گریٹا تھون برگ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ جدید دنیا ‘پیچیدہ اور مختلف’ ہے: روسی صدر پوتن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے بدھ کے روز گریٹا تھون برگ کی اقوام متحدہ میں حالیہ تقریر کو مسترد کردیا ۔ اس تقریر میں سویڈن کی نوعمر ماحولیاتی کارکن نے آب و ہوا میں تبدیلی کا مقابلہ کرنے میں ناکامی پر عالمی رہنماؤں کی مذمت کی تھی۔

خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق صدر پوتن نے ماسکو میں ایک توانائی فورم میں کہا ، ” ہو سکتا ہے کہ آپ میری بات سن کر مایوس ہوں، لیکن میں گریٹا تھون برگ کی تقریر کے بارے میں عمومی جوش و خروش سے اتفاق نہیں کرتا۔”

پوتن نے مزید کہا ، “کسی نے گریٹا کو یہ سمجھایا ہی نہیں ہے کہ جدید دنیا پیچیدہ اور مختلف ہے۔” “افریقہ یا بیشتر ایشیائی ممالک کے لوگ بھی دولت کی اسی سطح پر جینا چاہتے ہیں جیسے سویڈن کے لوگ رہتے ہیں۔”

پوتن نے کہا کہ ماحولیاتی معاملات کے لئے گریٹا تھون برگ جیسے پرجوش بچوں کی حمایت کرنی چاہیے لیکن انہوں نے گریٹا تھون برگ کے والدین پر اس کے جذبے کا استحصال کرنے کا الزام بھی لگایا۔

پوتن نے کہا ، “جب کوئی شخص بچوں اور نو عمر نوجوانوں کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کر رہا ہو تو اس کی کھل کر مذمت کرنی چاہئے۔” “مجھے یقین ہے کہ گریٹا ایک مہربان اور انتہائی مخلص لڑکی ہے۔ لیکن بڑوں کا فرض ہے کہ نوعمر بچوں کو کچھ انتہائی مشکل حالات سے بچانے کی پوری کوشش کریں ۔

تھون برگ کی والدہ، ملینا ارن مین، ایک اوپیرا گلوکارہ ہیں۔ ان کے والد سوانٹے تھون برگ ایک اداکار ہیں۔ انہوں نے بچوں کی پرورش کے بارے میں والدین کی رہنمائی کے لئے “دل سے دیکھے مناظر” کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جو ان کی بیٹی کی ماحولیات کے بارے میں حساسیت کا احوال بیان کرتی ہے۔ “ہمارے گھر میں آگ لگ گئی ہے” کے نظرثانی شدہ عنوان کے تحت اس کتاب کا انگریزی ترجمہ  اگلے سال شائع کیا جائے گا۔

پچھلے مہینے گریٹا تھون برگ نے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی سربراہی اجلاس میں شرکاء کو ان کی بے عملی پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

“یہ سب غلط ہے ،” تھون برگ نے ایک کاغذ کے ٹکڑے سے پڑھتے ہوئے کہا۔ “مجھے یہاں نہیں ہونا چاہئے۔ مجھے سمندر کے دوسری طرف اپنے اسکول میں واپس جانا چاہئے ، پھر بھی آپ امید کے لئے ہم نوجوانوں کے پاس آتے ہیں۔ آپ کی یہ ہمت کیسے ہوئی؟”

“لوگ تکلیف میں مبتلا ہیں ،” وہ گلو گیر لہجے میں بولتی چلی گئی۔ “لوگ مر رہے ہیں۔ سارا ماحولیاتی نظام درہم برہم ہو رہا ہے۔ ہم ایک بڑے پیمانے کی تباہی کے دہانے پر ہیں ، اور آپ یہاں بیٹھ کر ابدی معاشی نمو کے اعداد و شمار بیان کرتے ہیں، تمہاری یہ باتیں پریوں کی کہانیاں ہیں۔ آپ کی یہ ہمت کیسے ہوئی؟”

امریکی صدر ٹرمپ نے، جن کی انتظامیہ نے ماحولیاتی تحفظ کو پس پشت ڈالتے ہوئے پیرس ماحولیاتی معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی ہے، ایک ٹویٹ میں تھون برگ کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا۔

“وہ بظاہر ایک بہت ہی خوش باش نوجوان لڑکی معلوم ہوتی ہے جو ایک روشن اور شاندار مستقبل کی منتظر ہے۔ اسے دیکھ کر بہت اچھا لگا!”

سولہ سالہ بچی نے صدر ٹرمپ کی ٹویٹ پڑھنے کے بعد اپنے ٹئٹر اکاؤنٹ پر اپنبا تعارف بدل دیا اور لکھا, “ایک بہت ہی خوش باش نوجوان لڑکی جو اپنے روشن اور شاندار مستقبل کی منتظر ہے۔”

تھون برگ کو ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں شعور اجاگر کرنے پر نوبل انعام کے لئے نامزد کیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •