی دیگر تحریریں
حارث خلیق کی دیگر تحریریں

حارث خلیق

حارث خلیق انگریزی اور اردو کے شاعر اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل ہیں

haris-khalique has 2 posts and counting.See all posts by haris-khalique