اچھے مچھر برے مچھر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں اس وقت سیاست اور ڈینگی کی تباہ کاریاں عروج پر ہیں۔ ڈینگی سے ہلاکتیں اور مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ سیاست اور ڈینگی دونوں ہی ایسے حساس ایشوز ہیں جن سے صرف اور صرف عام لوگ ہی متاثر ہو رہے ہیں۔ حکومت کہتی ہے کہ ڈینگی وائرس پر اگلے چار سال میں قابو پا لیا جائے گا۔ اپوزیشن کی دو بڑی پارٹیاں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے بڑوں کی اسلام آباد بیٹھک میں مولانا فضل الرحمن کو ان کے آزادی مارچ کو موخر کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آزادی مارچ مشترکہ اپوزیشن کی مشاورت کے ساتھ نومبر کے آخر تک موخر کیا جائے۔

مولانا صاحب کے آزادی مارچ کو موخر کرنے کی بہت سی دوسری وجوہات کے ساتھ ایک وجہ اسلام آباد میں بڑھتا اور بے قابو ڈینگی وائرس بھی ہے۔ ن لیگ کی طرف سے مولانا صاحب کو پیغام دیا گیا ہے کہ اکتوبر میں ربیع الاول کا ماہ مقدس ہے جس کی حرمت بھی احتجاج نہ کرنے کا تقاضا کرتی ہے اس کے ساتھ نومبر کے آخر تک ڈینگی مچھر بھی نومبر تک اپنا ہلاکت خیز ڈنگ لپیٹ لے گا۔ اب مولانا فضل الرحمن اپوزیشن کے مشورے پر عمل کرتے ہیں یا نہیں اس پر بعد میں بحث کریں گے مگر ابھی ہم ڈینگی کے بے قابو مچھر پر نظر دوڑاتے ہیں۔

انسان اپنے اوپر ہونے والے انسانی یا حیوانی حملے کی پیش بندی کر کے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتا ہے لیکن ناگہانی آفات اوراچانک پھیلنے والے وبائی امراض کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوتا، اس کی واضح مثال یورپ میں تیرہویں صدی میں پھیلنے والی طاعون کی وباء ہے جس نے اندازاً 75 سے 200 ملین لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، جسے بلیک ڈیتھ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ڈینگی وائرس بھی ایک وبائی مرض کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

ڈینگی تقریبا دو صدی پرانا مرض ہے۔ ڈینگی کی ابتداء ایشیا، افریقہ اور شمالی امریکہ میں 1775 میں ہوئی۔ ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں اچانک ایک ایسی وبا پھیلی جس میں مریض کو ایک دم بخارکے ساتھ سر اور جوڑوں میں درد شروع ہو جاتا۔ 1950 میں یہ بیماری جنوب مشرقی ایشیاء کے ممالک میں ایک وبا کی صورت میں نمودار ہوئی۔ 1979 ء میں اس بیماری کی شناخت ہوئی اور اسے ڈینگی بخارکا نام دیا گیا۔ اس مرض میں مبتلا ہونے والے مریض سات سے دس دن میں ہلاک ہو نے لگتے، جس سے وہاں کے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

اس وقت کے ڈاکٹروں کی تحقیق سے پتا چلا کہ یہ بیماری ایک خاص قسم کے مچھر کے کاٹنے سے لاحق ہوتی ہے۔ برازیل میں 1981 میں 20 سال کے وقفے کے بعد ڈینگی وائرس دوبارہ سامنے آیا تھا اور 30 سال کے دوران اس وائرس کے نتیجے میں 70 لاکھ افراد متاثر ہوئے جبکہ 2009 سے 2014 تک برازیل میں ڈینگی بخار سے 32 لاکھ افراد متاثر ہوئے جن میں سے آٹھ سو کی موت واقع ہو گئی۔

ڈینگی وائرس سے پھیلنے والی بیماری کو گندی روح بھی کہا جاتا ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق 1990 کے آخر تک دنیا میں اس بیماری سے تقریباً 40 لاکھ افراد جاں بحق ہوئے۔ ڈینگی وائرس پھلانے والے مچھروں کی 38 اقسام ہیں۔ پاکستان میں ان میں سے صرف ایک قسم پائی جاتی ہے۔ دنیا کی چالیس فی صد آبادی اس بیماری میں مبتلا ہے۔ اب تک اس بیماری سے سب سے بڑا نقصان برازیل کو پہنچا ہے۔ 2002 ء میں برازیل کے جنوب میں واقع ریاست ریو ڈی جنیرومیں یہ بیماری کی صورت میں پھیل گئی اور اس بیماری کے ہاتھوں تقریباً دس لاکھ افراد لقمہ اجل بن گئے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ اس مہلک بیماری کی روک تھام کے لئے برازیل میں جامع تحقیق کی گئی۔ برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو (Rio de janeiro) میں محققین نے ڈینگی بخار کی روک تھام کے لیے مخصوص ولباکیا نامی بیکٹریا سے متاثرہ ہزاروں مچھروں کو شہر میں چھوڑا ہے۔ بیکٹریا تقریباً 60 فیصد حشرات میں پایا جاتا ہے اور یہ ایسے مچھروں کے لیے ویکسین کا کام کرتا ہے جن میں ڈینگی وائرس پایا جاتا ہے اور ان میں ڈینگی وائرس کے بڑھنے کے عمل کو روکتا ہے۔

عام فہم زبان میں ان مچھروں کو ”اچھے“ مچھر کا نام دیا گیا۔ اس نوعیت کے اقدامات پہلے ہی آسٹریلیا، ویت نام اور انڈونیشیا میں کیے جا رہے ہیں۔ محققین پرامیدتھے کہ متاثرہ علاقے مین ان کے چھوڑے ہوئے اچھے مچھر وں کے ساتھ ڈینگی یعنی برے مچھر ملیں گے اور افزائش نسل کے بعد ان مچھروں کی تعداد دوسرے مچھروں سے زیادہ ہو جائے گی اور اس سے ڈینگی بیماری کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ یوں ’اچھے‘ مچھروں کے ذریعے ڈینگی بخار پر کنٹرول کا تجربہ برازیل میں کافی حد تک کامیاب رہا۔

اگر اچھے مچھر وقت گزرنے کے ساتھ ڈینگی وائرس بھیلانے والے برے مچھروں پر غلبہ قائم کر کے لوگوں کو ہلاکتوں سے بچا سکتے ہیں توہماریبرے سیاستدانوں پر گنتی ے چند اچھے سیاستدانوں کا اثر کیوں نہیں ہوتا۔ شاید ملک میں ابتدا سے قائد اعظم کے گرد منڈلاتے ڈینگی نما سیاستدان جنہیں قائد نے اپنی جیب کے کھوٹے سکے کہا تھا ان کی تعداد شروع دن سے زیادہ ہے اسی لئے مٹھی بھر اچھے سیاستدان اپنی عزت بچاتے پھرتے ہیں۔ اسی لئے ہماری عوام سیاست کے لفظ سے ہی خائف ہیں۔

حالانکہ سیاست اچھے انداز اور مثبت سوچ کے ساتھ بھی کی جاسکتی ہے۔ انسان اشرف المخلوقات ہے اسے اپنے مثبت روئیوں سے منفی سوچوں کو مات دینے کے ہنر کو سیاست میں آزمانا ہو گا۔ مانا کہ ہمارے ملک کی موجودہ سیاسی لاٹ میں برے سیاستدانوں کی کثرت ہے لیکن ان میں آٹے میں نمک کے برابر چند اچھے اور نظریاتی سیاستدان بھی یقینا موجود ہیں۔ پاکستان میں عوام ڈینگی سے تو مر رہے ہیں جس کا علاج ممکن ہے۔ لیکن اگر سیاست کے شفاف پانی میں پلنے والے ڈینگی سے پاکستان کے مقدس ایوانوں میں گنہگار وں کے طاقتور ہونے سے معاشرے میں اچھی سوچ کا خاتمہ ہو گیا تو پاکستان میں ریاست مدینہ کا خواب صرف انتخابات میں کامیابی کا جھانسہ بن کر رہ جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •